Kalam 331
THE DEWAN
Kalam 331
کلام 331
ORIGINAL KALAM
اگر تو سالک عشقی بچستی و چاالک
بنه بخاک در دوست روی خود بر خاک
مجوز زاہد شہرای غریز ذوق حضور
کہ خود ندارد وباکس نخواہد ازامساک
بیابمیکدہ وہاد ہوی رندان بین
کہ میکنند گریبان زشوق دلبرچاک
نماند در دل ماغیر مہر تو چیزے
بیا که کرده ام از غیر خانۀ دل پاک
رقیب روسیہ آراز حد زند رہ ما
کرشمۀ ز تو گر باشد از رقیب چه باک
شنیدہ ام سخن خوش کہ قطب دین میگفت
ہرٓانکہ عشق نورزید نیتش ادراک
بنه بخاک در دوست روی خود بر خاک
مجوز زاہد شہرای غریز ذوق حضور
کہ خود ندارد وباکس نخواہد ازامساک
بیابمیکدہ وہاد ہوی رندان بین
کہ میکنند گریبان زشوق دلبرچاک
نماند در دل ماغیر مہر تو چیزے
بیا که کرده ام از غیر خانۀ دل پاک
رقیب روسیہ آراز حد زند رہ ما
کرشمۀ ز تو گر باشد از رقیب چه باک
شنیدہ ام سخن خوش کہ قطب دین میگفت
ہرٓانکہ عشق نورزید نیتش ادراک
VERSES & EXPLANATIONS
Verse 1
Persian Verse
اگر تو سالک عشقی بچستی و چاالک
بنه بخاک در دوست روزی خود بر خاک
بنه بخاک در دوست روزی خود بر خاک
Urdu Translation
اگر تو عشق کا سالک ہے اور چست و چالاک ہے، تو اپنے آپ کو دوست کے در پر ایک دن خاک میں ملا دے۔
Difficult Words
- سالک عشق
- عشق کا مسافر
- بنه بخاک
- خاک میں ملانا، عاجزی اختیار کرنا
Spiritual Meaning
خواجہ صاحب یہاں عشق کی راہ میں عاجزی اور خود سپردگی کی اہمیت بیان کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی سچے عشق کی راہ پر ہے، تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو خاک میں ملا دے، یعنی عاجزی اختیار کرے اور اپنے وجود کو محبوب کے در پر مکمل طور پر فنا کر دے۔
Verse 2
Persian Verse
مجوز زاہد شہرای غریز ذوق حضور
کہ خود ندارد وباکس نخواہد از امساک
کہ خود ندارد وباکس نخواہد از امساک
Urdu Translation
شہر کے زاہد کو ذوقِ حضور کی طلب نہیں ہے، کیونکہ اس کے پاس خود یہ ذوق نہیں اور وہ کسی کو بھی یہ دولت نہیں دے سکتا۔
Difficult Words
- زاہد
- عبادت گزار
- ذوق حضور
- حضوری کا لطف
- امساک
- روکنا، محروم رکھنا
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے زاہد کی کیفیت کو بیان کیا ہے کہ جو شخص خود حضوری کے ذوق سے محروم ہے، وہ دوسرے کو بھی اس مقام تک نہیں پہنچنے دیتا۔ یہ عشق کی راہ میں حضوری کی نعمت کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے، جو زاہد کے نصیب میں نہیں ہوتی۔
Verse 3
Persian Verse
بیاب میکدہ وہاد ہوی رندان بین
کہ میکنند گریبان زشوق دلبر چاک
کہ میکنند گریبان زشوق دلبر چاک
Urdu Translation
میکدہ میں آ اور آزاد رندوں کی ہوا دیکھ، کہ وہ دلبر کے شوق میں اپنی قمیص چاک کر رہے ہیں۔
Difficult Words
- میکدہ
- شراب خانہ، عشق کی محفل
- رند
- آزاد عاشق
- چاک
- چاک کرنا، پھاڑنا
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے عاشقوں کی دیوانگی کو بیان کیا ہے۔ عشق کی محفل میں عاشق اپنے محبوب کی محبت میں اپنی قمیصیں چاک کرتے ہیں، یہ دیوانگی اور عشق کی شدت کی علامت ہے۔
Verse 4
Persian Verse
نماند در دل ما غیر مہر تو چیزے
بیا که کرده ام از غیر خانۀ دل پاک
بیا که کرده ام از غیر خانۀ دل پاک
Urdu Translation
ہمارے دل میں تیری محبت کے سوا کچھ باقی نہیں رہا، آ کہ میں نے دل کو ہر غیر کی محبت سے پاک کر دیا ہے۔
Difficult Words
- مہر تو
- تیری محبت
- خانۀ دل پاک
- دل کا گھر صاف
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے اپنے دل کی کیفیت بیان کی ہے کہ انہوں نے اپنے دل کو ہر غیر کی محبت سے پاک کر کے محبوب کے لیے مخصوص کر دیا ہے۔ یہ عشق کی خالصیت اور محبت کی گہرائی کی عکاسی ہے۔
Verse 5
Persian Verse
رقیب روسیہ آراز حد زدنده ما
کرشمۀ ز تو گر باشد از رقیب چه باک
کرشمۀ ز تو گر باشد از رقیب چه باک
Urdu Translation
بدنصیب رقیب ہماری حد سے باہر ہے، اگر تیرا کرشمہ ہو تو ہمیں رقیب سے کیا خوف؟
Difficult Words
- رقیب روسیہ
- بد نصیب حاسد
- کرشمہ
- محبوب کی نظر کرم
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے عشق کی مستی اور محبوب کی نظر کرم کی طاقت کو بیان کیا ہے کہ اگر محبوب کا کرشمہ عاشق پر ہو تو رقیب کی حسد اور مخالفت عاشق پر اثر انداز نہیں ہو سکتی۔
Verse 6
Persian Verse
شنیدہ ام سخن خوش کہ قطب دین میگفت
ہرٓانکہ عشق نورزید نیتش ادراک
ہرٓانکہ عشق نورزید نیتش ادراک
Urdu Translation
میں نے قطب الدین سے ایک خوبصورت بات سنی، کہ جو شخص عشق نہ کرے، اس کی نیت میں شعور نہیں ہے۔
Difficult Words
- نورزید
- محبت نہ کی
- نیتش
- اس کی نیت، ارادہ یا خیال
- ادراک
- شعور، فہم، سمجھنے کی صلاحیت
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے عشق کی سچائی اور خلوص کو بیان کیا ہے کہ جو شخص عشق نہیں کرتا، اس کی نیت میں شعور کی کمی ہے۔ عشق انسان کی نیت کو مکمل اور پاکیزہ کرتا ہے۔
CENTRAL THEME
اس کلام کا مرکزی خیال عشق کی راہ میں عاجزی، حضوری کا ذوق، اور خالص محبت ہے۔ خواجہ صاحب نے عشق کی سچی راہ کو بیان کیا ہے جس میں دل کو ہر غیر سے پاک کرنا اور محبوب کے در پر خود کو فنا کر دینا شامل ہے۔ عشق کی اس راہ میں عاشق کو محبوب کی کرم نوازی اور حضوری کے ذوق کی ضرورت ہوتی ہے، جو زاہد کے بس کی بات نہیں۔ خواجہ صاحب نے اس کلام میں عشقِ الٰہی کی راہ میں عاجزی، اخلاص، اور دنیاوی حدود و قیود سے آزاد ہونے کی اہمیت کو بیان کیا ہے۔ سالک کو چاہیے کہ وہ اپنا دل اللہ کی محبت کے لیے پاک کرے اور ہر غیر کو دل سے نکال دے۔ عشق کے بغیر انسان حقیقی ادراک اور معرفت حاصل نہیں کر سکتا۔
QURANIC REFERENCES
Quranic Reference 1
اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام۔
سورۃ الفرقان، 25:63
