Kalam 325
THE DEWAN
Kalam 325
کلام 325
ORIGINAL KALAM
عمر عزیز رفت هزاران هزار حیف
حیف و دریغ از من و تو بار بار حیف
ٓانراکہ زا دمادر ایام بازمرد
با هیچکس جہاں نبود پایدار حیف
ما چون گلیم بر سر شاخ درخت دہر
کورا دو هفته بیش نباشد قرار حیف
چون الله داغ بود بما عاقبت زند
چرخ فلک که نیست درا اعتبار حیف
خوش ٓانکہ رزدری و نبا شد ز فعل بد
روز حساب در صف مردان کار حیف
ای قطب دین بکوش که فردا بروز حشر
ٓانکس کہ شرمسار بود پیش یار حیف
حیف و دریغ از من و تو بار بار حیف
ٓانراکہ زا دمادر ایام بازمرد
با هیچکس جہاں نبود پایدار حیف
ما چون گلیم بر سر شاخ درخت دہر
کورا دو هفته بیش نباشد قرار حیف
چون الله داغ بود بما عاقبت زند
چرخ فلک که نیست درا اعتبار حیف
خوش ٓانکہ رزدری و نبا شد ز فعل بد
روز حساب در صف مردان کار حیف
ای قطب دین بکوش که فردا بروز حشر
ٓانکس کہ شرمسار بود پیش یار حیف
VERSES & EXPLANATIONS
Verse 1
Persian Verse
عمر عزیز رفت هزاران هزار حیف
حیف و دریغ از من و تو بار بار حیف
حیف و دریغ از من و تو بار بار حیف
Urdu Translation
قیمتی عمر گزر گئی، ہزاروں بار افسوس! افسوس اور حسرت ہم دونوں پر، بار بار افسوس!
Difficult Words
- عمر عزیز
- قیمتی زندگی
- حیف و دریغ
- افسوس اور حسرت
Spiritual Meaning
خواجہ صاحب نے یہاں زندگی کی ناپائیداری اور اس کے گزرتے وقت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وہ اس بات پر حسرت کرتے ہیں کہ قیمتی وقت ضائع ہو چکا ہے اور یہ افسوس انسان کو خود کی ناتوانی اور غفلت کا احساس دلاتا ہے۔
Verse 2
Persian Verse
ٓانرا کہ زا دمادر ایام بازمرد
با هیچکس جہاں نبود پایدار حیف
با هیچکس جہاں نبود پایدار حیف
Urdu Translation
جو بھی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا، وقت کے ہاتھوں ختم ہو گیا، دنیا میں کسی کے لیے بھی پائیداری نہیں، افسوس!
Difficult Words
- زا دمادر
- ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے والا
- پایدار
- ہمیشہ باقی رہنے والا
Spiritual Meaning
خواجہ صاحب نے یہاں دنیا کی فانی حقیقت کو بیان کیا ہے کہ ہر وہ شخص جو دنیا میں آیا، وقت کے ہاتھوں ختم ہوا۔ یہ دنیا کسی کے لیے بھی ہمیشہ باقی نہیں رہتی۔ یہ فارسی شعر انسان کو دنیا کی حقیقت اور اس کی ناپائیداری کا احساس دلاتا ہے۔
Verse 3
Persian Verse
ما چون گلیم بر سر شاخ درخت دہر
کورا دو هفته بیش نباشد قرار حیف
کورا دو هفته بیش نباشد قرار حیف
Urdu Translation
ہم اس درختِ دنیا کی شاخ پر لٹکے ہوئے گلیم کی طرح ہیں جسے دو ہفتے سے زیادہ قرار نہیں ہوتا، افسوس!
Difficult Words
- گلیم
- کم قیمت کپڑا یا چادر
- شاخ درخت دہر
- دنیا کے درخت کی شاخ
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے انسان کی بے ثباتی کی کیفیت کو بیان کیا ہے کہ ہم اس دنیا کی غیر مستحکم شاخوں پر لٹکے ہوئے ہیں۔ یہ فارسی شعر زندگی کی مختصر مدت اور انسان کی بے یقینی کی حالت کو ظاہر کرتا ہے۔
Verse 4
Persian Verse
چون اللہ داغ بود بما عاقبت زند
چرخ فلک کہ نیست درا اعتبار حیف
چرخ فلک کہ نیست درا اعتبار حیف
Urdu Translation
فلک (آسمان) کی گردش جو کبھی قابل اعتبار نہیں ہوتی، آخرکار ہمیں اللے کی طرح داغ دے جاتی ہے، افسوس!
Difficult Words
- چرخ فلک
- آسمان کی گردش
- اللہ داغ
- اللے کا داغ، مصیبت یا غم
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے آسمان کی گردش اور اس کی غیر یقینی کی حالت کو بیان کیا ہے کہ یہ ہمیں آخرکار غم میں مبتلا کر دیتی ہے۔ یہ فارسی شعر زندگی کی بے یقینی اور اس کے مشکلات کا عکاس ہے۔
Verse 5
Persian Verse
خوش ٓانکہ رزدری و نبا شد زفعل بد
روز حساب در صف مردان کار حیف
روز حساب در صف مردان کار حیف
Urdu Translation
خوش قسمت وہ ہے جو برے عمل سے دور رہے اور روزِ حساب مردانِ عمل کی صف میں شامل ہو، افسوس!
Difficult Words
- روز حساب
- قیامت کا دن، حساب کا دن
- مردان کار
- عمل کرنے والے لوگ
Spiritual Meaning
خواجہ صاحب نے یہاں اچھے اعمال کی اہمیت کو بیان کیا ہے کہ خوش قسمت وہی ہے جو برے کاموں سے دور رہے تاکہ روزِ قیامت وہ عمل کرنے والوں کی صف میں شامل ہو سکے۔ یہ فارسی شعر نیکی کی راہ پر چلنے کی ترغیب دیتا ہے۔
Verse 6
Persian Verse
ای قطب دین بکوش کہ فردا بروز حشر
ٓانکس کہ شرمسار بود پیش یار حیف
ٓانکس کہ شرمسار بود پیش یار حیف
Urdu Translation
اے قطب الدین! کوشش کر کہ قیامت کے دن شرمندہ نہ ہو، کیونکہ وہ جو اپنے محبوب کے سامنے شرمندہ ہو، افسوس!
Difficult Words
- بروز حشر
- قیامت کے دن
- شرمسار
- شرمندہ
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے قطب الدین کو نصیحت کی ہے کہ قیامت کے دن کے لیے تیاری کرنی چاہیے تاکہ محبوب کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے۔ یہ آخرت کی تیاری اور خدا کی محبت میں زندگی گزارنے کی تعلیم دیتا ہے۔
CENTRAL THEME
اس کلام کا مرکزی خیال وقت کی قدر، دنیا کی فانی حیثیت، اور آخرت کی تیاری ہے۔ خواجہ صاحب نے زندگی کی مختصر مدت، اس کی ناپائیداری، اور اچھے اعمال کی اہمیت کو بیان کیا ہے۔ انہوں نے انسان کو خبردار کیا ہے کہ وقت ضائع کرنے پر افسوس نہ کریں، بلکہ زندگی کو نیکی اور خدا کی محبت کے لیے استعمال کریں تاکہ قیامت کے دن شرمندگی سے بچ سکیں۔ خواجہ صاحب نے اس کلام میں دنیا کی فانی حقیقت، زندگی کی ناپائیداری، اور آخرت کی تیاری پر زور دیا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کو بامقصد اور آخرت کے لیے تیار کرے، کیونکہ دنیاوی کامیابیاں اور دولت سب عارضی ہیں۔
QURANIC REFERENCES
Quranic Reference 1
ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے، اور تمہیں تمہارے پورے پورے اجر قیامت کے دن ہی دیے جائیں گے، پس جو شخص آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا تو وہ کامیاب ہو گیا، اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کا سامان ہے۔
سورۃ آل عمران، 3:185
