Kalam 330

THE DEWAN

Kalam 330

کلام 330
15 of 182 · Table of Contents
ٓامد بہار گشت دل سنگ خارہ شق
وزهم کشاد غنچۀ خوانخوار راورق

بس فیض دمبدم کہ زفیاض میرسد
رقاص گشتہ ہرطرفی سالکِ بحق

ٓانجا کہ سرکشان مئی عشق ہُو کشند
زاہد زتیرگی نتواند زدن نطق

ماکشتگان خنجر خونخواردلبریم
سرخی روی ماست ازان وجہ چون شفق

دیوانہ وار جامۀ جان چاک کردہ ایم
مجنون کجاست تابردازپیش ما سبق

حاسد اگرچه منکر ما گشته باک نیست
جز خار کے دمدز ِگل شوقناک وق

ازکوی یار پای نخواہد کشید باز
تا از حیات قطب دین باشد جوی رمق
Verse 1
Persian Verse
ٓامد بہار گشت دل سنگ خارہ شق
وزهم کشاد غنچۀ خوانخوار راورق
Urdu Translation
بہار آئی اور سنگ دل بھی شق ہو گیا، اور خون آشام غنچے کی پتی کھل گئی۔
Difficult Words
سنگ خارہ
سخت دل، پتھر جیسا دل
خوانخوار
خون آشام
Spiritual Meaning
خواجہ صاحب نے یہاں بہار کے آنے کو دل کی سختی کے دور ہونے کی علامت کے طور پر بیان کیا ہے۔ یہ فارسی شعر محبت کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے جو دل کی سختی کو توڑ کر محبت کی نئی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔
Verse 2
Persian Verse
بس فیض دمبدم کہ زفیاض میرسد
رقاص گشتہ ہرطرفی سالکِ بحق
Urdu Translation
فیاض سے مسلسل فیض پہنچتا ہے، اور ہر طرف حق کا سالک رقصاں ہو جاتا ہے۔
Difficult Words
فیاض
سخاوت والا، خدا
سالک بحق
حق کا راستہ اختیار کرنے والا
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے اللہ کی طرف سے مسلسل فیض کی بات کی ہے جو سالک کو عشق میں مست کر کے رقصاں کر دیتا ہے۔ یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ خدا کی رحمت اور فیض سالک کو عشق کی خوشی میں سرشار کر دیتا ہے۔
Verse 3
Persian Verse
ٓانجا کہ سرکشان مئی عشق ہُو کشند
زاہد زتیرگی نتواند زدن نطق
Urdu Translation
جہاں عشق کی شراب پینے والے ہو کا نعرہ بلند کرتے ہیں، زاہد وہاں اپنی تاریکی کی وجہ سے بول نہیں سکتا۔
Difficult Words
سرکشان مئی عشق
عشق کی شراب پینے والے
زاہد
عبادت گزار
نطق
بولنا
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے عشق کی حالت اور زاہد کی کیفیت کا فرق بیان کیا ہے۔ عشق کی مستی اور وجد کی کیفیت میں عاشق "ہو" کا نعرہ لگاتا ہے، جبکہ زاہد اپنی دنیاوی علم کی تاریکی کی وجہ سے اس مقام پر بولنے سے قاصر رہتا ہے۔
Verse 4
Persian Verse
ما کشتگان خنجر خونخوار دلبریم
سرخی روی ماست ازان وجه چون شفق
Urdu Translation
ہم محبت کے خون آشام خنجر سے مارے گئے ہیں، اور ہماری سرخی اسی وجہ سے شفق کی طرح ہے۔
Difficult Words
کشتگان خنجر
خنجر سے مارے جانے والے
شفق
شام کی سرخی
Spiritual Meaning
یہ فارسی شعر محبت کی شدت کو بیان کرتا ہے کہ عاشق محبت کے خنجر سے مجروح ہوتا ہے اور اس کی محبت کی سرخی اس کے چہرے پر شفق کی مانند نظر آتی ہے۔ یہ عشق کی قربانی اور اس کی نشانیاں ظاہر کرتا ہے۔
Verse 5
Persian Verse
دیوانہ وار جامۀ جان چاک کردہ ایم
مجنون کجاست تابردازپیش ما سبق
Urdu Translation
ہم نے دیوانہ وار اپنی جان کی قمیص چاک کی ہے، مجنوں کہاں ہے کہ وہ ہم سے سبقت لے جائے۔
Difficult Words
جامۀ جان
روح کی قمیص
سبق
سبقت، پہل
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے اپنی محبت کی شدت کو بیان کیا ہے کہ وہ دیوانگی کی حالت میں اپنے وجود کو فنا کر چکے ہیں۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ مجنوں بھی اس دیوانگی کی کیفیت میں ان سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔
Verse 6
Persian Verse
حاسد اگرچه منکر ما گشته باک نیست
جز خار کے دمد زِگل شوقناک وق
Urdu Translation
حسد کرنے والا اگرچہ ہمارا منکر بن جائے، ہمیں کوئی پرواہ نہیں، کیونکہ شوقناک زمین سے صرف خار ہی نکلتا ہے۔
Difficult Words
حاسد
حسد کرنے والا
گِل شوقناک
شوق سے بھری مٹی
وق
یقین، حقیقت
Spiritual Meaning
خواجہ صاحب نے یہاں حسد کرنے والوں کی مخالفت کو بے معنی قرار دیا ہے۔ وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ جس زمین میں عشق کی سچائی نہ ہو، وہاں سے خار ہی پیدا ہوتا ہے۔ عاشق کو ان باتوں کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔
Verse 7
Persian Verse
ازکوی یار پای نخواہد کشید باز
تا از حیات قطب دین باشد جوی رمق
Urdu Translation
یار کے کوچے سے قدم پیچھے نہیں ہٹے گا جب تک قطب الدین کی زندگی میں ذرا سی بھی رمق باقی ہے۔
Difficult Words
کوی یار
محبوب کا کوچہ
جوی رمق
زندگی کی ذرا سی رمق
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے اپنی محبت کی پختگی کو بیان کیا ہے کہ وہ محبوب کے کوچے سے اپنی محبت کے سفر کو ختم نہیں کریں گے جب تک ان میں زندگی کی رمق باقی ہے۔ یہ عشق کی استقامت اور وفاداری کی علامت ہے۔
اس کلام کا مرکزی خیال عشق کی دیوانگی، وفاداری، اور محبت کی قربانی ہے۔ خواجہ صاحب نے عشق کی شدت اور سچائی کو بیان کیا ہے کہ عاشق کی محبت میں وہ کیفیت ہوتی ہے جو زاہد کے بس کی بات نہیں۔ عشق کی راہ میں عاشق اپنی ذات کی قربانی دیتا ہے اور محبوب کے کوچے میں اپنی زندگی کا ہر لمحہ گزارتا ہے۔ خواجہ صاحب نے اس کلام میں عشقِ الٰہی کی شدت، سالکین کی حالتِ وجد، اور عشق میں فنا ہونے کی عظمت کو بیان کیا ہے۔ یہ عشق ہی ہے جو انسان کو دنیاوی پابندیوں اور حسد سے آزاد کر کے اللہ کے قرب کی طرف لے جاتا ہے۔
Quranic Reference 1
اور (اے حبیب!) آپ ان لوگوں کو خوشخبری سنا دیں جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے کہ ان کے لئے (بہشت کے) باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جب انہیں ان باغات میں سے کوئی پھل کھانے کو دیا جائے گا تو (اس کی ظاہری صورت دیکھ کر) کہیں گے: یہ تو وہی پھل ہے جو ہمیں (دنیا میں) پہلے دیا گیا تھا، حالانکہ انہیں (صورت میں) ملتے جلتے پھل دیئے گئے ہوں گے، ان کے لئے جنت میں پاکیزہ بیویاں (بھی) ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔
سورۃ البقرہ، آیت 25