Kalam 322
THE DEWAN
Kalam 322
کلام 322
ORIGINAL KALAM
بی روی تو گرہ نکشاید مرا فراغ
هرچند میروم با تماشای کشت و باغ
در اشتیاق روی تو ای سرو گلعذار
نہادہ ام ہ
بسین خود همچو الله داغ ٰ
من رفتم ازبرتو وماندی توبارقیب
برجای عندلیب به گلشن نشستہ زاغ
هر گہ که یادم بزم وصال تو می کنم
می سوزد از فراق وصال تو ام دماغ
چون قطب دین سراغ تو اندرجهان کنم
یعنے کہ من کیم که ترامیکنم سراغ
هرچند میروم با تماشای کشت و باغ
در اشتیاق روی تو ای سرو گلعذار
نہادہ ام ہ
بسین خود همچو الله داغ ٰ
من رفتم ازبرتو وماندی توبارقیب
برجای عندلیب به گلشن نشستہ زاغ
هر گہ که یادم بزم وصال تو می کنم
می سوزد از فراق وصال تو ام دماغ
چون قطب دین سراغ تو اندرجهان کنم
یعنے کہ من کیم که ترامیکنم سراغ
VERSES & EXPLANATIONS
Verse 1
Persian Verse
بی روی تو گرہ نکشاید مرا فراغ
ہرچند می روم با تماشای کشت و باغ
ہرچند می روم با تماشای کشت و باغ
Urdu Translation
تیرے چہرے کے بغیر میری بے قراری ختم نہیں ہوتی، چاہے میں کھیتوں اور باغات کی سیر کروں۔
Difficult Words
- بی روی تو
- تیرے چہرے کے بغیر
- گرہ نکشاید
- حل نہیں ہوتی
- فراغ
- سکون
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ دنیاوی حسن و جمال اور مناظر سے دل کو سکون نہیں ملتا جب تک کہ محبوب (اللہ) کا دیدار نہ ہو۔ انسان اللہ کی محبت کے بغیر دنیا کی تمام نعمتوں کے باوجود بے چین رہتا ہے۔
Verse 2
Persian Verse
در اشتیاق رو تیوای سرو گلعذار
نهاده ام ہ
بسین خود همچو الله داغ ٰ
نهاده ام ہ
بسین خود همچو الله داغ ٰ
Urdu Translation
تیرے چہرے کی آرزو میں، اے سرو جیسا دلبر، میں نے اپنے سینے پر اللے کے پھول کی طرح داغ لگا رکھا ہے۔
Difficult Words
- سرو گلعذار
- سرو جیسا دلبر، خوبصورت چہرہ
- اللہ داغ
- اللے کا پھول، عشق کا داغ
Spiritual Meaning
خواجہ صاحب نے یہاں عشق کی شدت کو بیان کیا ہے کہ محبوب کی آرزو نے دل پر داغ چھوڑ دیا ہے، جیسے اللے کے پھول پر داغ ہوتا ہے۔ یہ داغ عشق کی قربانی اور درد کی نشانی ہے۔ صوفیانہ ادب میں یہ داغ روحانی عشق کی علامت ہے۔
Verse 3
Persian Verse
من رفتم از بر تو و ماندی تو با رقیب
برجای عندلیب به گلشن نشسته زاغ
برجای عندلیب به گلشن نشسته زاغ
Urdu Translation
میں تو تیرے پاس سے چلا گیا اور تم رقیب کے ساتھ رہ گئے، جہاں بلبل کی جگہ باغ میں کّوا بیٹھا ہے۔
Difficult Words
- بر تو
- تیرے پاس
- رقیب
- دشمن، حاسد
- زاغ
- کّوا، جو بلبل کا مخالف ہے
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے بیان کیا کہ جب عاشق اللہ سے دور ہوتا ہے تو دنیاوی لوگوں (رقیب) کے ساتھ رہنا اس کے لیے ایک سزا بن جاتی ہے۔ اللہ کی محبت سے دوری انسان کو بلبل کی جگہ کّوے کے ساتھ بٹھا دیتی ہے، یعنی وہ اعلیٰ مقام سے گر جاتا ہے۔
Verse 4
Persian Verse
هر گہ که یادم بزم وصال تو می کنم
می سوزد از فراق وصال تو ام دماغ
می سوزد از فراق وصال تو ام دماغ
Urdu Translation
جب بھی میں تیرے وصال کی محفل کو یاد کرتا ہوں، تو میرا دماغ فراق کی آگ میں جل اٹھتا ہے۔
Difficult Words
- بزم وصال
- وصال کی محفل
- دماغ
- عقل، سر
Spiritual Meaning
خواجہ صاحب نے فرمایا کہ اللہ کی قربت اور وصال کی یاد دل میں فراق کی آگ کو مزید بھڑکا دیتی ہے۔ سالک جب اللہ کی قربت کو یاد کرتا ہے تو اس کی عقل اور دل دونوں فراق کی شدت سے جلتے ہیں۔
Verse 5
Persian Verse
چون قطب دین سراغ تو اندرجهان کنم
یعنے کہ من کیم که ترامیکنم سراغ
یعنے کہ من کیم که ترامیکنم سراغ
Urdu Translation
جب میں اے قطب الدین! دنیا میں تیرے (اللہ) کا سراغ لگاتا ہوں، تو حیرت ہوتی ہے کہ میں کون ہوں جو تجھے ڈھونڈ رہا ہوں۔
Difficult Words
- سراغ تو
- تیرا سراغ، تیری تلاش
- یغے
- حیرت
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے اپنی عاجزی کا اظہار کیا کہ اللہ جیسی عظیم ہستی کی تلاش کرنا خود عاشق کے لیے حیرت کا باعث ہے۔ انسان کی حیثیت اللہ کے سامنے کچھ بھی نہیں اور اللہ کی معرفت اور قربت اس کی عطا ہوتی ہے، نہ کہ انسان کی کوشش کا نتیجہ۔
CENTRAL THEME
خواجہ صاحب نے اس کلام میں اللہ کی محبت، فراق کی شدت، اور وصال کی آرزو کو بیان کیا ہے۔ دنیا کی تمام نعمتوں اور خوشیوں کے باوجود، اللہ کی قربت کے بغیر دل کو سکون نہیں ملتا۔ اللہ کی تلاش اور اس کی محبت انسان کو دنیا کی فانی خوشیوں سے بے نیاز کر دیتی ہے۔
QURANIC REFERENCES
Quranic Reference 1
میں انہیں ضرور گمراہ کردوں گا اور ضرور انہیں غلط اُمیدیں دلاؤں گا اور انہیں ضرور حکم دیتا رہوں گا سو وہ یقیناً جانوروں کے کان چیرا کریں گے اور میں انہیں ضرور حکم دیتا رہوں گا سو وہ یقیناً اللہ کی بنائی ہوئی چیزوں کو بدلا کریں گے، اور جو کوئی اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو دوست بنالے تو واقعی وہ صریح نقصان میں رہا۔
سورۃ النساء، 4:119
HADITH REFERENCES
Hadith Reference 1
جب میرا بندہ میری طرف ایک ہاتھ بڑھاتا ہے، میں اس کی طرف دو ہاتھ بڑھاتا ہوں۔
صحیح مسلم، حدیث نمبر 2675
