Kalam 343
THE DEWAN
Kalam 343
کلام 343
ORIGINAL KALAM
گشتم ضعیف از غم ہجر تو چون ہالل
کز من نماند نقش نمونی بجز خیال
ہرکس کہ ٓارزوی وصال تو میکند
زارو نحیف باشد و باریک چون ہالل
خون مرا بریز ز شمشیر تیز عشق
وٓانگہ نما بعاشق مسکین خود جمال
این ره به قیل وقال به پایان نمیرسد
چون جاندہی بدوست ترا باشد اتصال
ازقیل وقال رہ بسوی حال کی بری
بیزار باش درره دلبر ز قیل و قال
دریک نفس بمیرو روان شو بسوی دوست
حاجت نباشدت بریاضت بماہ وسال
جان چیست بندراہ تو ای مرد پاکباز
بگذر ز جان کہ تا شودت عشق او حالل
درراہ دوست قطب دین ازجان گذشته است
زیرا که جان و دوست خیالے بود محال
کز من نماند نقش نمونی بجز خیال
ہرکس کہ ٓارزوی وصال تو میکند
زارو نحیف باشد و باریک چون ہالل
خون مرا بریز ز شمشیر تیز عشق
وٓانگہ نما بعاشق مسکین خود جمال
این ره به قیل وقال به پایان نمیرسد
چون جاندہی بدوست ترا باشد اتصال
ازقیل وقال رہ بسوی حال کی بری
بیزار باش درره دلبر ز قیل و قال
دریک نفس بمیرو روان شو بسوی دوست
حاجت نباشدت بریاضت بماہ وسال
جان چیست بندراہ تو ای مرد پاکباز
بگذر ز جان کہ تا شودت عشق او حالل
درراہ دوست قطب دین ازجان گذشته است
زیرا که جان و دوست خیالے بود محال
VERSES & EXPLANATIONS
Verse 1
Persian Verse
گشتم ضعیف از غم ہجر تو چون ہالل
کز من نماند نقش نمونی بجز خیال
کز من نماند نقش نمونی بجز خیال
Urdu Translation
میں تیرے ہجر کے غم سے اتنا کمزور ہو گیا ہوں جیسے ہلال کا چاند، اور مجھ میں صرف تمہاری یاد کا خیال باقی رہ گیا ہے۔
Difficult Words
- ہلال
- چاند کی ابتدائی حالت، جسے نیا چاند کہتے ہیں
- خیال
- یاد، تصور
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ اللہ کے ہجر کا غم عاشق کو کمزور اور نحیف کر دیتا ہے، جیسے نیا چاند ہوتا ہے۔ عاشق کے جسمانی ضعف کے باوجود اس کے دل میں محبوب کی یاد اور خیال زندہ رہتا ہے۔
Verse 2
Persian Verse
ہرکس کہ ٓارزوی وصال تو میکند
زارونخیف باشد و باریک چون ہالل
زارونخیف باشد و باریک چون ہالل
Urdu Translation
جو کوئی تیرے وصال کی تمنا کرتا ہے، وہ کمزور اور نحیف ہو جاتا ہے، جیسے نیا چاند۔
Difficult Words
- وصال
- اللہ کا قرب
- نخیف
- کمزور، نحیف
Spiritual Meaning
وصالِ الٰہی کی تمنا کرنے والا عاشق دنیاوی فتنوں سے کٹ کر اپنی ذات کو فنا کرتا ہے، اور اسی روحانی جدوجہد میں وہ کمزور اور نحیف ہو جاتا ہے۔
Verse 3
Persian Verse
خون مرا بریز ز شمشیر تیز عشق
وٓانگہ نما بعاشق مسکین خود جمال
وٓانگہ نما بعاشق مسکین خود جمال
Urdu Translation
میرے خون کو عشق کی تیز تلوار سے بہا دو، اور پھر اپنے عاشق کو اپنا جمال دکھاؤ۔
Difficult Words
- شمشیر تیز عشق
- عشق کی تیز تلوار
- جمال
- حسن، چہرہ
Spiritual Meaning
یہ فارسی شعر عشق میں فنا ہونے اور اللہ کے جمال کا مشاہدہ کرنے کی تمنا کو بیان کرتا ہے۔ عاشق چاہتا ہے کہ وہ عشق کی تلوار سے فنا ہو اور پھر اسے اللہ کا جمال دکھائی دے۔
Verse 4
Persian Verse
این رہ بقیل وقال بپایان نمیرسد
چون جاندہی بدوست ترا باشد اتصال
چون جاندہی بدوست ترا باشد اتصال
Urdu Translation
یہ راستہ قیل و قال سے ختم نہیں ہوتا، کیونکہ حقیقی منزل تک پہنچنے کے لیے اپنی جان دینا ضروری ہے۔
Difficult Words
- قیل و قال
- بے معنی باتیں، جھگڑے
- اتصال
- ملنا، وصال
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ عشق کی راہ پر دنیاوی جھگڑوں اور بحثوں سے نہیں بلکہ اپنی جان کو اللہ کے حوالے کر کے کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
Verse 5
Persian Verse
ازقیل وقال رہ بسوی حال کی بری
بیزار باش در ره دلبر ز قیل و قال
بیزار باش در ره دلبر ز قیل و قال
Urdu Translation
تم قیل و قال کے ذریعے روحانی حال تک نہیں پہنچ سکتے، لہذا دلبر کے راستے میں قیل و قال سے بچو۔
Difficult Words
- حال
- روحانی کیفیت، روحانی تجربہ
Spiritual Meaning
یہ فارسی شعر بتاتا ہے کہ دنیاوی بحث و مباحثہ روحانی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے، اور عاشق کو چاہیے کہ وہ دل کی پاکیزگی اور اللہ کی محبت پر توجہ دے۔
Verse 6
Persian Verse
در یک نفس بمیروروان شو بسوی دوست
حاجت نباشدت بریاضت بماہ وسال
حاجت نباشدت بریاضت بماہ وسال
Urdu Translation
ایک ہی سانس میں اپنی روح کو دوست کی طرف روانہ کر دو، تمہیں سالوں کی ریاضت کی ضرورت نہیں۔
Difficult Words
- ریاضت
- عبادت، محنت
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے بیان کیا کہ اللہ کے قرب کے لیے صرف خلوص نیت اور محبت درکار ہے۔ سالوں کی محنت کے بجائے سچی نیت ایک لمحے میں اللہ کا قرب دلا سکتی ہے۔
Verse 7
Persian Verse
جان چسیت بندراہ تو ای مرد پاکباز
بگذرز جان کہ تاشودت عشق او حالل
بگذرز جان کہ تاشودت عشق او حالل
Urdu Translation
اے پاکباز شخص! جان کیا ہے؟ اللہ کے راستے میں اپنی جان چھوڑ دو تاکہ اس کا عشق تم پر حلال ہو جائے۔
Difficult Words
- پاکباز
- خالص، پاک دل
- حلال
- جائز، درست
Spiritual Meaning
یہ فارسی شعر فنا فی اللہ کی اہمیت کو بیان کرتا ہے کہ جب انسان اپنی جان کو اللہ کی محبت میں قربان کرتا ہے، تو اللہ کا عشق اس کے لیے جائز اور ممکن ہو جاتا ہے۔
Verse 8
Persian Verse
درراہ دوست قطب دین ازجان گزشتہ است
زیراکہ جان و دوست خیالے بود محال
زیراکہ جان و دوست خیالے بود محال
Urdu Translation
اے قطب الدین! دوست کے راستے میں جان کی قربانی دینا لازمی ہے، کیونکہ جان اور اللہ کا ساتھ ایک ہی وقت میں رکھنا محال ہے۔
Difficult Words
- خیال محال
- ناقابل تصور، ناممکن
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب فرماتے ہیں کہ اللہ کی محبت میں مکمل فنا کے بغیر اللہ کا وصال حاصل نہیں ہو سکتا۔ عاشق کو اپنی جان اور خودی کو فنا کر کے ہی اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔
CENTRAL THEME
خواجہ صاحب نے اس کلام میں عشقِ الٰہی میں فنا، دنیاوی بحث و مباحثہ سے دور رہنے، اور اللہ کی محبت میں جان قربان کرنے کی اہمیت کو بیان کیا ہے۔
QURANIC REFERENCES
Quranic Reference 1
اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے جائیں انہیں ہرگز مردہ خیال (بھی) نہ کرنا، بلکہ وہ اپنے رب کے حضور زندہ ہیں، انہیں (جنت کی نعمتوں کا) رزق دیا جاتا ہے۔
سورۃ آل عمران، آیت 169
HADITH REFERENCES
Hadith Reference 1
تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے والدین، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔
صحیح بخاری، حدیث نمبر 15
