Kalam 359

THE DEWAN

Kalam 359

کلام 359
44 of 182 · Table of Contents
عاقالن معذور دارندم من دیوانه ام
تابو صلش ٓاشنا گشتم زخود بیگانہ ام

یارہمچون گنج ٓامد دردل ویران نشست
گشت روشن از فروغ روی او کاشانہ ام

گشته ام رسوای عالم در غم عشقش به بین
میرود در مجلس ہر خاص و عالم فسانہ ام

نیستی باشد نشان عاشقان کوی او
بر سر کوی فنا باشد ازان روخانہ ام

بیخودی گر میکنم ای محتسب منعم مکن
کز شراب
پ شده پیمانه ام ُخم وحدت ر ِ

اہل ظاہر گر بصورت می پرستی میکنند
من بمعنی مست از جام مئی جانانہ ام

ٓاتش سودای دلبر قطب دین رابر گرفت
زان چو ٓاتش بیقرار از عشق او یکخانہ ام
Verse 1
Persian Verse
عاقالن معذور دارندم من دیوانہام
تا بوصالش آشنا گشتم ز خود بیگانہام
Urdu Translation
عاقلان مجھے معذور سمجھتے ہیں کہ میں دیوانہ ہوں،
جب سے اس کے وصال سے آشنا ہوا ہوں، اپنی ذات سے بیگانہ ہو چکا ہوں۔
Difficult Words
عاقلان
عقلمند لوگ
معذور دارند
معذور سمجھتے ہیں
دیوانہ
پاگل، عاشقانہ جنون میں مبتلا
بیگانہ
بیگانہ، اپنی ذات سے دور
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے عشق کی شدت کو بیان کیا ہے کہ عاشق اپنے محبوب کے وصال سے آشنا ہونے کے بعد اپنی ذات سے بیگانہ ہو جاتا ہے۔ اس حالت میں عقلمند لوگ اسے معذور سمجھتے ہیں کیونکہ وہ دنیاوی عقل و فہم سے بے نیاز ہو کر صرف اپنے محبوب کے عشق میں محو ہوتا ہے۔ یہ اللہ کی محبت میں فنا ہونے کا مقام ہے، جہاں عاشق کا ہر عمل اور ہر سوچ محبوب کی محبت میں ڈوبی ہوئی ہوتی ہے، اور دنیاوی فکر اس کے لیے بے معنی ہو جاتی ہے۔
Verse 2
Persian Verse
یار ہمچون گنج آمد در دل ویران نشست
گشت روشن از فروغ روی او کاشانہام
Urdu Translation
یار خزانے کی مانند میرے ویران دل میں آ بیٹھا،
اور اس کے چہرے کی روشنی سے میرا آشیانہ روشن ہو گیا۔
Difficult Words
گنج
خزانہ
دل ویران
ویران دل، یعنی عشق میں غمزدہ اور خالی دل
فروغ روی
چہرے کی روشنی
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے اللہ کے عشق میں عاشق کی کیفیت کو بیان کیا ہے کہ جب اللہ اس کے دل میں محبت اور قربت کی صورت میں آ بسے تو اس کا دل جو پہلے غم اور تنہائی سے ویران تھا، اللہ کے نور سے روشن ہو جاتا ہے۔ عاشق کے دل میں اللہ کی محبت کا خزانہ آ جانے سے اس کی روحانی زندگی میں روشنی اور سرور کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ یہ بیان اللہ کی قربت اور محبت کی وجہ سے عاشق کی زندگی میں آنے والی خوشی اور سکون کو ظاہر کرتا ہے۔
Verse 3
Persian Verse
گشتہام رسوای عالم در غم عشقش به بین
میرود در مجلس ہر خاص و عام فسانہام
Urdu Translation
میں اس کے عشق کے غم میں دنیا کے سامنے رسوا ہو چکا ہوں،
دیکھ کہ میرا ذکر ہر خاص و عام کی مجلس میں ایک کہانی بن کر جا رہا ہے۔
Difficult Words
رسوای عالم
دنیا کے سامنے رسوا ہونا
مجلس ہر خاص و عام
ہر کسی کی محفل، چاہے خاص ہو یا عام
فسانہ
داستان، کہانی
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے عشقِ الٰہی میں اپنی حالت کو بیان کیا ہے کہ کس طرح اللہ کی محبت میں سرشار عاشق اپنے جذبات اور کیفیات میں لوگوں کے سامنے رسوا ہوتا ہے۔ اس عشق کی شدت نے اسے ہر محفل میں ایک داستان بنا دیا ہے، جہاں خاص و عام لوگ اس کی کیفیت پر بات کرتے ہیں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ کا عشق بندے کو دنیا کی نظر میں دیوانہ بنا دیتا ہے اور وہ لوگوں کے درمیان مشہور ہو جاتا ہے، مگر عاشق کے لیے یہ رسوائی، عشق میں سرشار ہونے کا عکاس اور باعثِ فخر بن جاتی ہے۔
Verse 4
Persian Verse
نیستی باشد نشان عاشقان کوی او
بر سر کوی فنا باشد ازان رو خانہام
Urdu Translation
عدم (خود سے بیگانگی) عاشقانِ کویِ دوست کی نشانی ہے،
اسی لیے میرا آشیانہ کویِ فنا کے سر پر واقع ہے۔
Difficult Words
نیستی
فنا یا عدم، یعنی خودی کو مٹا دینا
کوی او
اس کے کوچے کی طرف، مراد اللہ کا قرب
کوی فنا
فنا کا راستہ، یعنی اپنے وجود کو مٹا دینا
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے اللہ کی محبت میں فنا کی منزل کو بیان کیا ہے۔ عاشق کے لیے حقیقی عشق کا راستہ اپنے وجود اور خودی کو مٹا کر اللہ میں فنا ہو جانا ہے۔ جو لوگ اللہ کے راستے کے عاشق ہوتے ہیں، ان کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنی ذات کو اللہ کی محبت میں فنا کر دیتے ہیں۔ یہ فنا فی اللہ کی وہ منزل ہے جس میں انسان اپنی تمام خواہشات اور خودی کو اللہ کی محبت کے لیے قربان کر دیتا ہے، اور یوں اس کا دل اللہ کی قربت کے آشیانے میں بسیرا کرتا ہے۔
Verse 5
Persian Verse
بیخوری گر میکنم ای محتسب منعم مکن
کز شراب
پ شده پیمانهام ُخم وحدت ر ِ
Urdu Translation
اے محتسب! اگر میں بے خودی میں ہوں، تو مجھے منع نہ کر،
کیونکہ میرے پیمانے کو وحدت کے مئے خُم نے لبریز کر دیا ہے۔
Difficult Words
بیخوری
بے خودی، مستی
محتسب
شراب پینے سے روکنے والا، یہاں مراد ہے دنیاوی رکاوٹیں یا نصیحت کرنے والا
شراب خُم وحدت
وحدت کے مئے خُم، یعنی اللہ کی وحدانیت اور قربت میں مستی
پیمانہ
پیمانہ یا دل
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے اللہ کی محبت اور اس کے عشق میں مستی کا ذکر کیا ہے۔ عاشق اللہ کی وحدانیت اور قربت کی مئے سے اس قدر سرشار ہے کہ اس کی حالت بے خودی کی سی ہو گئی ہے۔ اس حالت میں وہ محتسب یعنی دنیاوی روکنے والوں سے درخواست کرتا ہے کہ وہ اسے اس عشق کی مستی سے نہ روکیں، کیونکہ یہ مستی اللہ کی وحدانیت میں فنا ہونے سے پیدا ہوئی ہے۔ یہ بیان اس حقیقت کا عکاس ہے کہ اللہ کی محبت میں فنا ہونا بندے کو دنیاوی عقل و ہوش سے بے نیاز کر دیتا ہے۔
Verse 6
Persian Verse
اہل ظاہر گر بصورت میپرستی میکنند
من بمعنی مست از جام مے جانانہام
Urdu Translation
اہلِ ظاہر اگر ظاہری شکل کی عبادت میں مصروف ہیں،
تو میں حقیقت میں محبوب کے جام سے مست ہوں۔
Difficult Words
اہل ظاہر
ظاہری شکل و صورت پرست، مراد ہے ظاہری عبادت کرنے والے
بصورت میپرستی
ظاہری طور پر عبادت کرنا، صرف ظاہری شکل پر توجہ دینا
معنی
حقیقت یا باطنی معنی
مے جانانہ
محبوب کی محبت کی شراب، اللہ کی قربت کا نشہ
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے ظاہری اور باطنی عبادت میں فرق کو بیان کیا ہے۔ جو لوگ صرف ظاہری عبادات میں مشغول ہیں، ان کی عبادت محض رسم و رواج کی مانند ہے۔ جبکہ عاشق کی عبادت اس کے دل میں محبوب کی محبت اور قربت کی حقیقت سے لبریز ہے۔ عاشق اللہ کی محبت کی معنوی شراب میں مست ہے، اور اس کا عشق ظاہری رسوم و عبادات سے بالاتر ہے۔ یہ بیان اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ اللہ کی محبت میں مست عاشق کے لیے دنیاوی ظواہر کی بجائے اصل حقیقت اہمیت رکھتی ہے۔
Verse 7
Persian Verse
آتش سودی دلبر قطب دین را بر گرفت
زان چو آتش بیقرار از عشق او یک خانہام
Urdu Translation
آتشِ محبت نے قطبِ دین کو مکمل طور پر اپنی لپیٹ میں لے لیا،
اسی وجہ سے میں عشق میں بے قرار ایک آتش زدہ گھر کی مانند ہوں۔
Difficult Words
آتش سودی
محبت کی آگ
بر گرفت
اپنی لپیٹ میں لے لیا
بیقرار
بے چین، بے سکون
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے اللہ کی محبت کی شدت کو بیان کیا ہے کہ عاشق قطب دین کا دل محبوب کی محبت کی آگ میں اس طرح جل رہا ہے کہ وہ بے قرار اور بے چین ہو گیا ہے۔ اس کی کیفیت ایسے ہے جیسے ایک گھر آتش زدہ ہو اور ہر طرف بے قراری کی کیفیت ہو۔ اللہ کی محبت عاشق کو اندر سے جلا کر اسے اپنے عشق میں مست کر دیتی ہے، اور عاشق دنیاوی سکون اور تسلی سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔
یہ کلام قرآن کی اس آیت کی مفصل تفسیر ہے:

اردو ترجمہ: کنزالعرفان:
اور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو اللہ کی رضا تلاش کرنے کے لئے اپنی جان بیچ دیتا ہے اور اللہ بندوں پر بڑا مہربان ہے۔

سورۃ البقرۃ، آیت 207
Quranic Reference 1
اور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو اللہ کی رضا تلاش کرنے کے لئے اپنی جان بیچ دیتا ہے اور اللہ بندوں پر بڑا مہربان ہے۔
سورۃ البقرۃ، آیت 207 اردو ترجمہ: کنزالعرفان