Kalam 357
THE DEWAN
Kalam 357
کلام 357
ORIGINAL KALAM
عنایتی کن و از قبل تیره بردارم
کہ من نجات ذلت بسی گرفتارم
بخاک پای خود ای یار نازنین که مرا
قبول درگه خود ساز و دور نگزارم
عنان دل چوبدست تو داده ام جانان
نگاه دار سر رشتہ راز اغیارم
بیاد ودر دل تنگم بجای جان بنشین
کہ بی جمال تواز عمر خویش بیزارم
حبیب گفت کہ امثال قطب دین خوبی
جواب دادکہ امثال بہتر از یارم
کہ من نجات ذلت بسی گرفتارم
بخاک پای خود ای یار نازنین که مرا
قبول درگه خود ساز و دور نگزارم
عنان دل چوبدست تو داده ام جانان
نگاه دار سر رشتہ راز اغیارم
بیاد ودر دل تنگم بجای جان بنشین
کہ بی جمال تواز عمر خویش بیزارم
حبیب گفت کہ امثال قطب دین خوبی
جواب دادکہ امثال بہتر از یارم
VERSES & EXPLANATIONS
Verse 1
Persian Verse
عنایتی کن و از خا ِک تیره بردارم
کہ من نجات زلت بسی گرفتارم
کہ من نجات زلت بسی گرفتارم
Urdu Translation
مجھ پر عنایت کر اور مجھے اس تاریک خاک سے اٹھا لے،
کہ میں ذلت کے گہرے دام میں پھنسا ہوا ہوں۔
کہ میں ذلت کے گہرے دام میں پھنسا ہوا ہوں۔
Difficult Words
- عنایتی کن
- مہربانی فرما
- خاک تیره
- تاریک مٹی، مراد ہے گناہوں یا پستی کی حالت
- نجات ز ذلت
- ذلت یا گناہ سے نجات
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے دعا کی کہ اللہ اسے اس تاریکی اور گناہوں سے نجات دے، اور اپنے فضل و کرم سے اسے بلند مقام عطا کرے۔ یہ انسان کی اس فطری طلب کا اظہار ہے کہ جب وہ اپنے گناہوں میں پھنسا ہوتا ہے، تو اللہ کی رحمت اور مدد کے ذریعے نجات کی خواہش کرتا ہے۔ عاشق اللہ سے دعا کرتا ہے کہ وہ اسے اپنی طرف بلائے اور اپنے فضل کے ذریعے اس کی روحانی بلندی کا سبب بنے۔
Verse 2
Persian Verse
بخاک پای خود ای یار نازنین کہ مرا
قبول درگہہ خود ساز و دور نگزارم
قبول درگہہ خود ساز و دور نگزارم
Urdu Translation
اے نازنین یار، مجھے اپنے قدموں کی خاک میں قبول فرما،
اور اپنی بارگاہ میں مجھے قبول کر کے دور نہ کر۔
اور اپنی بارگاہ میں مجھے قبول کر کے دور نہ کر۔
Difficult Words
- بخاک پای خود
- اپنے قدموں کی خاک میں
- درگہہ
- بارگاہ
- دور نگزارم
- دور نہ کر
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے اپنی عاجزی اور انکساری کا اظہار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ہے کہ اسے اپنی قربت میں قبول کر لے اور کبھی دور نہ کرے۔ عاشق اپنے محبوبِ حقیقی یعنی اللہ کے قدموں میں خاک کی مانند رہنا چاہتا ہے اور یہ دعا کرتا ہے کہ اسے ہمیشہ اپنی بارگاہ میں مقام عطا ہو۔ یہ اللہ سے تعلق، محبت اور عبدیت کی انتہا کی علامت ہے، جہاں بندہ اپنے آپ کو مکمل طور پر اللہ کی رضا کے تابع کر دیتا ہے۔
Verse 3
Persian Verse
عنان دل چو بدست تو داده ام جانان
نگاہ دار شر رشتہ را ز اغیارم
نگاہ دار شر رشتہ را ز اغیارم
Urdu Translation
اے جاناں، میں نے دل کی باگیں تیرے ہاتھ میں دے دی ہیں،
بس اب میرے دل کے رشتے کو غیروں کے شر سے محفوظ رکھ۔
بس اب میرے دل کے رشتے کو غیروں کے شر سے محفوظ رکھ۔
Difficult Words
- عنان دل
- دل کی باگیں، یعنی دل کی تمام توجہ اور اختیار
- نگاہ دار
- محفوظ رکھنا، حفاظت کرنا
- اغیار
- غیر، مراد ہے غیر متعلق چیزیں یا افراد
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے اللہ سے دعا کی کہ انہوں نے اپنے دل کو مکمل طور پر اللہ کی محبت میں سپرد کر دیا ہے، اور اللہ سے درخواست ہے کہ اسے غیر متعلقہ لوگوں اور دنیاوی تعلقات کے شر سے محفوظ رکھے۔ یہ کامل وفا اور استقامت کی دعا ہے، جہاں عاشق اپنے دل کو اللہ کی محبت میں ثابت قدم رکھنا چاہتا ہے تاکہ کوئی اور رشتہ یا فتنہ اس کے اور اس کے محبوبِ حقیقی کے درمیان نہ آئے۔
Verse 4
Persian Verse
بیاد و در دل تنگم بجای جان بنشین
کہ بی جمال تو از عمر خویش بیزارم
کہ بی جمال تو از عمر خویش بیزارم
Urdu Translation
آ کہ میرے تنگ دل میں جان کی جگہ پر بیٹھ جا،
کہ میں تیرے جمال کے بغیر اپنی زندگی سے بیزار ہوں۔
کہ میں تیرے جمال کے بغیر اپنی زندگی سے بیزار ہوں۔
Difficult Words
- دل تنگ
- تنگ دل، مراد ہے عشق میں بے قرار دل
- بیزارم
- بیزار ہوں، بے رغبتی یا عدم دلچسپی کا اظہار
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے اللہ سے اپنی محبت اور اس کی طلب کو اس طرح بیان کیا کہ دل اللہ کی محبت میں بے قرار اور تنگی محسوس کرتا ہے۔ عاشق کا دل اللہ کے جمال اور اس کی محبت کے بغیر اپنی زندگی سے بیزار ہو جاتا ہے۔ یہ اللہ کی محبت میں مکمل فنا کی ایک کیفیت کو بیان کرتا ہے جہاں عاشق کی حقیقی زندگی کا مقصد اور سکون صرف اللہ کی قربت اور جمال میں ہے۔
Verse 5
Persian Verse
حبیب گفت کہ امثال قطب دین خوبی
جواب داد کہ امثال بہتر از یارم
جواب داد کہ امثال بہتر از یارم
Urdu Translation
حبیب نے کہا کہ قطبِ دین جیسے لوگ خوبصورت ہیں،
جواب دیا کہ میرے یار سے بہتر کوئی مثال نہیں۔
جواب دیا کہ میرے یار سے بہتر کوئی مثال نہیں۔
Difficult Words
- حبیب
- دوست یا محبوب
- امثال
- مثالیں، خوبیاں
- قطب دین
- دین کا محور، اللہ کا ایک محب
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے ایک مکالمہ بیان کیا ہے جس میں ایک دوست کہتا ہے کہ قطبِ دین جیسے لوگ خوبصورت اور قابلِ تعریف ہیں، لیکن جواب میں عاشق کہتا ہے کہ میرے محبوب، یعنی اللہ، جیسی کوئی مثال نہیں ہے۔ یہ فارسی شعر اللہ کی محبت کی عظمت اور اس کے مقابلے میں دنیا کی تمام خوبصورتیوں کی نفی کا اظہار کرتا ہے۔ عاشق کو اپنے محبوبِ حقیقی کی خوبصورتی اور عظمت کے سامنے دنیا کا ہر شخص اور ہر خوبی کم لگتی ہے۔
CENTRAL THEME
یہ کلام قرآن کی اس آیت کی مفصل تفسیر ہے۔
QURANIC REFERENCES
Quranic Reference 1
بس (ملامت و گرفت کی) راہ صرف اُن کے خلاف ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق سرکشی و فساد پھیلاتے ہیں، ایسے ہی لوگوں کے لئے دردناک عذاب ہے۔
سورۃ الشوریٰ، 42:11
