Kalam 327

THE DEWAN

Kalam 327

کلام 327
12 of 182 · Table of Contents
گشتہ ام زار ونزار از درد پنہان فراق
کس مبادا همچو من گریان و حیران فراق

از غم و درد جدائی همچو مو بگداختم
زیر بار محنت و درد فراوان فراق

یادٓان روزی کہ بادلدار بودم ہمنشین
فارغ از درد غم و اندوه هجران فراق

هرکسی در جستجوی یار خود هر جا روان
من به کنج ناتوانی پابد امان فراق

قطب دین از دل تمنای وصالش چون کنم
جان من باشد فراق اومنم جان فراق
Verse 1
Persian Verse
گشته ام زار ونزار از درد پنہان فراق
کس مبادا همچو من گریان و حیران فراق
Urdu Translation
میں فراق کے چھپے ہوئے درد سے زار و ناتواں ہو گیا ہوں، کوئی بھی میری طرح فراق میں گریان اور حیران نہ ہو۔
Difficult Words
زار و نزار
بہت زیادہ کمزور
فراق
جدائی
حیران
حیران و پریشان
Spiritual Meaning
خواجہ صاحب نے یہاں فراق کی شدت اور اس کی تکلیف کو بیان کیا ہے کہ جدائی کا درد انسان کو ناتواں اور بے حال کر دیتا ہے۔ وہ دعا کرتے ہیں کہ کوئی بھی ان کی طرح فراق کی تکلیف سے نہ گزرے۔ یہ فارسی شعر محبت کی سچی کیفیت اور جدائی کی اذیت کی عکاسی کرتا ہے۔
Verse 2
Persian Verse
از غم و درد جدائی همچو مو بگداختم
زیر بار محنت و درد فراوان فراق
Urdu Translation
میں جدائی کے غم اور درد سے بال کی طرح پگھل گیا ہوں، فراق کی محنت اور درد کے بوجھ تلے۔
Difficult Words
بگداختم
پگھل گیا ہوں
محنت و درد فراوان
بہت زیادہ مشقت اور درد
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے جدائی کی شدت اور اس کی اذیت کو بیان کیا ہے کہ محبت کی راہ میں فراق کا درد انسان کو بال کی طرح پگھلا دیتا ہے۔ یہ عاشق کی اس کیفیت کی عکاسی کرتا ہے جہاں وہ جدائی کی شدت سے بے حال ہو جاتا ہے۔
Verse 3
Persian Verse
یادٓان روزی کہ بادلدار بودم ہمنشین
فارغ از درد غم و اندوه هجران فراق
Urdu Translation
یاد ہے وہ دن جب میں اپنے دلدار کے ساتھ ہمنشین تھا، اور جدائی کی غم اور اندوہ سے آزاد تھا۔
Difficult Words
ہمنشین
ساتھ بیٹھنے والا
اندوه
غم و الم
Spiritual Meaning
خواجہ صاحب نے محبوب کی قربت کے دنوں کو یاد کیا ہے جب وہ ہر قسم کے غم اور جدائی کی تکلیف سے آزاد تھے۔ یہ فارسی شعر محبوب کی قربت کی خوشی اور فراق کی اذیت کے تضاد کو بیان کرتا ہے۔
Verse 4
Persian Verse
هرکسی در جستجوی یار خود هر جا روان
من به کنج ناتوانی پابد امان فراق
Urdu Translation
ہر کوئی اپنی محبت کی تلاش میں ہر جگہ جا رہا ہے، جبکہ میں فراق کی ناتوانی کے کونے میں پناہ لیے ہوئے ہوں۔
Difficult Words
کنج ناتوانی
بے بسی کا کونا
پابد امان
پناہ لیے ہوئے
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے اپنی بے بسی کو بیان کیا ہے کہ دیگر لوگ اپنے محبوب کی تلاش میں سرگرم ہیں، جبکہ وہ فراق کی شدت کی وجہ سے ناتوانی کی حالت میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ یہ فارسی شعر عشق کی بے بسی اور فراق کی اذیت کو ظاہر کرتا ہے۔
Verse 5
Persian Verse
قطب دین از دل تمنای وصالش چون کنم
جان من باشد فراق اومنم جان فراق
Urdu Translation
قطب الدین! میں دل سے اس کے وصال کی تمنا کیسے کروں؟ میری جان ہی فراق ہے اور میں خود فراق کی جان ہوں۔
Difficult Words
تمنای وصال
وصال کی تمنا
جان فراق
فراق کی روح
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے فراق کی شدت کی انتہا کو بیان کیا ہے کہ وہ اس حالت میں ہیں کہ ان کی جان ہی فراق بن چکی ہے۔ وہ خود کو فراق کی روح تصور کرتے ہیں اور وصال کی تمنا کرنے سے بھی قاصر ہیں۔ یہ فارسی شعر فراق کی حالت کی گہرائی اور عاشق کی بے بسی کو ظاہر کرتا ہے۔
اس کلام کا مرکزی خیال محبت کی شدت، فراق کی اذیت، اور عاشق کی بے بسی ہے۔ خواجہ صاحب نے جدائی کی شدت اور اس کی اذیت کو بیان کرتے ہوئے اس کی تکلیف اور عاشق کی بے چارگی کا ذکر کیا ہے۔ محبوب کی قربت کی یاد اور فراق کی اذیت کے تضاد نے اس کلام کو دردناک اور روحانیت سے بھرپور بنا دیا ہے۔

اس کلام میں خواجہ صاحب نے عشقِ الٰہی میں فراق کی اذیت، غم، اور وصال کی تڑپ کو بیان کیا ہے۔ فراق عاشق کو اندر سے ختم کر دیتا ہے، لیکن وصال کی آرزو دل میں ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔
Quranic Reference 1
اے اطمینان پا جانے والے نفس! تو اپنے رب کی طرف اس حال میں لوٹ آ کہ تو اس کی رضا کا طالب بھی ہو اور اس کی رضا کا مطلوب بھی، گویا اس کی رضا تیری مطلوب ہو اور تیری رضا اس کی مطلوب۔
سورۃ الفجر، آیات 27-30