Kalam 356
THE DEWAN
Kalam 356
کلام 356
ORIGINAL KALAM
ہرصبح رو بدر گہہ جان ٓافرین کنم
باشد که یک نفس به خودش همنشین کنم
ہردم در ٓاورم رخ خوب تو در نظر
شادان بدین جہت دل اندو ہگین کنم
خواہم جہانیان ہمہ جانہا بمن دہند
تایک بیک نثار توای نازنین کنم
شبہا بخواب نرگس مستت چو میرود
زان روی آہ و نالہ جان در چنین کنم
گفتی کنم زوصل خودت شاد قطب دین
امروز ٓان نشاط و خوشی مہراین کنم
باشد که یک نفس به خودش همنشین کنم
ہردم در ٓاورم رخ خوب تو در نظر
شادان بدین جہت دل اندو ہگین کنم
خواہم جہانیان ہمہ جانہا بمن دہند
تایک بیک نثار توای نازنین کنم
شبہا بخواب نرگس مستت چو میرود
زان روی آہ و نالہ جان در چنین کنم
گفتی کنم زوصل خودت شاد قطب دین
امروز ٓان نشاط و خوشی مہراین کنم
VERSES & EXPLANATIONS
Verse 1
Persian Verse
ہر صبح رو بدرگہ جان آفرین کنم
باشد که یک نفس به خودش همنشین کنم
باشد که یک نفس به خودش همنشین کنم
Urdu Translation
ہر صبح میں جان آفرین کی بارگاہ میں اپنا رخ کرتا ہوں،
شاید کہ ایک لمحے کے لیے ہی سہی، اس کے ساتھ ہم نشینی حاصل کر سکوں۔
شاید کہ ایک لمحے کے لیے ہی سہی، اس کے ساتھ ہم نشینی حاصل کر سکوں۔
Difficult Words
- بدرگہ جان آفرین
- جان دینے والے کی بارگاہ، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ
- ہم نشین
- ساتھ بیٹھنا، قربت میں آنا
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ عاشق ہر روز اپنے دل کو اللہ کی بارگاہ میں لے جاتا ہے، اس امید میں کہ شاید اسے ایک لمحے کے لیے اللہ کی قربت اور ہم نشینی نصیب ہو۔ یہ قربتِ الٰہی کی شدید طلب کا بیان ہے، جہاں عاشق اپنے وجود کو اللہ کے حضور میں مکمل طور پر پیش کر کے اس کی محبت میں فنا ہو جانا چاہتا ہے۔
Verse 2
Persian Verse
ہر دم درآورم رخ خوب تو در نظر
شادان بدین جہت دل اندوہگین کنم
شادان بدین جہت دل اندوہگین کنم
Urdu Translation
میں ہر لمحہ تیرے خوبصورت چہرے کو اپنی نظر میں لاتا ہوں،
اسی وجہ سے اپنے غمگین دل کو خوش کرتا ہوں۔
اسی وجہ سے اپنے غمگین دل کو خوش کرتا ہوں۔
Difficult Words
- رخ خوب
- خوبصورت چہرہ، مراد ہے محبوب کا چہرہ
- اندوہگین
- غمگین
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ عاشق اپنے محبوب کے چہرے کو ہر وقت اپنی نظر میں بسائے رکھتا ہے، جس سے اس کا دل خوش ہوتا ہے، چاہے وہ دکھوں سے بھرا ہو۔ اللہ کے عشق میں یہی کیفیت ہوتی ہے کہ اس کی یاد اور تصور دل کے غم کو خوشی میں بدل دیتا ہے۔ یہ اس بات کا اظہار ہے کہ اللہ کی محبت میں غم اور خوشی دونوں حالتیں ایک لطیف سکون عطا کرتی ہیں۔
Verse 3
Persian Verse
خواہم جہانیان ہمہ جانہا بمن دہند
تا یک بیک نثار تو ای نازنین کنم
تا یک بیک نثار تو ای نازنین کنم
Urdu Translation
میری خواہش ہے کہ جہاں کے تمام لوگ اپنی جانیں مجھے دے دیں،
تاکہ میں ایک ایک کر کے انہیں تجھ پر نثار کر سکوں، اے نازنین۔
تاکہ میں ایک ایک کر کے انہیں تجھ پر نثار کر سکوں، اے نازنین۔
Difficult Words
- جہانیان
- جہاں والے، تمام لوگ
- نازنین
- محبوب، خوبصورت
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ عاشق اپنے محبوب کی محبت میں اتنا غرق ہے کہ اس کی خواہش ہے کہ جہاں کی سب جانیں اس کے پاس آ جائیں تاکہ وہ ان سب کو اپنے محبوب کی محبت میں قربان کر سکے۔ یہ اللہ کی محبت کی شدت اور اس کی راہ میں سب کچھ نچھاور کرنے کی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔ حقیقی عشق میں انسان کی اپنی جان بھی اللہ کی محبت میں بے قیمت ہو جاتی ہے، اور عاشق ہر لمحہ اللہ کی خوشنودی کے لیے قربانی دینے کو تیار رہتا ہے۔
Verse 4
Persian Verse
شبہا بخواب نرگس مستت چو میرود
زان روی آہ و نالہ جان در چنین کنم
زان روی آہ و نالہ جان در چنین کنم
Urdu Translation
اے بادشاہ، جب تیری مست نرگس کی مانند آنکھیں نیند میں جاتی ہیں،
اسی وجہ سے میری جان میں آہیں اور نالے بھر جاتے ہیں۔
اسی وجہ سے میری جان میں آہیں اور نالے بھر جاتے ہیں۔
Difficult Words
- نرگس مست
- مست نرگس، مراد ہے محبوب کی خواب آلود آنکھیں
- آہ و نالہ
- غم اور فریاد
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ عاشق کے لیے محبوب کی موجودگی اور اس کی نظر کی توجہ ہی سکون کا باعث ہے۔ جب محبوب نیند کی حالت میں ہوتا ہے اور اس کی نگاہ عاشق پر نہیں ہوتی، تو عاشق کی جان میں درد اور آہ و نالہ بھر جاتے ہیں۔ یہ اللہ کی محبت میں فنا ہونے کا بیان ہے، جہاں اللہ کی توجہ اور قربت عاشق کے دل کا سکون ہے، اور جب یہ قربت محسوس نہیں ہوتی، تو عاشق کی روح بے قراری اور درد میں مبتلا ہو جاتی ہے۔
Verse 5
Persian Verse
گفتی کنم ز وصل خودت شاد قطب دین
امروز آن نشاط و خوشی مہر این کنم
امروز آن نشاط و خوشی مہر این کنم
Urdu Translation
تو نے کہا کہ میں تجھے اپنے وصال سے شادمان کروں گا، اے قطبِ دین،
آج اسی خوشی اور مسرت کو اپنی محبت کی مہر بنا دوں گا۔
آج اسی خوشی اور مسرت کو اپنی محبت کی مہر بنا دوں گا۔
Difficult Words
- وصل
- ملاقات، مراد ہے محبوب کے قربت کا لطف
- نشاط و خوشی
- خوشی اور مسرت
- مہر این
- محبت کی مہر، پختگی
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ اللہ اپنے بندے کو یہ وعدہ کرتا ہے کہ اسے اپنے قربت سے شاد کرے گا، اور یہ خوشی اس کے دل پر محبت کی مہر ثبت کر دیتی ہے۔ یہ قربتِ الٰہی کی معراج ہے، جہاں عاشق کی روحانی مسرت اور سرور اس محبت کی علامت بن جاتی ہے جو اللہ کی طرف سے اس کے دل پر نقش ہوتی ہے۔ عشق کی یہ کیفیت بندے کو اپنی ذات کی نفی کر کے اللہ کی خوشی میں فنا کر دیتی ہے۔
CENTRAL THEME
یہ کلام قرآن کی اس آیت کی مفصل تفسیر ہے:
اردو ترجمہ: کنزالعرفان:
اور اپنے رب کو اپنے دل میں یاد کرو، گڑگڑاتے ہوئے اور ڈرتے ہوئے اور بلندی سے کچھ کم آواز میں، صبح و شام، اور غافلوں میں سے نہ ہونا۔
سورۃ الاعراف، آیت 205
اردو ترجمہ: کنزالعرفان:
اور اپنے رب کو اپنے دل میں یاد کرو، گڑگڑاتے ہوئے اور ڈرتے ہوئے اور بلندی سے کچھ کم آواز میں، صبح و شام، اور غافلوں میں سے نہ ہونا۔
سورۃ الاعراف، آیت 205
QURANIC REFERENCES
Quranic Reference 1
اور اپنے رب کو اپنے دل میں یاد کرو، گڑگڑاتے ہوئے اور ڈرتے ہوئے اور بلندی سے کچھ کم آواز میں، صبح و شام، اور غافلوں میں سے نہ ہونا۔
سورۃ الاعراف، آیت 205 اردو ترجمہ: کنزالعرفان
