Kalam 329

THE DEWAN

Kalam 329

کلام 329
14 of 182 · Table of Contents
کو همدمی که گوش کند داستان عشق
تانکٔتہ حدیث کا حوالہ: کنم در بیان عشق

ِاز فرق تا قدم ھمگی عشق گشته ام
بنگر چگو نہ گشتہ زبانم زبان عشق

هرکس بسر عشق کجا پے بردولے
ہم خود بیان کنم کہ منم نکتہ دان عشق

زاہد حد بخور که تو خامی و ما تمام
دانا نمی شوی تو
ب ّسر نہان عشق ِ

س ّریست عشق در دل ہرکس کہ جلوہ کرد
ٓاگاہ درزمان شود ازترجمان عشق

ارض و سما حجاب رہ عشق نیست زانکه
وارستہ از مکان وهم ازالمکان عشق

بنگر بیا بدیدٔہ باطن بہ قطب دین
کو فارغ از جهان شدہ اندر زمان عشق
Verse 1
Persian Verse
کو همدمی که گوش کند داستان عشق
تانکٔتہ حدیث کا حوالہ: کنم در بیان عشق
Urdu Translation
کہاں ہے وہ ہمدم جو عشق کی داستان سنے، تاکہ میں عشق کے نکات بیان کروں اور عشق کے قصے سناؤں۔
Difficult Words
همدمی
ساتھی، ہمراز
داستان عشق
عشق کی کہانی
نکت ٔه حدیث کا حوالہ:
بات کے اہم نکات
Spiritual Meaning
خواجہ صاحب یہاں اس خواہش کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ ایسے ہمدم کی تلاش میں ہیں جو عشق کی داستان سننے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ صوفیانہ فلسفے میں عشق ایک گہرا اور پیچیدہ راز ہے، جسے سمجھنے کے لیے دل کی سنجیدگی اور روح کی گہرائی ضروری ہے۔ اس بیان میں عشق کے نکات اور تجربات کو سمجھنے کے لیے ایک اہل ہمراز کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے، جو ان کی داستان کو سننے اور اس کی گہرائی کو محسوس کر سکے۔
Verse 2
Persian Verse
ِاز فرق تا قدم ھمگی عشق گشته ام
بنگر چگو نہ گشتہ زبانم زبان عشق
Urdu Translation
میں سر سے پا تک عشق میں ڈوبا ہوا ہوں، دیکھو! میری زبان بھی عشق کی زبان بن چکی ہے۔
Difficult Words
از فرق تا قدم
سر سے پا تک، پورا وجود
زبان عشق
عشق کی زبان، محبت اور معرفت کی باتیں
Spiritual Meaning
یہ فارسی شعر عاشق کی مکمل وابستگی اور محبت کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ صوفیاء کے نزدیک عشق انسان کے وجود کا حصہ بن جاتا ہے اور اس کی زبان سے عشق کی باتیں جاری ہوتی ہیں۔ خواجہ صاحب یہاں فرماتے ہیں کہ وہ سر سے پاؤں تک عشق میں ڈوبے ہوئے ہیں، اور ان کی زبان بھی عشق کی زبان میں بات کر رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عشق انسان کی تمام حرکات و سکنات پر غالب آ جاتا ہے۔
Verse 3
Persian Verse
هرکس بسر عشق کجا پے بردولے
ہم خود بیان کنم کہ منم نکتہ دان عشق
Urdu Translation
ہر شخص عشق کی حقیقت کو کہاں سمجھ سکتا ہے؟ میں خود بیان کرتا ہوں کہ میں عشق کے نکات کا سمجھنے والا ہوں۔
Difficult Words
به سر عشق
عشق کی حقیقت
نکتہدان عشق
عشق کے نکات اور اسرار کو جاننے والا
Spiritual Meaning
یہاں عشق کی گہرائی اور اس کے فہم کی مشکل کا بیان ہے۔ صوفیاء کے نزدیک ہر شخص عشق کی حقیقت کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ خواجہ صاحب یہاں اپنے آپ کو عشق کے نکات کا سمجھنے والا کہتے ہیں، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ عشق کے راستے میں ایک گہری بصیرت رکھتے ہیں۔ عشق کے اسرار صرف ان پر ظاہر ہوتے ہیں جو اس کی حقیقت کو جانتے ہیں۔
Verse 4
Persian Verse
زاہد حد بخور که تو خامی و ما تمام
دانا نمی شوی تو
ب ّسر نہان عشق ِ
Urdu Translation
اے زاہد! اپنی حد میں رہو، تم ابھی ناپختہ ہو اور ہم مکمل ہیں، تم عشق کے چھپے ہوئے راز کو نہیں سمجھ سکتے۔
Difficult Words
زاہد
زاہد، وہ جو دنیاوی لذتوں سے کنارہ کش ہو
خام
ناپختہ، ناقص
نهان عشق
عشق کے چھپے ہوئے راز
Spiritual Meaning
یہ فارسی شعر زاہد اور عاشق کی دو مختلف روحانی حالتوں کو بیان کرتا ہے۔ زاہد وہ ہے جو دنیاوی ترک و تہذیب میں مصروف ہوتا ہے، لیکن عشق کے گہرے اور پوشیدہ رازوں کو سمجھنے کے قابل نہیں ہوتا۔ خواجہ صاحب یہاں زاہد کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ تم ابھی ناپختہ ہو اور عشق کی گہرائی کو نہیں سمجھ سکتے۔ عشق صوفیاء کے نزدیک ایک روحانی کمال ہے جو ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتا۔
Verse 5
Persian Verse
س ّریست عشق در دل ہرکس کہ جلوہ کرو
ٓاگاہ درزمان شود ازترجمان عشق
Urdu Translation
عشق ہر اُس دل میں ایک راز بن جاتا ہے جس میں وہ جلوہ کرتا ہے، اور وہ شخص عشق کی زبان سے واقف ہو جاتا ہے۔
Difficult Words
سّریست عشق
عشق ایک راز ہے
ترجمان عشق
عشق کی زبان
Spiritual Meaning
یہاں عشق کے پوشیدہ راز اور اس کے ظہور کا بیان ہے۔ صوفیانہ فلسفے کے مطابق عشق دل میں ایک راز کی طرح بستا ہے اور جب عشق دل میں ظاہر ہوتا ہے، تو سالک عشق کی زبان کو سمجھنے لگتا ہے۔ عشق کی زبان، محبت اور معرفت کی زبان ہے، جو صرف وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جن کے دل میں عشق کا نور ہوتا ہے۔
Verse 6
Persian Verse
ارض و سما حجاب رہ عشق نیست زانکه
وارستہ از مکان وهم ازالمکان عشق
Urdu Translation
زمین اور آسمان عشق کے لیے کوئی حجاب نہیں ہیں، کیونکہ عشق مکان اور المکان دونوں سے آزاد ہے۔
Difficult Words
ارض و سما
زمین اور آسمان
حجاب
پردہ، رکاوٹ
مکان و المکان
مادی جگہ اور غیر مادی جگہ
Spiritual Meaning
یہ فارسی شعر عشق کی لامحدودیت اور آفاقیت کا اظہار کرتا ہے۔ صوفیانہ فکر میں عشق زمان و مکان کی حدود سے ماورا ہوتا ہے، جہاں کوئی بھی مادی یا غیر مادی رکاوٹ اس کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی۔ یہ عشق دراصل اللہ کی محبت ہے، جو ہر رکاوٹ اور حد کو پار کر جاتی ہے۔ اس محبت کے دائرے میں مکان اور المکان دونوں شامل ہیں، اور کچھ بھی اس کی پہنچ سے باہر نہیں۔
Verse 7
Persian Verse
بنگر بیا بدیدٔہ باطن بہ قطب دین
کو فارغ از جهان شدہ اندر زمان عشق
Urdu Translation
اے قطب الدین! باطنی آنکھ سے دیکھ، وہ شخص جو عشق کے زمانے میں دنیا سے آزاد ہو چکا ہے۔
Difficult Words
دیدٔه باطن
باطنی آنکھ، روحانی بصیرت
فارغ از جهان
دنیا سے آزاد، دنیاوی تعلقات سے دور
زمان عشق
عشق کا وقت، عشق کا زمانہ
Spiritual Meaning
یہ فارسی شعر روحانی بصیرت اور عشق کی کیفیت کو بیان کرتا ہے۔ خواجہ قطب الدین یہاں نصیحت کرتے ہیں کہ سالک دنیا کو اپنی باطنی آنکھ سے دیکھے، کیونکہ عشق کی راہ پر چلنے والا شخص دنیاوی فکروں اور تعلقات سے آزاد ہو جاتا ہے۔ صوفیاء کے نزدیک عشق کا سفر انسان کو دنیاوی باتوں سے بلند کر دیتا ہے اور اسے ایک اعلیٰ روحانی مقام عطا کرتا ہے۔
کلام کا مرکزی خیال یہ ہے کہ عشق کی کیفیت انسان کو دنیاوی فکر و تعلقات سے آزاد کر دیتی ہے۔ خواجہ قطب الدین نصیحت کرتے ہیں کہ سالک کو دنیا اپنی باطنی آنکھ سے دیکھنا چاہیے، کیونکہ عشق کا سفر انسان کو روحانی بلندیوں تک پہنچاتا ہے اور اسے ایک اعلیٰ مقام عطا کرتا ہے۔ صوفیاء کے مطابق، عشق کی راہ پر چلنے والا شخص دنیاوی مشاغل سے بلند ہو کر اپنی روحانی حقیقت کو سمجھتا ہے۔