Kalam 336
THE DEWAN
Kalam 336
کلام 336
ORIGINAL KALAM
گر تو خواهی دلبرت در راه خود گردو دلیل
نفس خود را داراندر راہ او خوار و ذلیل
ِن
دشمنا اشنار ورا تو در ملک وجود
سربسر گردن بزن تا دلبرت گردو خلیل
جان فدای یار باید کرو پیش از اتصال
جا خود گر نیستی مرد بخیل ِن ہان برافشان
رای بنود وصال ٓانچنان یاری کہ اوست ٔگان
دادہ اند بسیار مردان جان شیرین زین قبیل
دست خود از جان بشو در راه وصلش مردوار
جان خود را بر سگان کوی جانان کن سبیل
تونہ پنداری کہ مروان وصل ٓاسان یافتند
ہیچکس را نیست ٓاسان ٓاشنائی باخلیل
قطب دین دیدار خواہی بربالیش صبر کن
در رہ او نیست چیزی بهتر از صبر جمیل
نفس خود را داراندر راہ او خوار و ذلیل
ِن
دشمنا اشنار ورا تو در ملک وجود
سربسر گردن بزن تا دلبرت گردو خلیل
جان فدای یار باید کرو پیش از اتصال
جا خود گر نیستی مرد بخیل ِن ہان برافشان
رای بنود وصال ٓانچنان یاری کہ اوست ٔگان
دادہ اند بسیار مردان جان شیرین زین قبیل
دست خود از جان بشو در راه وصلش مردوار
جان خود را بر سگان کوی جانان کن سبیل
تونہ پنداری کہ مروان وصل ٓاسان یافتند
ہیچکس را نیست ٓاسان ٓاشنائی باخلیل
قطب دین دیدار خواہی بربالیش صبر کن
در رہ او نیست چیزی بهتر از صبر جمیل
VERSES & EXPLANATIONS
Verse 1
Persian Verse
گر تو خواہی دلبرت در راه خود گردو دلیل
نفس خود را دارند راہ و خوار و ذلیل
نفس خود را دارند راہ و خوار و ذلیل
Urdu Translation
اگر تم اپنے دلبر کو پانا چاہتے ہو اور اس راستے میں راہبر بننا چاہتے ہو، تو اپنے نفس کو ذلیل اور حقیر بنا لو۔
Difficult Words
- خواہی
- چاہنا
- دلبرت
- تیرا محبوب یا معشوق
- دلیل
- رکاوٹ، حائل
- نفس
- خودی، انا، اپنی خواہشات
- دارند راہ
- راستہ چھوڑ دینا
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے عشقِ الٰہی کے راستے میں نفس کی مخالفت اور اس کی ذلت کو بیان کیا ہے۔ انسان کو اپنی خواہشات اور نفسانی جھکاؤ کو قابو میں رکھنا چاہیے تاکہ وہ اللہ کا قرب حاصل کر سکے۔
Verse 2
Persian Verse
ِن
دشمنا اشنار ورا تو در ملک وجود
سربسر گردن بزن تا دلبرت گرد و خلیل
دشمنا اشنار ورا تو در ملک وجود
سربسر گردن بزن تا دلبرت گرد و خلیل
Urdu Translation
اپنے وجود کے ملک میں دشمنوں کو پہچان اور ان کی گردن مار، تاکہ تمہارا دلبر تمہارے قریب ہو جائے۔
Difficult Words
- اشنار
- اجنبی یا مخالفین؛ وہ لوگ جو دشمن یا ناپسندیدہ ہیں
- ملکِ وجود
- وجود کی دنیا؛ زندگی کی دنیا
- سربسر گردن بزن
- سب کے سر قلم کر دو؛ ہر مخالف کو ختم کر دو
- دلبرت
- محبوب؛ جسے دل عزیز ہو
- خلیل
- دوست یا مخلص دوست
Spiritual Meaning
یہاں "دشمنان" سے مراد وہ رکاوٹیں ہیں جو سالک کے دل اور اللہ کی محبت کے درمیان آتی ہیں۔ خواجہ صاحب فرماتے ہیں کہ ان دشمنوں کو ختم کرنا ضروری ہے تاکہ دلبر (اللہ) کا قرب حاصل ہو۔
Verse 3
Persian Verse
جان فدای یار باید کرد پیش از اتصال
جا خود گر نیستی مرد بخیل ِن ہان برافشان
جا خود گر نیستی مرد بخیل ِن ہان برافشان
Urdu Translation
وصل سے پہلے اپنی جان کو یار کے لیے قربان کرنا ضروری ہے۔ اپنی جان کو نچھاور کرو اگر تم بخیل مرد نہیں ہو۔
Difficult Words
- فدای یار
- اپنی جان کو اپنے محبوب یا دوست کے لیے قربان کرنا
- باید کرد
- کرنا چاہیے یا لازمی ہے
- اتصال
- ملنا یا پہنچنا
- ہان برافشان
- پکار اور جذبے کے ساتھ نچھاور یا بکھیر دینا
- جا خود
- اپنی جان، یعنی اپنی زندگی
- مرد بخیل
- کنجوس آدمی یا وہ شخص جو دوسروں کے لیے کچھ خرچ نہیں کرتا
Spiritual Meaning
خواجہ صاحب نے یہاں عشق میں فنا ہونے کی اہمیت کو بیان کیا ہے۔ وصالِ الٰہی حاصل کرنے سے پہلے انسان کو اپنی جان اور خواہشات کو اللہ کے لیے قربان کرنا پڑتا ہے۔
Verse 4
Persian Verse
رایگان بنود وصال ٓانچنان یاری کہ اوست
وادہ اند بسیار مردان جان شیرین زین قبیل
وادہ اند بسیار مردان جان شیرین زین قبیل
Urdu Translation
یار کا وصال آسانی سے نہیں ملتا، اور بہت سے لوگوں نے اپنی جانیں اس راستے میں نچھاور کر دی ہیں۔
Difficult Words
- رایگان
- مفت یا بے قیمت
- بنود
- بنیادی یا عناصر؛ یہاں وصال کے تناظر میں محبت یا ملن
- آنچنان
- ایسا یا اس طرح
- وادہ
- وعدہ
- بسیار
- بہت زیادہ
- مردان
- لوگ یا مرد
- قبیل
- اس قسم یا اس قبیل کا
Spiritual Meaning
وصالِ الٰہی آسان نہیں ہوتا۔ بہت سے سالکین نے اپنی زندگیوں کو عشقِ الٰہی میں قربان کیا ہے، اور یہ قربانی کے بغیر حاصل نہیں ہوتا۔
Verse 5
Persian Verse
دست خود از جان بشودر راہ وصلش مردوار
جان خود را بر سکان کوی جانان کن سبیل
جان خود را بر سکان کوی جانان کن سبیل
Urdu Translation
مردانہ وار اپنی جان کو اللہ کی راہ میں قربان کرو، اور اپنی جان کو محبوب کی گلی میں نچھاور کر دو۔
Difficult Words
- بشودر
- علیحدہ کر / الگ کر
- وصل
- ملنا / وصال
- مردوار
- مشکل
- کوی
- گلی / راستہ
- سبیل
- راستہ / وسیلہ
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب سالک کو نصیحت کر رہے ہیں کہ اپنی زندگی اللہ کی محبت میں فنا کرو اور کسی قسم کی غفلت یا بخل کو اس راستے میں نہ آنے دو۔
Verse 6
Persian Verse
تو نہ پنداری کہ مروان وصل ٓاسان یافتند
ہیچکس راغیت ٓاسان ٓاشنائی باخلیل
ہیچکس راغیت ٓاسان ٓاشنائی باخلیل
Urdu Translation
تم یہ مت سمجھو کہ اللہ کے دوستوں نے آسانی سے وصال حاصل کر لیا، کسی نے بھی آسانی سے دوست (اللہ) کی معرفت حاصل نہیں کی۔
Difficult Words
- پنداری
- سمجھنا یا خیال کرنا
- وصل
- ملاقات یا اتحاد، محبت میں
- یافتند
- حاصل کرنا یا پانا
- ہیچکس
- کوئی بھی شخص یا کوئی بھی آدمی
- راغیت
- دوستی یا آشنائی
Spiritual Meaning
خواجہ صاحب نے یہاں اللہ کے راستے میں محنت اور جدوجہد کی اہمیت کو بیان کیا ہے۔ اللہ کے مقربین نے سخت جدوجہد کے بعد اللہ کا قرب حاصل کیا ہے۔
Verse 7
Persian Verse
قطب دین دیدار خواہی بربالیش صبر کن
در رہ او نیست چیزی بهتر از صبر جمیل
در رہ او نیست چیزی بهتر از صبر جمیل
Urdu Translation
اے قطب الدین! اگر تم دیدار چاہتے ہو تو اس کی بلاؤں پر صبر کرو، کیونکہ اس کے راستے میں صبر جمیل سے بہتر کوئی چیز نہیں۔
Difficult Words
- در رہ
- راستے میں
- نیست
- نہیں ہے
- چیزی
- کوئی چیز یا شے
- صبر جمیل
- خوبصورت صبر، یعنی نیک نیتی اور اچھے اخلاق کے ساتھ صبر
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب صبر کی فضیلت کو بیان کر رہے ہیں کہ عشقِ الٰہی کے راستے میں صبر سب سے اعلیٰ صفت ہے۔ صبر جمیل، یعنی خوبصورت صبر، اللہ کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔
CENTRAL THEME
خواجہ صاحب نے اس کلام میں نفس کے خلاف جہاد، قربانی، اور صبر کی اہمیت کو بیان کیا ہے۔ سالک کو چاہیے کہ وہ اپنے نفس کو قابو میں رکھے اور اللہ کی راہ میں قربانیاں دے۔ وصالِ الٰہی کا حصول قربانی اور صبر کے بغیر ممکن نہیں۔
QURANIC REFERENCES
Quranic Reference 1
اور جو لوگ ہمارے حق میں جہاد (یعنی مجاہدہ) کرتے ہیں تو ہم یقیناً انہیں اپنی (طرف سیر اور وصول کی) راہیں دکھا دیتے ہیں، اور بے شک اللہ صاحبانِ احسان کو اپنی معیت سے نوازتا ہے۔
اور جو لوگ ہماری راہ میں کوشش کرتے ہیں، ہم ضرور ان کو اپنے راستے دکھائیں گے۔
اور جو لوگ ہماری راہ میں کوشش کرتے ہیں، ہم ضرور ان کو اپنے راستے دکھائیں گے۔
سورۃ العنکبوت، 29:69
HADITH REFERENCES
Hadith Reference 1
صبر سے بہتر کوئی تحفہ نہیں ہے۔
یہ حدیث صبر کی فضیلت کو بیان کرتی ہے، خاص طور پر آزمائشوں اور مشکلات کے وقت میں صبر کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں صبر ایک اعلیٰ مقام رکھتا ہے، اور یہ اللہ کے محبوب بندوں کی خاص نشانی ہے۔
یہ حدیث صبر کی فضیلت کو بیان کرتی ہے، خاص طور پر آزمائشوں اور مشکلات کے وقت میں صبر کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں صبر ایک اعلیٰ مقام رکھتا ہے، اور یہ اللہ کے محبوب بندوں کی خاص نشانی ہے۔
