Kalam 317

THE DEWAN

Kalam 317

کلام 317
2 of 182 · Table of Contents
هرکه از هستی خود گشت درین راه خالص
دربکف آورد ازبحریقین چون غواص

بحر جود و کرمش موج زنانست دائم
قطره وش غرقه اوگرد و شو از خویش خالص

دم مزن هرچه ز اسرار خدا دریابی
درکنی فاش تو ترش سردارست قصاص

در عمل گرنتوانی که کنی ای سالک
برد و حالت دل گوبیکے خاص الخاص

هیچکس تاب نیا درد فیوضانش را
زان سبب پیرمریدند درین رہ وقاص

نتواند بہ سر کوی حقیقت برود
هرکه بار ہرواین راه ندارد اخلاص

قطب دین گر هوس درمعانی داری
پای از سر کن و در بحر طلب شو غواص
Verse 1
Persian Verse
هرکه از هستی خود گشت درین راه خالص
دربکف آورد ازبحریقین چون غواص
Urdu Translation
جو کوئی اپنی ہستی سے فنا ہو جاتا ہے اور اخلاص کی راہ اختیار کرتا ہے، وہ یقین کے سمندر سے موتی پانے والوں کی طرح موتی اپنے ہاتھ میں لے آتا ہے۔
Difficult Words
هستی
وجود، نفس
بحر یقین
یقین کا سمندر
در بکف آورد
موتی اپنے ہاتھ میں لینا، یقین کا گوہر حاصل کرنا
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ جو شخص اپنی ہستی کو فنا کر دیتا ہے اور اخلاص کے ساتھ اللہ کی راہ میں قدم رکھتا ہے، وہ یقین کی دولت پا لیتا ہے۔ یہ فنا فی اللہ کا مقام ہے، جہاں سالک کو معرفت اور یقین کا گوہر عطا ہوتا ہے۔
Verse 2
Persian Verse
بحر جود و کرمش موج زنانست دائم
قطره وش غرقه اوگرد و شو از خویش خالص
Urdu Translation
اللہ کی سخاوت اور کرم کی موجیں ہمیشہ جاری ہیں، جیسے قطرے سمندر میں غرق ہو جاتے ہیں، اسی طرح اپنے آپ کو فنا کر کے اس میں غرق ہو جاؤ۔
Difficult Words
سحر جود و کرمش
اللہ کی سخاوت اور کرم
قطره وش
قطرے کی مانند
غرقه
ڈوبنا، فنا ہونا
Spiritual Meaning
خواجہ صاحب کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کی سخاوت اور رحمت لامحدود ہے، اور جو انسان اپنی ذات کو اس رحمت میں فنا کر دیتا ہے، وہ اللہ کی محبت میں ڈوب جاتا ہے۔ سالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی خودی کو قطرے کی مانند ختم کر کے اللہ کی بے پایاں ذات میں مدغم ہو جائے۔ اس بات کی تائید حدیث مبارکہ سے بھی ہوتی ہے۔
Verse 3
Persian Verse
دم مزن هرچه ز اسرار خدا دریابی
درکنی فاش تو ترش سردارست قصاص
Urdu Translation
جو بھی تمہیں اللہ کے اسرار میں سے کچھ معلوم ہو، اس کا ذکر مت کرو، کیونکہ اگر تم اسے ظاہر کرو گے، تو اس کا بدلہ تمہیں نقصان کی صورت میں ملے گا۔
Difficult Words
اسرار خدا
اللہ کے راز
فاش
ظاہر کرنا
قصاص
بدلہ
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ اللہ کے راز کو پوشیدہ رکھنا ضروری ہے، کیونکہ روحانی معاملات میں ہر چیز ہر کسی کے لیے نہیں ہوتی۔ جو اسرار اللہ کے خاص بندوں کو عطا کیے جاتے ہیں، انہیں عام لوگوں کے سامنے ظاہر کرنے سے نقصان ہو سکتا ہے۔
Verse 4
Persian Verse
در عمل گرنتوانی که کنی ای سالک
برد و حالت دل گوبیکے خاص الخاص
Urdu Translation
اے سالک! اگر تم عمل کے قابل نہیں ہو، تو دل کی حالت کو کسی خاص الخاص بندے کی مدد سے درست کرو۔
Difficult Words
سالک
اللہ کا طالب
خاص الخاص
اللہ کے خاص بندے
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ اگر سالک عمل میں کمزور ہے تو اسے اپنے دل کی حالت کو بہتر بنانے کے لیے اللہ کے کسی خاص بندے کی رہنمائی لینی چاہیے۔ دل کی اصلاح کے بغیر روحانی ترقی ممکن نہیں ہے، اور اللہ کے خاص بندے اس راستے میں سالک کی مدد کرتے ہیں۔
Verse 5
Persian Verse
هیچکس تاب نیا درد فیوضانش را
زان سبب پیرمریدند درین رہ وقاص
Urdu Translation
کوئی بھی اللہ کے فیض کی شدت کو برداشت نہیں کر سکتا، اسی لیے پیر اور مرید اللہ کی راہ میں ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں۔
Difficult Words
فیوض
اللہ کے فیض، رحمت
پیر مرید
روحانی رہنما اور پیروکار
Spiritual Meaning
خواجہ صاحب کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا فیض بہت گہرا اور طاقتور ہوتا ہے، جسے برداشت کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ اسی لیے روحانی راہ میں پیر اور مرید ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں۔ پیر کی رہنمائی سالک کو اللہ کے فیض کی طاقت کو برداشت کرنے میں مدد دیتی ہے۔
Verse 6
Persian Verse
نتواند بہ سر کوی حقیقت برود
هرکه بار ہرواین راه ندارد اخالص
Urdu Translation
جو شخص اخلاص کے بغیر ہے، وہ حقیقت کے کوچے میں نہیں جا سکتا۔
Difficult Words
سر کوی حقیقت
حقیقت کا کوچہ، سچائی کا مقام
اخلاص
سچائی اور خلوص
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے اخلاص کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ جو شخص سچا اخلاص نہیں رکھتا، وہ اللہ کی حقیقت اور معرفت تک نہیں پہنچ سکتا۔ سالک کو چاہیے کہ وہ اخلاص کے ساتھ اللہ کی راہ پر چلے تاکہ حقیقت کی منزل تک پہنچ سکے۔
Verse 7
Persian Verse
قطب دین گر هوس درمعانی داری
پای از سر کن و در بحر طلب شو غواص
Urdu Translation
اے قطب الدین! اگر تم معانی کی حقیقت سمجھنا چاہتے ہو، تو اپنی عقل کو فنا کر دو اور اللہ کے خاص بندوں کی تلاش میں سمندر میں غوطہ زن ہو جاؤ۔
Difficult Words
معانی داری
حقیقت کو سمجھنا
پایہ از سر کن
اپنی عقل کو فنا کرنا
Spiritual Meaning
خواجہ قطب الدین کو نصیحت ہے کہ اگر وہ اللہ کی معرفت اور حقیقت کو سمجھنا چاہتا ہے، تو اسے اپنی عقل کو فنا کر کے اللہ کے خاص بندوں کی رہنمائی میں اس سمندر میں غوطہ زن ہونا چاہیے جو معرفت کا سمندر ہے۔
اس فارسی شعر کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ اعمال کی عاجزی یا کمزوری کی صورت میں سالک کو اپنے دل کی حالت اللہ کے حضور پیش کرنی چاہیے، کیونکہ دل کی سچی کیفیت اللہ کی بارگاہ میں مقبول ہوتی ہے۔
Quranic Reference 1
ہاں، جو شخص اپنا رخ اللہ کی طرف کر دے اور وہ نیکوکار ہو تو اس کے لئے اس کا اجر اس کے رب کے پاس ہے، نہ انہیں کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
سورۃ البقرہ، 2:112
Quranic Reference 2
اے ایمان والو! ایسی باتیں نہ پوچھو جو تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار گزریں، اور اگر تم قرآن نازل ہوتے وقت ان کے بارے میں پوچھو گے تو تم پر ظاہر کر دی جائیں گی، اللہ نے ان سے درگزر کیا ہے، اور اللہ بڑا معاف کرنے والا، بردبار ہے۔
سورۃ المائدہ، 5:101
Quranic Reference 3
اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو۔
سورۃ التوبہ، 9:119
Quranic Reference 4
اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہوکر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔
سورۃ البینہ، 98:5
Quranic Reference 5
اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں سوال کریں تو (کہہ دیں) کہ میں قریب ہوں، پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔
سورۃ البقرہ، آیت 186 — قرآن 2:186
Hadith Reference 1
اللہ فرماتا ہے کہ میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ میں اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہوں۔ پھر میں اس کا وہ کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، وہ آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، وہ ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اور وہ پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے...
صحیح بخاری، 6502
Hadith Reference 2
جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا، اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔
Hadith Reference 3
اللہ فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں، اور میں اس کے ساتھ ہوں جب وہ مجھے یاد کرتا ہے۔
صحیح بخاری، حدیث نمبر 7405