Kalam 316

THE DEWAN

Kalam 316

کلام 316
1 of 182 · Table of Contents
خواہی شوی ز هستی موهوم خود خالص
میکش بصدق با ر مالمت ز عام و خاص

ستجرید کردہ جان بکف دست خویش نہ
سالک چنین شودزد جود چنین خالص

خامی که او بقول انا الحق کشاد لب
منصور وار برسروارش بود قصاص

عمریست پاسبانی دل کرده ام بجہد
شاید که همدمم شوی از روی اختصاص

نشنید کوس و دبدبۀ عشق با رقیب
زانرو که ریختہ شدہ ورگوش اورقاص

از گفتگوی عام چه باکیست قطب الدین
چون گشتٔہ بدولتش ازبندگان خاص
Verse 1
Persian Verse
خواہی شوی ز هستی موهوم خود خالص
میکش بصدق با ر مالمت ز عام و خاص
Urdu Translation
اگر تو اپنی موہوم (غیر حقیقی) ہستی سے نجات پانا چاہتا ہے تو سچے دل سے عام اور خاص کی ملامت کا بوجھ اٹھا۔
Difficult Words
هستی موهوم
غیر حقیقی وجود
بار ملامت
ملامت کا بوجھ
Spiritual Meaning
خواجہ صاحب یہاں روحانی بیداری کی اہمیت کو بیان کر رہے ہیں کہ حقیقی عشق کی راہ میں داخل ہونے کے لیے انسان کو اپنے غیر حقیقی اور فانی وجود سے نجات حاصل کرنی ہوگی۔ اس کے لیے سچے دل سے اپنی ذمہ داریاں قبول کرنی ہوں گی، چاہے وہ عام لوگوں کی ہوں یا خاص لوگوں کی۔
Verse 2
Persian Verse
ستجرید کردہ جان بکف دست خویش نہ
سالک چنین شودزد جود چنین خالص
Urdu Translation
تجرید (دنیا سے علیحدگی) آسان نہیں ہے کہ اپنی جان کو اپنے ہاتھ میں لے، سالک اسی طرح سخاوت کے ذریعے نجات پاتا ہے۔
Difficult Words
تجرید
دنیا سے کناره کشی
سالک
راہِ سلوک کا مسافر
جود
سخاوت
Spiritual Meaning
خواجہ صاحب نے یہاں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ راہِ سلوک کی راہ میں تجرید، یعنی دنیاوی علائق سے مکمل دوری، آسان نہیں ہے۔ سالک کو اپنی جان کو اپنے ہاتھ میں لے کر سخاوت اور محبت کے ذریعے اپنی راہ میں کامیابی حاصل کرنی چاہیے۔
Verse 3
Persian Verse
خامی که او بقول انا الحق کشاد لب
منصوروار برسروارش بود قصاص
Urdu Translation
وہ ناپختہ (کچا) شخص جو "انا الحق" کہہ کر لب کھولتا ہے، اس کا انجام منصور کی طرح ہوتا ہے کہ اس پر قصاص کیا جاتا ہے۔
Difficult Words
خامی
ناپختہ، کچا
انا الحق
"میں حق ہوں"، مشہور قول
قصاص
سزا، بدلہ
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے خبردار کیا ہے کہ بغیر معرفت اور حقیقت کے دعوے خطرناک ہو سکتے ہیں۔ جیسے حضرت منصور حلاج نے اپنی روحانی حالت میں "انا الحق" کہا تھا اور اس پر قصاص کیا گیا تھا، اسی طرح ناپختہ انسان کے لیے ایسے الفاظ نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
Verse 4
Persian Verse
عمریست پاسبانی دل کرده ام بجہد
شاید که همدمم شوی از روی اختصاص
Urdu Translation
عمر بھر میں نے دل کی حفاظت کی ہے محنت کے ساتھ، شاید کہ تو میرا خاص دوست بن جائے۔
Difficult Words
پاسبانی دل
دل کی حفاظت
روی اختصاص
خصوصی طور پر
Spiritual Meaning
خواجہ صاحب نے یہاں عشق کی راہ میں دل کی حفاظت کی اہمیت اور اپنے اخلاص کو بیان کیا ہے۔ انہوں نے محنت اور کوشش کے ساتھ دل کی حفاظت کی تاکہ وہ محبوب کی قربت اور خاص تعلق کا حق دار بن سکیں۔
Verse 5
Persian Verse
نشنید کوس دبدبۀ عشق با رقیب
زانرو که ریختہ شدہ ورگوش اورقاص
Urdu Translation
اس نے عشق کی جنگ کی آواز اپنے رقیب کے ساتھ نہ سنی، کیونکہ اس کے کانوں میں رقص کی آواز بھر دی گئی ہے۔
Difficult Words
کوس دبدبۀ عشق
عشق کی جنگ کی آواز
رقیب
دشمن یا حریف
رقاص
رقص کرنے والا
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے عشق کی مستی اور اس کی کیفیت کا ذکر کیا ہے کہ سچا عاشق عشق کی مستی میں اس قدر محو ہوتا ہے کہ اسے رقیب کی باتیں سنائی نہیں دیتیں۔ یہ محبت کی بے خودی اور دنیاوی باتوں سے بے نیازی کی علامت ہے۔
Verse 6
Persian Verse
از گفتگوی عام چه باکیست قطب الدین
چون گشتٔہ بدولتش ازبندگان خاص
Urdu Translation
قطب الدین کو عام لوگوں کی باتوں سے کیا خوف، جب کہ وہ دولتِ حقیقی کے خاص بندوں میں شامل ہو چکا ہے۔
Difficult Words
گفتگوی عام
عام باتیں
بندگان خاص
خاص بندے، منتخب افراد
Spiritual Meaning
خواجہ صاحب نے یہاں قطب الدین کی روحانی بلندی اور دولتِ حقیقی کی بات کی ہے کہ جب ایک عاشق خدا کی محبت اور قربت کی دولت میں شامل ہو جاتا ہے، تو عام لوگوں کی باتوں سے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ عشق کی بلندی اور روحانی استغنا کی عکاسی کرتا ہے۔
اس کلام کا مرکزی خیال عشق کی سچی راہ، خودی کی نفی، اور دل کی حفاظت ہے۔ خواجہ صاحب نے دنیاوی علائق سے دوری، عشق کی حقیقت، اور اس کی راہ میں ثابت قدمی کی اہمیت کو بیان کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ بغیر معرفت کے دعوے نقصان دہ ہو سکتے ہیں اور سچے عاشق کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ دنیاوی باتوں سے بے پروا ہوتا ہے اور خدا کی محبت میں غرق ہوتا ہے۔
Quranic Reference 1
قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا
یقیناً وہ کامیاب ہوا جس نے اپنے نفس کو پاک کیا۔
سورۃ الشمس، آیت 9 — قرآن 91:9
Hadith Reference 1
أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً، إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ
خبردار! جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے، اگر وہ درست ہو جائے تو سارا جسم درست ہو جاتا ہے، اور اگر وہ خراب ہو جائے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے۔ خبردار! وہ دل ہے۔
صحیح بخاری، حدیث نمبر 52