Kalam 326

THE DEWAN

Kalam 326

کلام 326
11 of 182 · Table of Contents
گر تو مرد عاقلی شوخاک راہ اہل عشق
باش از ٓاشوب دوران در پناہ اہل عشق

هر دو عالم چون طفیل عاشقان کوی اوست
پس برو می باش از جان نیکخواه اہل عشق

کاروان ساالر این رہ عاشقان اند بیگمان
مس قلبت زر شود از یک نگاه اهل عشق

گر بظاہر چون گدایا نند درمعنی شه اند
خوش بود حال کسی کو شد سپاِه اہل عشق

ٓاہ عاشق بگذرد وقت سحرازنہ فلک
باش دائم پرحذرازتیرٓاہ اہل عشق

سرفرود ٓارند عشاقش بملک کائنات
درفرو نار ند باشدٓان گناہ اہل عشق

دین و دنیا خود ندارد پیش ایثان حرمتی
قطب دین می باش ازجان در پناه اهل عشق
Verse 1
Persian Verse
گر تو مرد عاقلی شو خاک راہ اہل عشق
باش از ٓاشوب دوران در پناہ اہل عشق
Urdu Translation
اگر تو عقلمند ہے تو اہلِ عشق کے راستے کی خاک بن جا، اور زمانے کی ہلچل سے اہلِ عشق کی پناہ میں رہ۔
Difficult Words
مرد عاقلی
عقلمند آدمی
خاک راہ
راستے کی خاک
آشوب دوران
زمانے کی ہلچل، فتنہ
Spiritual Meaning
خواجہ صاحب نے یہاں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ اگر کوئی عقلمند بننا چاہتا ہے تو اسے اہلِ عشق کے راستے کی خاک بننا چاہیے، یعنی عاجزی اور فروتنی اختیار کرنی چاہیے۔ اہلِ عشق کی پناہ انسان کو دنیاوی فتنوں اور مشکلات سے محفوظ رکھتی ہے۔
Verse 2
Persian Verse
هر دو عالم چون طفیل عاشقان کوی اوست
پس برو می باش از جان نیکخواه اهل عشق
Urdu Translation
یہ دونوں جہان اہلِ عشق کے کوچے کے طفیل ہیں، اس لیے تو بھی اپنی جان سے اہلِ عشق کا خیرخواہ بن جا۔
Difficult Words
طفیل
سائے، اثر
نیکخواه
خیرخواہ
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے بیان کیا کہ دنیا اور آخرت کی حقیقت اہلِ عشق کے کوچے کے طفیل ہے۔ عاشق کی راہ انسان کو دونوں جہانوں کی کامیابی دلاتی ہے، اس لیے انسان کو بھی اپنی جان سے اہلِ عشق کا خیرخواہ بننا چاہیے۔
Verse 3
Persian Verse
کاروان ساالر این رہ عاشقان اند بیگمان
مس قلبت زر شود از یک نگاه اهل عشق
Urdu Translation
بے شک، اس راہ کے کاروان سالار عاشق ہیں، اور اہلِ عشق کی ایک نظر سے تیرے دل کا تانبہ سونا بن جائے گا۔
Difficult Words
کاروان ساالر
قافلے کا رہنما
مس قلبت زر شود
دل کا تانبہ سونا بن جائے
Spiritual Meaning
خواجہ صاحب نے یہاں عشق کی عظمت کو بیان کیا ہے کہ اس راہ کے رہنما عاشق ہیں، اور ان کی ایک نظر کی تاثیر سے انسان کے دل کی پستی سونے کی طرح قیمتی ہو جاتی ہے۔ یہ عشق کی پاکیزگی اور دل کی تبدیلی کی علامت ہے۔
Verse 4
Persian Verse
گر بظاہر چون گدایا نند در معنی شه اند
خوش بود حال کسی کو شد سپاِه اهل عشق
Urdu Translation
اگرچہ ظاہری طور پر وہ گدا نظر آتے ہیں، مگر حقیقت میں وہ بادشاہ ہیں۔ خوش قسمت ہے وہ شخص جو اہلِ عشق کی فوج میں شامل ہو جائے۔
Difficult Words
گدا
فقیر
سپاِه اهل عشق
اہلِ عشق کی فوج
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے اہلِ عشق کی ظاہری حالت اور باطنی حقیقت کو بیان کیا ہے کہ ظاہری طور پر وہ فقیر نظر آ سکتے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ روحانی بادشاہ ہیں۔ وہ شخص واقعی خوش قسمت ہے جو ان کی صحبت اور ان کی جماعت میں شامل ہو جائے۔
Verse 5
Persian Verse
ٓاہ عاشق بگذرد وقت سحرازنہ فلک
باش دائم پرحذرازتیرٓاه اهل عشق
Urdu Translation
عاشق کی آہ سحر کے وقت فلک کو پار کر جاتی ہے، اس لیے تو ہمیشہ اہلِ عشق کی آہ سے بچ کر رہ۔
Difficult Words
آه عاشق
عاشق کی فریاد
پرحذر
محتاط
Spiritual Meaning
خواجہ صاحب نے یہاں عاشق کی آہ کی طاقت کو بیان کیا ہے کہ اس کی فریاد سحر کے وقت فلک تک پہنچ جاتی ہے اور اثر رکھتی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اہلِ عشق کی آہ سے ہمیشہ محتاط رہے، کیونکہ ان کی فریاد میں اثر اور قوت ہوتی ہے۔
Verse 6
Persian Verse
سرفرود ٓارند عشاقش بملک کائنات
درفرو نار ند باشدٓان گناہ اهل عشق
Urdu Translation
کائنات کی بادشاہی بھی اس کے عشاق کے سامنے سر جھکا لیتی ہے، اس میں داخل ہونا اہلِ عشق کا گناہ نہیں ہوتا۔
Difficult Words
سرفرود آرد
سر جھکا دینا
درفرو نار
داخل ہونا
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے عشق کی عظمت کو بیان کیا ہے کہ کائنات کی عظیم ترین قوتیں بھی عاشق کی محبت کے سامنے سر جھکا دیتی ہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ عشق کی راہ میں جو قربانی دی جاتی ہے، وہ کسی گناہ سے کم نہیں ہوتی بلکہ عظیم قدر کی حامل ہوتی ہے۔
Verse 7
Persian Verse
دین و دنیا خود ندارد پیش ایثان حرمتی
قطب دین می باش از جان در پناه اهل عشق
Urdu Translation
دین اور دنیا کی کوئی اہمیت ایثار کے سامنے نہیں ہے، اے قطب الدین! اپنی جان سے اہلِ عشق کی پناہ میں رہ۔
Difficult Words
ایثان
قربانی
پناه اهل عشق
اہلِ عشق کی پناہ
Spiritual Meaning
خواجہ صاحب نے یہاں دین و دنیا کی عارضی حیثیت کو بیان کرتے ہوئے ایثار کی عظمت کو واضح کیا ہے۔ انہوں نے قطب الدین کو نصیحت کی کہ اپنی جان سے اہلِ عشق کی پناہ میں رہ کر زندگی گزارو، کیونکہ محبت اور ایثار کی راہ میں ہی حقیقی کامیابی ہے۔
یہ فارسی شعر اور مذکورہ آیات و احادیث اس بات پر زور دیتے ہیں کہ عاشق کی آہ، خصوصاً سحر کے وقت، بہت مؤثر ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے حضور قبولیت کا درجہ رکھتی ہے۔ اس لیے عاشقوں کی آہوں سے محتاط رہنا چاہیے، کیونکہ ان کی دعائیں اور آہیں اللہ تعالیٰ کے ہاں خاص مقام رکھتی ہیں۔ اس کلام کا مرکزی خیال عشق کی عظمت، ایثار، اور اہلِ عشق کی راہ کی بلندی ہے۔ خواجہ صاحب نے عشق کی راہ میں عاجزی، محبت، اور قربانی کی اہمیت کو بیان کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اہلِ عشق کی صحبت اور ان کی راہ میں پناہ اختیار کرنا انسان کو دنیاوی مشکلات سے محفوظ رکھتا ہے اور روحانی بلندی کی طرف لے جاتا ہے۔
Quranic Reference 1
اور صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو، اور بے شک یہ (نماز) بھاری ہے مگر ان پر نہیں جو عاجزی کرنے والے ہیں۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ مؤمنین کو صبر اور نماز کے ذریعے مدد حاصل کرنے کی تلقین کرتا ہے، جو کہ سحر کے وقت کی عبادات میں شامل ہے۔
سورۃ البقرہ، آیت 45
Hadith Reference 1
ہمارا رب تبارک و تعالیٰ ہر رات آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے جب آخری تہائی رات باقی رہتی ہے، اور فرماتا ہے: کون ہے جو مجھے پکارے کہ میں اس کی دعا قبول کروں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے کہ میں اسے عطا کروں؟ کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے کہ میں اسے معاف کروں؟

اس حدیث میں سحر کے وقت کی دعا اور آہ کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔
صحیح بخاری، حدیث نمبر 1145