Kalam 351

THE DEWAN

Kalam 351

کلام 351
36 of 182 · Table of Contents
ٓان سرو خوشخرام کہ ازمن ربود دل
درباغ سرو می شود از قامتش خجل

هرجا که جلوه میکند از ناز حسن خویش
صبرو قرار می برداز جمله اهل دل

در راه دوست مرگ خودت اختیارکن
هر چیز غیر دوست بود جملہ رابهل

چون کس بہ بندہ خویش نرفتست سوے یار
در راه یار بند خود از یک دگر گسل

بی خویش باش درره دلدار قطب دین
میباش از وجود خودت دائما خجل
Verse 1
Persian Verse
آن سرو خوش خرام که از من ربود دل
در باغ سرو میشود از قامتش خجل
Urdu Translation
وہ حسین و دلکش سرو جس نے میرا دل چرا لیا،
اس کے قد کی بلندی کے سامنے باغ کے سب سرو شرمندہ ہو جاتے ہیں۔
Difficult Words
سرو خوش خرام
دلکش اور خوبصورت قامت رکھنے والا درخت
خجل
شرمندہ
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ ایک ایسا محبوب جس کی خوبصورتی اور دلکشی نے دل کو اسیر بنا لیا ہے، اس کی عظمت اور بلندی کے سامنے دیگر تمام حسن کی تجلیاں ماند پڑ جاتی ہیں۔ یہ اشارہ انسان کی حقیقی محبت، یعنی خدا کی طرف ہے جس کے سامنے ہر دنیاوی محبوب کی کشش ماند پڑ جاتی ہے۔
Verse 2
Persian Verse
هرجا که جلوه میکند از ناز حسن خویش
صبرو قرار میبرد از جمله اهل دل
Urdu Translation
جہاں بھی وہ اپنے حسن کی ناز بھری جلوہ گری دکھاتا ہے،
وہ اہل دل کے صبر و قرار کو چھین لیتا ہے۔
Difficult Words
جلوہ میکند
جلوہ گری کرتا ہے
صبرو قرار
سکون اور اطمینان
Spiritual Meaning
خواجہ صاحب کا مطلب یہ ہے کہ جب حق تعالیٰ اپنے حسن کا جلوہ دکھاتا ہے، تو وہ دلوں کے عاشقوں کا سکون اور قرار چھین لیتا ہے۔ اہل دل ہمیشہ اس کی محبت میں بے قرار رہتے ہیں۔
Verse 3
Persian Verse
در راه دوست مرگ خودت اختیار کن
هر چیز غیر دوست بود جملہ رابهل
Urdu Translation
دوست کی راہ میں اپنی موت کو اختیار کر،
اور دوست کے علاوہ ہر چیز کو چھوڑ دے۔
Difficult Words
مرگ خودت اختیار کن
اپنی ذات کو فنا کر
بہل
چھوڑ دے
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ سچے عشق میں ہر چیز سے بیگانہ ہوکر اپنے وجود کو فنا فی اللہ کی راہ میں قربان کرنا ہے۔ حق کی محبت میں دنیاوی لذتیں اور تعلقات بے معنی ہو جاتے ہیں۔
Verse 4
Persian Verse
چون کس بہ بندہ خویش نرفتست سوے یار
در راه یار بند خود از یک دگر گسل
Urdu Translation
جب تک کوئی بندہ اپنی ذات کی قید سے آزاد ہو کر یار کی طرف نہیں جاتا،
یار کی راہ میں اپنے نفس کی زنجیروں کو توڑ کر جدا نہ ہو۔
Difficult Words
بندہ خویش
اپنی ذات یا خودی
بند
قید یا زنجیر
یک دگر گسل
آپس کی زنجیر یا تعلق کو توڑنا
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ عشق حقیقی کی راہ میں انسان کو اپنی نفس کی قید کو توڑنا پڑتا ہے۔ جب تک عاشق اپنی ذات اور خودی کو چھوڑ کر آزاد نہیں ہوتا، وہ یار کی طرف نہیں بڑھ سکتا۔ اس راستے میں اپنی انا اور خواہشات کو توڑنا ضروری ہے تاکہ عاشق اور محبوب کے درمیان کوئی حجاب نہ رہے اور قربت نصیب ہو۔
Verse 5
Persian Verse
بی خویش باش در ره دلدار قطب دین
میباش از وجود خودت دائما خجل
Urdu Translation
محبوب کی راہ میں اپنے آپ سے بے خود ہو جا،
اپنے وجود پر ہمیشہ شرمندہ رہ۔
Difficult Words
بی خویش باش
اپنے آپ سے بیگانہ ہو جانا
دائما خجل
ہمیشہ شرمندہ
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ جو شخص حق تعالیٰ کی محبت میں اپنی خودی کو فنا کر دے، وہ ہمیشہ اپنی ذات کے ادنیٰ پن کو محسوس کرتا ہے اور رب کی عظمت کے سامنے شرمندہ رہتا ہے۔ عشقِ الٰہی میں اپنا وجود مٹانے ہی سے حقیقی معرفت اور قربت نصیب ہوتی ہے۔
یہ کلام قرآن کی اس آیت کی مفصل تفسیر ہے، جس میں انسان کو اپنی ذات کے فنا ہونے اور اللہ کی راہ میں مکمل خود سپردگی کا درس دیا گیا ہے۔ سچے عشق کا راستہ اپنی خودی کو مٹانے اور خدا کے سامنے عاجزی اختیار کرنے کا ہے، جس میں انسان اپنے وجود کی حقیقت کو سمجھ کر ہمیشہ اللہ کی قربت کی طلب میں رہتا ہے۔
Quranic Reference 1
فرما دیجئے کہ بیشک میری نماز اور میرا حج اور قربانی (سمیت سب بندگی) اور میری زندگی اور میری موت اللہ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔
سورۃ الانعام، آیت 162