Kalam 324

THE DEWAN

Kalam 324

کلام 324
9 of 182 · Table of Contents
ای ترا لبہا ملیح و عارض زیبا لطیف
هم چو گل از زیر پرده روی بنما ای عفیف

از جفای محنت هجران چنین بگداختم
کزمن ٓاثاری نماندہ گشتہ ام زار و نحیف

از کثافت بگذرابدل گر همی خواهی وصال
زان که تاب این لطافت برنیاید از کثیف

ٓارزو دارم شراب وصل ثودربزم خویش
ہمدمی کن تاشوم گہہ ساقی و گاہی حریف

دربہار عمر گل چین در گلستان وجود
پیش ازان روزیکہ ٓاید برگل عمرت حریف

در گلستان سخن بسیار کردم سیرها
تابدست ٓامد مرا حرف و سخنهای لطیف

قطب دین تنہا نشین و همنشین یارباش
نکٔتہ با من ھمین گفتندریاران ظریف
Verse 1
Persian Verse
ای ترا لبہا ملیح و عارض زیبا لطیف
هم چو گل از زیر پرده روی بنما ای عفیف
Urdu Translation
اے وہ جس کے لب حسین اور چہرہ لطیف ہے، پردے کے نیچے سے اپنا چہرہ دکھا دو، جیسے پھول پردے سے نکلتا ہے۔
Difficult Words
لبہا ملیح
حسین لب
عارض زیبا لطیف
خوبصورت اور لطیف چہرہ
غصیف
نازک اور کمزور
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے محبوب (اللہ) کے حسن کی بات کی ہے، اور اسے پھول کی لطافت سے تشبیہ دی ہے۔ محبوب کا حسن پردے میں چھپا ہوتا ہے اور عاشق چاہتا ہے کہ وہ حسن ظاہر ہو۔ اللہ کی ذات کی معرفت اور اس کا قرب بھی پردے کے پیچھے ہے اور سالک اس کی طلب میں ہوتا ہے۔
Verse 2
Persian Verse
از جفای محنت هجران چنین بگداختم
کز من ٓاثاری نماندہ گشتہ ام زار و نحیف
Urdu Translation
ہجر کی مشقت اور ظلم نے مجھے اس طرح پگھلا دیا ہے کہ مجھ میں کوئی نشان باقی نہیں رہا، اور میں زار و ناتواں ہو چکا ہوں۔
Difficult Words
جفای محنت هجران
ہجر کی مشقت اور ظلم
بگداختم
پگھل گیا ہوں
نحیف
ناتواں، کمزور
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے ہجر کی شدت اور اس کی تکلیف کو بیان کیا ہے کہ محبت کی راہ میں عاشق اس قدر مشقت اور جدائی کی اذیت سے گزر جاتا ہے کہ اس کی ذات پگھل کر ختم ہو جاتی ہے، اور وہ زار و ناتواں ہو جاتا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ سچے عاشق کی ہستی محبوب کی محبت میں فنا ہو جاتی ہے اور وہ اپنی ذات کی کوئی پرواہ نہیں کرتا۔
Verse 3
Persian Verse
از کثافت بگذر ابدل گر همی خواهی وصال
زان که تاب این لطافت برنیاید از کثیف
Urdu Translation
اگر تم وصال چاہتے ہو، تو کثافت (نفسانی خواہشات) سے گزر جاؤ، کیونکہ یہ لطافت (وصال) کثیف دل سے حاصل نہیں ہو سکتی۔
Difficult Words
کثافت
نفسانی خواہشات اور دنیاوی آلائشیں
وصال
اللہ کا قرب اور ملاقات
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ اللہ کے وصال کو پانے کے لیے نفسانی خواہشات اور دنیاوی غلاظتوں سے پاک ہونا ضروری ہے۔ اللہ کا قرب صرف پاک دل اور خالص نیت والوں کو نصیب ہوتا ہے۔
Verse 4
Persian Verse
ٓارزو دارم شراب وصل تو در بزم خویش
ہمدمی کن تاشوم گہہ ساقی و گاہی حریف
Urdu Translation
میں تمہارے وصال کی شراب کی آرزو رکھتا ہوں، اپنی محفل میں مجھے شریک کرو تاکہ کبھی میں ساقی بنوں اور کبھی شریک۔
Difficult Words
شراب وصل
وصال کی شراب، اللہ کی قربت
بزم
محفل
ساقی
وہ جو شراب پلانے والا ہو
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے وصال کی حالت کو "شراب وصل" سے تعبیر کیا ہے، جو اللہ کی محبت کا استعارہ ہے۔ عاشق اللہ کی محبت میں اس قدر محو ہو جاتا ہے کہ وہ کبھی خود قربت کا ذریعہ بن جاتا ہے اور کبھی محفل کا شریک۔
Verse 5
Persian Verse
در بہار عمر گل چین در گلستان وجود
پیش ازان روزی کہ ٓاید بر گل عمرت حریف
Urdu Translation
عمر کی بہار میں اپنی زندگی کے گلستان سے پھول چن لو، اس سے پہلے کہ کوئی تمہاری زندگی کے پھول کو چننے والا آ جائے۔
Difficult Words
بہار عمر
زندگی کی بہار
حریف
دشمن، موت کا اشارہ
Spiritual Meaning
خواجہ صاحب نے زندگی کی بہار کو موقع قرار دیا ہے کہ انسان اللہ کی قربت حاصل کرے۔ موت کا وقت قریب ہے اور اس سے پہلے کہ زندگی کا پھول مرجھا جائے، انسان کو اللہ کی محبت میں زندگی گزارنی چاہیے۔
Verse 6
Persian Verse
در گلستان سخن بسیار کردم سیرها
تابدست آمد مرا حرف و سخنهای لطیف
Urdu Translation
میں نے سخن کے گلستان میں بہت سیر کی ہے، اور مجھے لطیف اور حسین باتیں ہاتھ لگی ہیں۔
Difficult Words
گلستان سخن
ادب اور شاعری کی دنیا
حرف و سخنهای لطیف
لطیف اور حسین باتیں
Spiritual Meaning
خواجہ صاحب نے یہاں اپنے کلام اور سخنوری کی تعریف کی ہے کہ انہوں نے بہت سے لطیف اور خوبصورت خیالات پائے ہیں۔ لیکن یہ خیالات اور الفاظ دراصل اللہ کی محبت اور قربت کے اظہار کا ذریعہ ہیں۔ صوفی فارسی شعرا اپنے کلام میں اللہ کی محبت کو بیان کرنے کے لیے لطیف اور حسین زبان کا استعمال کرتے ہیں۔
Verse 7
Persian Verse
قطب دین تنہا نشین و همنشین یارباش
نکٔتہ با من همین گفتند ریاران ظریف
Urdu Translation
اے قطب الدین! تنہائی میں بیٹھو اور اللہ کے ساتھ ہمنشین بنو، یہی بات مجھے میرے ظریف دوستوں نے سکھائی۔
Difficult Words
تنہا نشین
تنہائی میں بیٹھنا
یار ظریف
دانا اور لطیف دوست
Spiritual Meaning
خواجہ قطب الدین نصیحت کرتے ہیں کہ سالک دنیا سے الگ ہو کر اللہ کے ساتھ ہمنشین بنے۔ صوفیاء کے نزدیک تنہائی میں اللہ کے ساتھ خلوت کا وقت گزارنا روحانی ترقی کا اہم ذریعہ ہے۔
اس کلام میں خواجہ صاحب نے اللہ کے وصال کی طلب، دنیاوی آلائشوں سے پاکیزگی، اور اللہ کی محبت میں فنا ہونے کی تعلیم دی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی نفسانی خواہشات کو چھوڑ کر اللہ کی محبت میں جینے کی کوشش کرے اور تنہائی میں اللہ کے ساتھ ہمنشینی کو اپنائے۔
Quranic Reference 1
اور اللہ پسند کرتا ہے پاک رہنے والوں کو۔
سورۃ التوبہ، 9:108
Quranic Reference 2
اور اپنے رب کا ذکر کرو اپنے دل میں عاجزی اور خوف کے ساتھ اور آواز کو پست رکھتے ہوئے صبح و شام اور غافلوں میں سے نہ ہو جاؤ۔
سورۃ الاعراف، 7:205
Quranic Reference 3
اللہ نے اتاری سب سے اچھی کتاب کہ اول سے آخر تک ایک سی ہے دوہرے بیان والی، اس سے بال کھڑے ہوتے ہیں ان کے بدن پر جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں، پھر ان کی کھالیں اور دل نرم پڑتے ہیں یادِ خدا کی طرف رغبت میں۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے، راہ دکھائے اسے جسے چاہے، اور جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں۔
سورۃ الزمر، 39:23
Hadith Reference 1
جب اہلِ جنت جنت میں داخل ہوں گے، تو اللہ فرمائے گا: کیا تمہیں مزید کچھ چاہیے؟ تو وہ کہیں گے: آپ نے ہمیں جنت میں داخل کر دیا اور ہماری نجات دی، تو اور کیا چاہیے؟ اس کے بعد اللہ اپنے حجاب کو ہٹا دے گا اور اہلِ جنت کے لیے اللہ کا دیدار سب سے بڑی نعمت ہوگا۔
صحیح مسلم، حدیث نمبر 181
Hadith Reference 2
پانچ چیزوں کو غنیمت جانو، اس سے پہلے کہ پانچ آئیں: جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، صحت کو بیماری سے پہلے، مالداری کو محتاجی سے پہلے، فرصت کو مشغولیت سے پہلے، اور زندگی کو موت سے پہلے۔
صحیح مسلم، حدیث نمبر 2996