Kalam 323
THE DEWAN
Kalam 323
کلام 323
ORIGINAL KALAM
عمر تلف شد مرا حیف از آن ای دریغ
بیک اجل می کند غارت جان ای دریغ
حیف کہ تا می کنی با زدو دیده زخواب
نخل حیات ہمہ گشتہ خزان ای دریغ
تو بجوانی مشوغ ٓرہ که تیغ اجل
فرق زہم کہ کند پیروجوان ای دریغ
تیغ اجل میکشدہ بندٔہ ٓا زاد را
ازہمہ خالی کند ملک جہان ای دریغ
تو بزر و سیم خویش غره مشو زانکه مرگ
کردہ بسی سرنگون بخت شہان ای دریغ
غافل ازانوار یار بیخبران گشته اند
مانده بخواب غرور بیخبران ای دریغ
پیشتر از مرگ خویش قطب دین از خود بمیر
ہیچ مگو زنهار از غم جان ای دریغ
بیک اجل می کند غارت جان ای دریغ
حیف کہ تا می کنی با زدو دیده زخواب
نخل حیات ہمہ گشتہ خزان ای دریغ
تو بجوانی مشوغ ٓرہ که تیغ اجل
فرق زہم کہ کند پیروجوان ای دریغ
تیغ اجل میکشدہ بندٔہ ٓا زاد را
ازہمہ خالی کند ملک جہان ای دریغ
تو بزر و سیم خویش غره مشو زانکه مرگ
کردہ بسی سرنگون بخت شہان ای دریغ
غافل ازانوار یار بیخبران گشته اند
مانده بخواب غرور بیخبران ای دریغ
پیشتر از مرگ خویش قطب دین از خود بمیر
ہیچ مگو زنهار از غم جان ای دریغ
VERSES & EXPLANATIONS
Verse 1
Persian Verse
عمر تلف شدمرا حیف ازان ای دریغ
بیک اجل می کند غارت جان ای دریغ
بیک اجل می کند غارت جان ای دریغ
Urdu Translation
میری زندگی ضائع ہو گئی، افسوس! اور موت ایک لمحے میں میری جان کو غارت کر دیتی ہے، افسوس!
Difficult Words
- عمر تلف
- زندگی ضائع ہونا
- بیک اجل
- اچانک موت
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے زندگی کے ضیاع اور موت کی حقیقت کو بیان کیا ہے۔ وہ افسوس کرتے ہیں کہ انسان اپنی زندگی ضائع کرتا ہے، حالانکہ موت ہر لمحہ قریب آ رہی ہے اور ایک ہی پل میں سب کچھ چھین لیتی ہے۔
Verse 2
Persian Verse
حیف کہ تا می کنی با زدو دیده زخواب
نخل حیات ہمہ گشتہ خزان ای دریغ
نخل حیات ہمہ گشتہ خزان ای دریغ
Urdu Translation
جب تک تم نیند میں غفلت میں رہو گے، زندگی کا درخت خزاں رسیدہ ہو چکا ہوگا، افسوس!
Difficult Words
- زدو دیده
- آنکھوں سے، یعنی نیند اور غفلت
- نخل حیات
- زندگی کا درخت
Spiritual Meaning
خواجہ صاحب غفلت کی نیند کو زندگی کے ضیاع کا سبب قرار دیتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ اگر انسان بیدار نہیں ہوگا اور اپنے مقصد کو نہیں سمجھے گا، تو اس کی زندگی خزاں کے پتوں کی طرح سوکھ جائے گی۔
Verse 3
Persian Verse
قو بجوانی مشو ّغرہ که تیغ اجل
فرق زہم کہ کند پیروجوان ای دریغ
فرق زہم کہ کند پیروجوان ای دریغ
Urdu Translation
اپنی جوانی پر مغرور مت ہو، کیونکہ موت کی تلوار بوڑھے اور جوان میں فرق نہیں کرتی، افسوس!
Difficult Words
- تیغ اجل
- موت کی تلوار
- مشو غرہ
- مغرور مت ہو
Spiritual Meaning
خواجہ صاحب نے جوانی اور قوت پر غرور کرنے سے منع کیا ہے، کیونکہ موت کا کوئی خاص وقت یا عمر نہیں ہوتی۔ یہ پیغام ہے کہ زندگی کو ہمیشہ موت کے قریب سمجھ کر گزارنا چاہیے۔
Verse 4
Persian Verse
تیغ اجل می کشدہ بندٔہ آزاد را
از ہمہ خالی کند ملک جہان ای دریغ
از ہمہ خالی کند ملک جہان ای دریغ
Urdu Translation
موت کی تلوار آزاد انسان کو بھی مار ڈالتی ہے، اور دنیا کی سلطنت کو خالی کر دیتی ہے، افسوس!
Difficult Words
- بندٔہ آزاد
- آزاد انسان، جو دنیاوی غلامی سے آزاد ہو
- ملک جہان
- دنیا کی سلطنت
Spiritual Meaning
خواجہ صاحب نے موت کی حتمی حقیقت کو بیان کیا ہے کہ یہ آزاد انسان کو بھی نہیں چھوڑتی اور دنیا کے تمام تعلقات اور چیزوں کو خالی کر دیتی ہے۔ دنیاوی طاقت اور دولت موت کے سامنے بے معنی ہیں۔
Verse 5
Persian Verse
توبزر وسیم خویش غرہ مشو زانکہ مرگ
کردہ بسی سرنگون بخت شہان ای دریغ
کردہ بسی سرنگون بخت شہان ای دریغ
Urdu Translation
اپنی دولت اور خوبصورتی پر مغرور نہ ہو، کیونکہ موت نے بہت سے بادشاہوں کو سرنگوں کر دیا ہے، افسوس!
Difficult Words
- بزر وسیم
- دولت اور خوبصورتی
- سرنگون بخت شہان
- سرنگوں بادشاہ، جن کی قسمت بدل گئی
Spiritual Meaning
خواجہ صاحب نے دولت اور خوبصورتی پر غرور کرنے سے منع کیا ہے، کیونکہ موت نے بہت سے بادشاہوں اور طاقتور لوگوں کو بھی بے بس کر دیا ہے۔ دنیاوی چیزوں پر غرور بے معنی ہے، کیونکہ یہ سب فانی ہیں۔
Verse 6
Persian Verse
غافل از انوار یار بیخبران گشتہ اند
مانده بخواب غرور بیخبران ای دریغ
مانده بخواب غرور بیخبران ای دریغ
Urdu Translation
وہ لوگ جو محبوب (اللہ) کی روشنی سے غافل ہیں، بے خبری میں غرور کی نیند سوئے ہوئے ہیں، افسوس!
Difficult Words
- انوار یار
- اللہ کی روشنی، اللہ کا نور
- بیخبران
- بے خبر لوگ
Spiritual Meaning
خواجہ صاحب نے ان لوگوں کی غفلت کا ذکر کیا ہے جو اللہ کی روشنی اور ہدایت سے دور ہیں اور دنیاوی غرور میں مبتلا ہیں۔ اللہ کی قربت کے بغیر زندگی غفلت کی نیند ہے، جو انسان کو حقیقی مقصد سے دور کر دیتی ہے۔
Verse 7
Persian Verse
پیشتر از مرگ خویش قطب دین از خود بمیر
هیچ مگو زنهار از غم جان ای دریغ
هیچ مگو زنهار از غم جان ای دریغ
Urdu Translation
اے قطب الدین! اپنی موت سے پہلے اپنی خودی کو فنا کر دو، اور اپنی جان کے غم کا ذکر مت کرو، افسوس!
Difficult Words
- از خود بمیر
- اپنی خودی کو فنا کرنا
- زنهار
- خبردار
Spiritual Meaning
خواجہ صاحب نے نصیحت کی کہ انسان کو اپنی موت سے پہلے اپنی نفسانی خواہشات کو فنا کرنا چاہیے۔ اپنی خودی کو مٹانا ہی اصل روحانی موت ہے، جس سے انسان اللہ کی محبت میں زندہ ہوتا ہے۔
CENTRAL THEME
خواجہ صاحب نے اس کلام میں موت کی حقیقت، زندگی کی فانی حیثیت، اور نفسانی غرور کے خطرات کو بیان کیا ہے۔ انسان کو موت سے پہلے اپنی خودی کو فنا کر کے اللہ کی محبت میں جینا چاہیے، کیونکہ دنیاوی دولت اور طاقت کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔
QURANIC REFERENCES
Quranic Reference 1
ہر جان کو موت چکھنی ہے۔
سورۃ آل عمران، 3:185
Quranic Reference 2
اور ہم نے بہت سے جن اور انسانوں کو جہنم کے لیے پیدا کیا۔ ان کے دل ہیں، لیکن وہ ان سے سمجھتے نہیں، ان کی آنکھیں ہیں، لیکن وہ ان سے دیکھتے نہیں، اور ان کے کان ہیں، لیکن وہ ان سے سنتے نہیں۔ وہ غافل ہیں۔
سورۃ الاعراف، 7:179
Quranic Reference 3
اور ہر گروہ کے لیے ایک معیاد معین ہے تو پھر جب معیاد ختم ہوگی تو ایک گھڑی نہ پیچھے ہو نہ آگے۔
سورۃ الاعراف، 7:34
Quranic Reference 4
جو تمہارے پاس ہے ختم ہو جائے گا، اور جو اللہ کے پاس ہے کبھی ختم نہ ہوگا، اور ہم صبر کرنے والوں کو ضرور بدلہ دیں گے ان کے اچھے کاموں کا جو کرتے تھے۔
سورۃ النحل، 16:96
Quranic Reference 5
اے ایمان والو تمہارے مال نہ تمہاری اولاد کوئی چیز تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کرے اور جو ایسا کرے تو وہی لوگ نقصان میں ہیں۔
سورۃ المنافقون، 63:9
Quranic Reference 6
بیشک وہ کامیاب ہوا جس نے اپنی روح کو پاک کیا۔
سورۃ الشمس، 91:9
