Kalam 332

THE DEWAN

Kalam 332

کلام 332
17 of 182 · Table of Contents
دانی چراست گنج نهان در تہ مغاک
یعنے که باد بر سر اسباب دہر خاک

نااہل عاشقست درین دہربی ثبات
تو برطریق خویش روؤورزعشق پاک

در راه عشق خلق جهان دشمن ار شوند
چون یار یار باشدت از دشمنان چه باک

خواہی کہ یار پردہ زدیدار خود برو
رو همچو گل تو جامه جان ساز چاک چاک

وانکس که جرعۀ پخیشد از شراب وصل
در زیر بار محنت هجران شود ہالک

میدان که هرکه شربت وصلش چشیده است
بیزار باشد از می خمخانه ہای تاک

ای قطب دین اگر تواز اہل عالمتی
کودر فراق یار ترآاہ دردناک
Verse 1
Persian Verse
دانی چراست گنج نهان در تہ مغاک
یعنی کہ باد بر سر اسباب دہر خاک
Urdu Translation
کیا تم جانتے ہو کہ خزانہ تہہ مغاک (گہرائی) میں کیوں چھپا ہوا ہے؟ یعنی دنیا کے اسباب کے اوپر تو بس خاک ہے۔
Difficult Words
گنج نهان
چھپا ہوا خزانہ
مغاک
گہرا گڑھا، استعارے کے طور پر دنیا کی گہرائی
باد بر سر اسباب دہر خاک
دنیاوی اسباب پر خاک اڑنا، دنیا کی بے ثباتی
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب دنیا کی بے ثباتی اور اس کے عارضی ہونے کو بیان کر رہے ہیں۔ دنیا کے اسباب محض عارضی ہیں اور ان پر وقت کی مٹی اڑتی ہے۔ اصل خزانہ، جو عشقِ الٰہی ہے، دنیاوی چیزوں کی گہرائیوں میں چھپا ہوا ہے۔
Verse 2
Persian Verse
نااہل عاشقست درین دہربی ثبات
تو بر طریق خویش روؤ ورز عشق پاک
Urdu Translation
یہ دنیا عشق کے لیے اہل نہیں ہے اور بے ثبات ہے، تم اپنے راستے پر چلو اور پاک عشق کو اپناؤ۔
Difficult Words
نااہل عاشق
ناتجربہ کار یا نامناسب عاشق
دہر بی ثبات
دنیا یا زمانہ جو غیر مستقل ہے، یعنی فانی اور ناپائیدار
ورز عشق پاک
پاکیزہ عشق کرو یا پاک محبت کو اپناؤ
Spiritual Meaning
خواجہ صاحب فرماتے ہیں کہ دنیا کی فانی اور بے وفا چیزوں میں حقیقی عشق نہیں پایا جاتا۔ اصل کامیابی اسی میں ہے کہ انسان اپنے راستے پر چلے اور خالص عشقِ الٰہی کو اپنائے۔
Verse 3
Persian Verse
در راه عشق خلق جهان دشمن از شوند
چون یار یار باشدت از دشمنان چه باک
Urdu Translation
عشق کی راہ میں دنیا کے لوگ تمہارے دشمن بن جائیں گے، لیکن جب تمہارا یار تمہارے ساتھ ہو تو دشمنوں کی کیا پرواہ؟
Difficult Words
در
میں / اندر
شوند
ہو جائیں، فعل „شدن“ سے
یار
دوست / محبوب
باک
پروا / خوف
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ عشق کی راہ میں مخالفتیں اور دشمنیاں آئیں گی، لیکن جب اللہ کا ساتھ ہو تو کوئی دشمن نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اللہ کے ساتھ کا ہونا سب سے بڑی قوت ہے۔
Verse 4
Persian Verse
خواہی کہ یار پردہ زدیدار خود برو
رو همچو گل تو جامه جان ساز چاک چاک
Urdu Translation
اگر تم چاہتے ہو کہ یار تم سے پردہ اٹھا دے، تو تم بھی پھول کی طرح اپنی جان کا لباس چاک کر دو۔
Difficult Words
خواہی
تم چاہتے ہو
ز دیدار
دیدار سے، ملاقات یا چہرہ دیکھنے سے
همچو گل
پھول کی طرح
جامه جان
روح کا لباس، مراد دل یا وجود
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب عشق میں فنا ہونے کی بات کر رہے ہیں۔ عاشق کو اپنی ذات کو فنا کرنا ہوگا، تبھی محبوب کا دیدار ممکن ہے۔ یہ فنا فی اللہ کی حالت ہے جہاں انسان کی اپنی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔
Verse 5
Persian Verse
وانکس که جرعه پخیشد از شراب وصل
در زیر بار محنت هجران شود ہالک
Urdu Translation
جو وصال کی شراب کا ایک گھونٹ بھی نہیں پیتا، وہ ہجر کی محنت کے بوجھ تلے ہلاک ہو جاتا ہے۔
Difficult Words
وانکس
اور وہ شخص / جو
جرعه
گھونٹ، شراب کا گھونٹ بطور استعارہ
نچشید
نہیں پیا
شراب وصل
ملاقات یا وصل کی شراب، محبوب سے ملاپ
بار محنت ہجران
جدائی کے غم اور تکلیف کا بوجھ
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب وصال کی لذت کو بیان کرتے ہیں کہ جو وصال کی کیفیت تک نہیں پہنچتا، وہ ہجر کے غم اور تکلیف میں مبتلا رہتا ہے اور آخرکار ہلاک ہو جاتا ہے۔
Verse 6
Persian Verse
میدان کہ هرکه شربت وصلش چشیده است
بیزار باشد از می خمخانه ہای تاک
Urdu Translation
جان لو کہ جس نے وصال کا شربت چکھ لیا، وہ دنیا کی شراب خانوں سے بیزار ہو جاتا ہے۔
Difficult Words
شربت وصل
محبوب سے ملنے کی خوشی یا لطف
بیزار
ناپسند کرنا یا دور رہنا
می خمخانه
شراب، شراب خانہ میں ملنے والی شراب
تاک
انگور کی بیل، جو شراب بنانے کے لیے استعمال ہوتی ہے
Spiritual Meaning
خواجہ صاحب بیان کر رہے ہیں کہ وصالِ الٰہی کا تجربہ انسان کو دنیاوی لذتوں سے بے نیاز کر دیتا ہے۔ جو اللہ کا قرب حاصل کرتا ہے، اس کے لیے دنیاوی شراب اور نشے کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔
Verse 7
Persian Verse
ای قطب دین اگر تو از اهل عالمتی
کودر فراق یار ترا ٓاہ دردناک
Urdu Translation
اے قطب الدین! اگر تم اہل عشق میں سے ہو تو تمہاری آہ فراق یار میں ہونی چاہیے۔
Difficult Words
عالمتی
نشانیوں والا، یعنی وہ جو کسی خاص صفت یا خصوصیت کی نشاندہی کرے
کودر
„کہ اُدھر“ کا قدیم یا فارسی شعری استعمال؛ یہاں مراد ہے „کہ جب“
فراق
جدائی یا دوری
آہ
درد یا دکھ سے نکلی ہوئی سانس یا آواز
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ قطب الدین نصیحت کر رہے ہیں کہ حقیقی عاشق وہی ہے جو فراق میں سچی آہیں بھرتا ہے۔ فراق کا درد عاشق کے لیے ایک علامت ہے کہ وہ اپنے محبوب کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
خواجہ صاحب نے اس کلام میں عشقِ الٰہی کی اہمیت، دنیا کی بے ثباتی، اور وصال و ہجر کی کیفیات کو بیان کیا ہے۔ عاشق کو چاہیے کہ وہ دنیا کی فانی چیزوں کو چھوڑ کر اپنے محبوب کی طرف رجوع کرے اور اپنی ذات کو فنا کر کے وصالِ الٰہی کی طرف بڑھے۔
Quranic Reference 1
جان لو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل اور تماشا ہے اور ظاہری آرائش ہے اور آپس میں فخر اور خود ستائی ہے اور ایک دوسرے پر مال و اولاد میں زیادتی کی طلب ہے۔
سورۃ الحدید، 57:20