Kalam 358

THE DEWAN

Kalam 358

کلام 358
43 of 182 · Table of Contents
جانان بیا که مهر تو از جان گزیدہ ام
بنشین درون دیده ام ای نور دیدہ ام

گشتم ضعیف و زار چوموی میان تو
از بس که بار محنت هجران کشیده ام

روز الست از کف تو باده خوردهُ ایم
غافل نیم چو چاشنی او چشیده ام

تا گشته ام جدا ز تو ای یار مهربان
روز خوشی ز گردش دوران ندیدهُ ام

بنمای رخ ز پرده کہ در انتظار تو
ہست وجود بکٓلے بریده ام ٔی از

در پردہ همچو غنچه مرو رخ چو گل نمای
کز دست دور ٔی تو گریبان دریده ام

دلبر شنید ناله و افغان قطب دین
نمبودروی خویش ازان ٓارمیدہ ام
Verse 1
Persian Verse
جانان بیا کہ مهر تو از جان گزیدهام
بنشین درون دیدهام ای نور دیدہام
Urdu Translation
اے جاناں، آ کہ میں نے تیری محبت کو اپنی جان سے بھی بڑھ کر پایا ہے،
میرے دیدہ دل میں بیٹھ جا، اے میری نگاہ کا نور۔
Difficult Words
جانان
محبوب، مراد ہے اللہ
از جان گزیدهام
جان سے زیادہ عزیز جانا ہے
نور دیدہام
میری آنکھوں کا نور
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب اللہ سے اپنی شدید محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کی محبت میرے لیے جان سے بھی بڑھ کر ہے۔ عاشق کی خواہش ہے کہ اللہ اس کے دل میں ہمیشہ کے لیے بس جائے، کیونکہ اللہ کی محبت اس کے لیے روشنی اور بصیرت کا باعث ہے۔ یہ عشقِ حقیقی کی بلند ترین حالت ہے جہاں عاشق اپنے محبوب کو اپنی زندگی اور روح میں جگہ دینے کی طلب رکھتا ہے۔
Verse 2
Persian Verse
گشتم ضعیف و زار چون موی میان تو
از بس که بار محنت هجران کشیدہام
Urdu Translation
میں تیرے کمر کے باریک بال کی طرح کمزور اور زار و نزار ہو گیا ہوں،
اس قدر کہ ہجر کی محنت کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے ناتواں ہو چکا ہوں۔
Difficult Words
ضعیف و زار
کمزور اور بے بس
موی میان
کمر کا باریک بال، جو انتہائی نزاکت اور کمزوری کا استعارہ ہے
محنت ہجران
جدائی کا کرب اور محنت
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے ہجر کے درد کو بیان کیا ہے جس نے ان کی حالت کو ناتواں اور زار و زبوں کر دیا ہے۔ محبوب کی جدائی میں عاشق کی کیفیت ایسی ہوتی ہے کہ وہ نہایت کمزور اور عاجز ہو جاتا ہے، جیسے کمر کا باریک بال ہوتا ہے۔ اللہ کی محبت میں یہ فراق عاشق کی زندگی کو مشکل اور ناتواں بنا دیتا ہے، اور وہ اللہ کی قربت کی خواہش میں مزید شدت سے اللہ کی جانب رجوع کرتا ہے۔
Verse 3
Persian Verse
روز الست از کف تو باده خوردهایم
غافل نیم چو چاشنی او چشیدهام
Urdu Translation
ہم نے روزِ الست تیرے ہاتھ سے بادہ (محبت) پی تھی،
میں غافل نہیں ہوں، کیونکہ اس کی چاشنی چکھی ہوئی ہے۔
Difficult Words
روز الست
"عہد الست" کا دن، جب اللہ نے انسانوں سے اپنے رب ہونے کا اقرار لیا
بادہ
شراب، یہاں محبت کی شراب مراد ہے
چاشنی
ذائقہ
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے روزِ الست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ کی محبت کی چاشنی انسان نے اس دن چکھی جب اللہ نے اپنی ربوبیت کا اقرار لیا۔ یہ وہ لمحہ ہے جس نے انسان کے دل میں اللہ کی محبت کا ایک لازوال اثر چھوڑا۔ عاشق کو اس محبت کا ذائقہ ہمیشہ یاد رہتا ہے، اور یہی اسے اللہ کی یاد سے غافل ہونے نہیں دیتا۔ یہ بیان اللہ سے کیے گئے ازلی عہد اور اس کی محبت کو انسانی روح کے اندر پیوست کرنے کا ہے۔
Verse 4
Persian Verse
تا گشتهام جدا ز تو ای یار مهربان
روز خوشی ز گردش دوران ندیدہام
Urdu Translation
جب سے میں تجھ سے جدا ہوا ہوں، اے مہربان یار،
تب سے گردشِ زمانہ میں خوشی کا کوئی دن نہیں دیکھا۔
Difficult Words
یار مهربان
مہربان دوست یا اللہ
روز خوشی
خوشی کا دن
گردش دوران
زمانے کی گردش، حالات کی تبدیلی
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے اللہ کی قربت سے محرومی کو بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب سے اللہ کی محبت اور قربت سے دوری ہوئی ہے، زندگی میں خوشی اور سکون کا کوئی لمحہ نہیں آیا۔ اللہ کی محبت میں فنا ہونے کے بعد عاشق کے لیے اس کی دوری شدید غم اور اداسی کا سبب بنتی ہے، اور وہ دنیا کی ہر خوشی سے بے نیاز ہو کر اپنے محبوب کی طرف لوٹنا چاہتا ہے۔
Verse 5
Persian Verse
در پردہ همچو غنچہ مرو، رخ چو گل نمای
کزدست دور ٔی تو گریبان دریدہام
Urdu Translation
پردے میں غنچے کی مانند مت چھپ، اپنا چہرہ گلاب کی طرح ظاہر کر،
کیونکہ تیری جدائی کی وجہ سے میں نے اپنا گریبان چاک کر رکھا ہے۔
Difficult Words
در پردہ
پردے میں، مراد ہے نظر سے اوجھل
رخ چو گل
گلاب کی مانند چہرہ
دوری تو
تیری دوری
گریبان دریدہام
گریبان چاک کر رکھا ہے، مراد ہے جدائی کا غم
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے اللہ سے التجا کی ہے کہ وہ اپنی تجلی کو عاشق پر ظاہر کرے اور اسے اپنے دیدار سے نوازے۔ اللہ کی قربت کے بغیر عاشق کا دل بے چین ہے، اور وہ اللہ کی محبت میں اضطراب کی حالت میں ہے۔ عاشق کی یہ کیفیت اللہ کی محبت میں فنا ہونے اور دیدار کی طلب کو ظاہر کرتی ہے، جہاں دوری کا غم اور انتظار عاشق کو بے چین کر دیتا ہے۔
Verse 6
Persian Verse
در پردہ همچو غنچہ مرو، رخ چو گل نمای
کزدست دور ٔی تو گریبان دریدہام
Urdu Translation
پردے میں غنچے کی مانند مت چھپ، اپنا چہرہ گلاب کی طرح ظاہر کر،
کیونکہ تیری جدائی کی وجہ سے میں نے اپنا گریبان چاک کر رکھا ہے۔
Difficult Words
در پردہ
پردے میں، مراد ہے نظر سے اوجھل
رخ چو گل
گلاب کی مانند چہرہ
دوری تو
تیری دوری
گریبان دریدہام
گریبان چاک کر رکھا ہے، مراد ہے جدائی کا غم
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے اللہ سے التجا کی ہے کہ وہ اپنی تجلی کو عاشق پر ظاہر کرے اور اسے اپنے دیدار سے نوازے۔ اللہ کی قربت کے بغیر عاشق کا دل بے چین ہے، اور وہ اللہ کی محبت میں اضطراب کی حالت میں ہے۔ عاشق کی یہ کیفیت اللہ کی محبت میں فنا ہونے اور دیدار کی طلب کو ظاہر کرتی ہے، جہاں دوری کا غم اور انتظار عاشق کو بے چین کر دیتا ہے۔
Verse 7
Persian Verse
دلبر شنید نالہ و افغان قطب دین
نمبود روی خویش ازان آرمیدہام
Urdu Translation
محبوب نے قطب دین کی نالہ و فریاد کو سنا،
اور میں نے اسی سے سکون پایا کہ وہ میرے قریب ہے۔
Difficult Words
دلبر
محبوب، مراد اللہ تعالیٰ
نالہ و افغان
غم اور فریاد
آرمیدہام
سکون پا گیا ہوں
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے اللہ سے اپنے گہرے تعلق کو بیان کیا ہے، جہاں اللہ کی محبت میں اس کی ہر فریاد اور آہ و بکا سنی جاتی ہے۔ عاشق کو یقین ہے کہ اس کا محبوب یعنی اللہ اس کی بات کو سنتا ہے، اور یہ قربت عاشق کے دل کو سکون اور طمانیت بخشتی ہے۔ اللہ کی طرف سے ملنے والا یہ سکون عاشق کو اس کے اضطراب سے آزاد کر دیتا ہے۔
یہ کلام آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کی تفسیر ہے:

سنن ابن ماجہ میں روایت کی گئی ہے، جس میں حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"دنیا سے بے رغبتی اختیار کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا، اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے بے نیاز ہو جاؤ، لوگ تم سے محبت کریں گے۔"

یہ حدیث دنیاوی مال و دولت سے بے نیازی اور قناعت کی تلقین کرتی ہے، اور اس بات پر زور دیتی ہے کہ اللہ کی محبت اور لوگوں کی عزت پانے کے لیے انسان کو سادگی اور قناعت اختیار کرنی چاہیے۔
Hadith Reference 1
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"دنیا سے بے رغبتی اختیار کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا، اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے بے نیاز ہو جاؤ، لوگ تم سے محبت کریں گے۔"

یہ حدیث دنیاوی مال و دولت سے بے نیازی اور قناعت کی تلقین کرتی ہے، اور اس بات پر زور دیتی ہے کہ اللہ کی محبت اور لوگوں کی عزت پانے کے لیے انسان کو سادگی اور قناعت اختیار کرنی چاہیے۔
سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 4102