Kalam 334

THE DEWAN

Kalam 334

کلام 334
19 of 182 · Table of Contents
ای خیالت انیس خلوت تنگ
دل بسوی تو میکند ٓاہنگ

روی خوب ترا کسے بیند
کوز ٓائینہ اش زداید زنگ

با غمت نرو عشق می بازم
دارم از شادی دو عالم ننگ

نقش غیر از ورق تراشیدم
تابدارد درو خیال تو رنگ

بر سر کوی تو رقیب حسود
با من دلفگار وارد جنگ

برنیاید ز دست اوکارے
سر خود را ہمی زند بر سنگ

هرکه او کبر و کہنہ مے درزد
ہمست موصوف با صفات پلنگ

ناوک ٓاہ من بسینۂ او
میرود راست همچو تیر خدنگ

هرکه او طالب وصال تو نیست
مے گریزم از وبصد فرسنگ

درفراق وصال تو شب و روز
قطب دین ناله میکند چون چنگ
Verse 1
Persian Verse
ای خیالت انیس خلوت تنگ
دل بسوی تو میکند آہنگ
Urdu Translation
اے میرے محبوب! تیرا خیال میری تنہائی کا ساتھی ہے، اور میرا دل تیری طرف متوجہ ہوتا ہے۔
Difficult Words
انیس
ساتھی، ہمدرد، ہمراز
خلوت
تنہائی، اکیلا پن
آہنگ
رخ کرنا، رجحان، میل
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے تنہائی میں محبوب کے خیال کو ایک ساتھی کے طور پر پیش کیا ہے۔ عاشق جب تنہا ہوتا ہے، تو اس کا دل ہمیشہ محبوب کی طرف رجوع کرتا ہے۔ یہ عشق کی وہ کیفیت ہے جہاں دنیا سے کٹ کر دل صرف محبوب میں مشغول رہتا ہے۔
Verse 2
Persian Verse
روی خوب ترا کسے بیند
کوز آئینہ اش زداید زنگ
Urdu Translation
تیرا خوبصورت چہرہ وہی دیکھ سکتا ہے جو اپنے دل کے آئینے سے زنگ کو صاف کرے۔
Difficult Words
روی
چہرہ یا حسن
کوز
وہ جو
زداید
صاف کرنا، زائل کرنا
زنگ
زنگ یا میل، علامتی طور پر دل کی کثافت یا خرابیاں
Spiritual Meaning
خواجہ صاحب نے یہاں دل کو آئینے سے تشبیہ دی ہے۔ دل کو صاف کرنے کا مطلب ہے کہ انسان کو اپنی خواہشات اور دنیاوی آلائشوں سے پاک ہونا چاہیے تاکہ وہ اللہ کے نور کو دیکھ سکے۔
Verse 3
Persian Verse
با غمت نرو عشق می بازم
وارم از شادی دو عالم ننگ
Urdu Translation
میں تیرے غم کو چھوڑ کر عشق نہیں کھیل سکتا، اور مجھے دونوں جہانوں کی خوشیوں سے ننگ محسوس ہوتا ہے۔
Difficult Words
باغمت
تمہارے ساتھ یا تمہارے لیے
نرو
نہیں جاتا، ترک کرنا یا چھوڑنا
عشق می بازم
عشق کا کھیل کھیلتا ہوں، یعنی محبت کرتا ہوں
وارم
شرمندہ یا پشیمان ہونا
از شادی
خوشی سے
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے عشقِ الٰہی کی گہرائی اور استقامت کو بیان کیا ہے کہ عاشق اپنے محبوب کے غم میں ہی سکون پاتا ہے، اور دنیا و آخرت کی خوشیاں اس کے لیے بے معنی ہو جاتی ہیں۔
Verse 4
Persian Verse
نقش غیراز ورق تراشیدم
تابدارد درو خیال تو رنگ
Urdu Translation
میں نے دل کے کاغذ پر کسی اور کا نقش تراشا ہی نہیں، تاکہ اس پر صرف تیرا خیال قائم رہے۔
Difficult Words
ورق تراشیدم
کاغذ پر نقش بنایا، یا نقش کندہ کیا
تاب دارد
چمک یا رنگت
Spiritual Meaning
خواجہ صاحب دل کو ایک کاغذ کی طرح پیش کر رہے ہیں جس پر صرف محبوب کا نقش ہونا چاہیے۔ اس فارسی شعر میں اخلاص اور وفاداری کو بیان کیا گیا ہے کہ دل میں غیر کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔
Verse 5
Persian Verse
بر سر کوی تو رقیب حسود
با من دلفگار وارد جنگ
Urdu Translation
تیری گلی میں حسد کرنے والا رقیب میرے دل کے ساتھ جنگ کر رہا ہے۔
Difficult Words
رقیب حسود
رقیب، جو عاشق کا حریف ہو؛ حسود، جس کو حسد ہو
دلفگار
دل شکستہ یا غمزدہ
وارد جنگ
جنگ میں داخل ہونا یا لڑائی میں آنا
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے حسد کرنے والے دشمنوں کا ذکر کیا ہے، جو عاشق کو محبوب کے قریب دیکھ کر حسد کرتے ہیں۔ عاشق کو ہمیشہ مخالفت اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن وہ ثابت قدم رہتا ہے۔
Verse 6
Persian Verse
برنیاید ز دست اوکارے
سر خودراہمی زند برسنگ
Urdu Translation
اس کے ہاتھ سے کچھ کام نہیں نکلتا، اور وہ اپنا سر پتھر پر مارتا رہتا ہے۔
Difficult Words
برنیاید
نہیں نکلتا
ز دست او
اس کے ہاتھ سے
ہمیزند
مارنا
بر سنگ
پتھر پر
Spiritual Meaning
یہ فارسی شعر حسد کرنے والے کی ناکامی اور بے بسی کو بیان کرتا ہے۔ عاشق کے راستے میں رکاوٹیں ڈالنے والا خود ہی اپنی ناکامی سے دوچار ہو جاتا ہے۔
Verse 7
Persian Verse
هرکه اوکبر و کن به مے درزد
ہمست موصوف با صفات پلنگ
Urdu Translation
جو تکبر اور غرور میں مبتلا ہو، وہ اپنے عمل میں ایک چیتے جیسا ہو جاتا ہے۔
Difficult Words
هرکه
جو بھی
کبر
غرور، تکبر
به مے درزد
مے یعنی شراب میں مبتلا ہونا یا ڈوبنا
پلنگ
چیتا یا تیندوا، ایک درندہ جانور
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب تکبر اور غرور کے بارے میں تنبیہ کر رہے ہیں۔ جو شخص اپنے تکبر میں مبتلا ہوتا ہے، وہ اپنی روحانی حالت کو خراب کر لیتا ہے۔
Verse 8
Persian Verse
ناوک آہ من بسینہ او
میرود راست ہمچو تیر خدنگ
Urdu Translation
میری آہ کا تیر اس کے سینے میں ایسے جاتا ہے جیسے تیر حدف پر لگتا ہے۔
Difficult Words
ناوک
تیر یا چھوٹا تیر
میرود
جاتا ہے
راست
سیدھا یا براہِ راست
تیر خدنگ
خدنگ کی مضبوط لکڑی سے بنا ہوا تیر
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے عاشق کی آہوں کی طاقت کو بیان کیا ہے۔ عاشق کی سچی آہیں دشمنوں کو نقصان پہنچاتی ہیں، کیونکہ یہ آہیں اللہ کی بارگاہ میں قبول ہوتی ہیں۔
Verse 9
Persian Verse
هرکه او طالب وصال تو نیست
مے گریزم ازو بصد فرسنگ
Urdu Translation
جو تیری وصال کا طالب نہیں ہے، میں اس سے سینکڑوں فرسنگ دور بھاگتا ہوں۔
Difficult Words
وصال
ملاقات یا ملنا، عام طور پر محبوب سے
گریزم
میں بھاگتا ہوں یا دور جاتا ہوں
بصد
سو
فرسنگ
قدیم پیمائش؛ یہاں فاصلے کے معنی میں
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے وصالِ الٰہی کے طالب ہونے کی اہمیت کو بیان کیا ہے۔ جو شخص اللہ کے وصال کی تلاش میں نہیں ہے، عاشق اس سے دوری اختیار کرتا ہے۔
Verse 10
Persian Verse
درفراق وصال تو شب و روز
قطب دین ناله میکند چون چنگ
Urdu Translation
تیری وصال کے فراق میں، اے قطب الدین! دن رات چنگ کی طرح نالہ کرتا ہوں۔
Difficult Words
فراق
جدائی یا بچھڑنا
نالہ میکند
آہ و زاری یا درد بھری آواز کرتا ہے
چون چنگ
چنگ کی طرح؛ چنگ ایک قدیم تاروں والا موسیقی کا آلہ ہے جس کی آواز غمگین اور درد بھری ہوتی ہے
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے فراق کی حالت میں اپنی کیفیت کو بیان کیا ہے کہ وہ دن رات محبوب کے وصال کے فراق میں نالہ و فریاد کرتے ہیں۔
اس کلام میں خواجہ صاحب نے عشقِ الٰہی کی شدت، فراق کی کیفیت، اور اللہ کی محبت میں دنیا سے بے نیاز ہونے کی تعلیمات کو بیان کیا ہے۔ عاشق کو چاہیے کہ وہ دنیاوی آلائشوں سے بچ کر اپنے محبوب کی طرف متوجہ ہو۔
Quranic Reference 1
بیشک جو لوگ ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے اور دنیوی زندگی سے خوش ہیں اور اسی سے مطمئن ہوگئے ہیں اور جو ہماری نشانیوں سے غافل ہیں۔

اس آیت میں اللہ نے ان لوگوں کا ذکر کیا ہے جو آخرت اور اللہ کی ملاقات سے غافل ہیں اور دنیا کی زندگی پر مطمئن ہو جاتے ہیں۔
سورۃ یونس، 10:7
Hadith Reference 1
دنیا ملعون ہے اور اس میں جو کچھ ہے، وہ بھی ملعون ہے، سوائے اللہ کے ذکر اور اس سے محبت کے۔

یہ تعلیمات ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ جو لوگ اللہ کے ذکر اور محبت سے دور ہیں، وہ درحقیقت دنیا کی عارضی زندگی کے پیچھے ہیں، جو آخرت میں کامیابی نہیں دے سکتی۔
سنن ابن ماجہ