Kalam 337
THE DEWAN
Kalam 337
کلام 337
ORIGINAL KALAM
راحت دل چیست ز دلبر وصال
زندگیش هست بدو اتصال
هرکس بنگر که چسان می زید
ٓادمی ازہمت و مرغان ببال
ہمت عالی بنگر مرد وار
هردوجهان میکند او پایمال
بیم نند ارم که به دوزخ روم
گرنہ نمائی بہ بہشتم جمال
کیست که او طالب دیدار غیست
یکسر مونیست درین قیل و قال
در صفتش فہم کچاپے برد
عقل شدہ گنگ خرد گشتہ الل
بگذر ازہست ٰی خودای قطب دین
ہستی توچیست خیال محال
زندگیش هست بدو اتصال
هرکس بنگر که چسان می زید
ٓادمی ازہمت و مرغان ببال
ہمت عالی بنگر مرد وار
هردوجهان میکند او پایمال
بیم نند ارم که به دوزخ روم
گرنہ نمائی بہ بہشتم جمال
کیست که او طالب دیدار غیست
یکسر مونیست درین قیل و قال
در صفتش فہم کچاپے برد
عقل شدہ گنگ خرد گشتہ الل
بگذر ازہست ٰی خودای قطب دین
ہستی توچیست خیال محال
VERSES & EXPLANATIONS
Verse 1
Persian Verse
راحت دل چیست ز دلبر وصال
زندگیش هست بدو اتصال
زندگیش هست بدو اتصال
Urdu Translation
دل کی راحت کیا ہے؟ دلبر (اللہ) کا وصال۔ زندگی کی حقیقت اسی کے وصال میں پوشیدہ ہے۔
Difficult Words
- دلبر
- محبوب، اللہ کی طرف اشارہ
- وصال
- ملاقات، قربت
- اتصال
- جڑنا، اللہ کی قربت حاصل کرنا
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے وصالِ الٰہی کو زندگی کی اصل قرار دیا ہے۔ اللہ کی قربت ہی دل کی اصل راحت ہے، اور یہی حقیقی زندگی ہے۔
Verse 2
Persian Verse
هرکس بنگر که چسان می زید
ٓادمی از ہمت و مرغان ببال
ٓادمی از ہمت و مرغان ببال
Urdu Translation
دیکھو کہ ہر انسان کیسے زندہ رہتا ہے، کیونکہ پرندے بھی اپنی ہمت اور پرواز سے جیتے ہیں۔
Difficult Words
- چسان می زید
- کس طرح زندگی گزار رہا ہے
- مرغان ببال
- پرندے اپنی پرواز سے
Spiritual Meaning
یہ فارسی شعر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ زندگی میں ہمت اور بلند ارادے کی ضرورت ہے۔ جیسے پرندے اپنی پرواز کے ذریعے اپنی زندگی گزارتے ہیں، اسی طرح انسان کو بھی ہمت اور محنت کے ساتھ اپنی زندگی گزارنی چاہیے۔
Verse 3
Persian Verse
ہمت عالی بنگر مرد وار
هردوجهان میکند او پایمال
هردوجهان میکند او پایمال
Urdu Translation
مردانہ وار بلند ہمت کو دیکھو، وہ دونوں جہانوں کو اپنے قدموں تلے رکھ لیتا ہے۔
Difficult Words
- ہمت عالی
- بلند حوصلہ
- پایمال
- قدموں تلے روندنا، قابو پانا
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے بلند ہمت اور حوصلے کی تعریف کی ہے کہ جو شخص ہمت اور ارادے سے کام لیتا ہے، وہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کرتا ہے۔
Verse 4
Persian Verse
بیم نند ارم که به دوزخ روم
گرنہ نمائی بہ بہشتم جمال
گرنہ نمائی بہ بہشتم جمال
Urdu Translation
مجھے خوف ہے کہ میں جہنم میں نہ جاؤں، اگر تو مجھے اپنے جمال کا دیدار نہ بخشے۔
Difficult Words
- به دوزخ
- جہنم میں
- بہشم جمال
- اللہ کا نورانی دیدار
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب اللہ کے جمال کے دیدار کی اہمیت کو بیان کر رہے ہیں۔ وہ اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ اللہ کی محبت اور قربت کے بغیر انسان جہنم کی طرف بڑھ سکتا ہے۔
Verse 5
Persian Verse
کیست که او طالب دیدار غیست
یکسر مونیست درین قیل و قال
یکسر مونیست درین قیل و قال
Urdu Translation
کون ہے جو اللہ کے دیدار کا طالب ہو، اور جو ان جھگڑوں اور باتوں سے دور ہو۔
Difficult Words
- دیدار غسیت
- اللہ کا دیدار
- قیل و قال
- بے مقصد باتیں، دنیاوی جھگڑے
Spiritual Meaning
خواجہ صاحب یہاں اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اللہ کا قرب اور دیدار ان لوگوں کو ملتا ہے جو دنیاوی جھگڑوں اور فتنوں سے دور رہتے ہیں اور اپنی توجہ اللہ کی طرف رکھتے ہیں۔
Verse 6
Persian Verse
در صفتش فہم کجا پے برد
عقل شدہ گنگ خرد گشتہ الل
عقل شدہ گنگ خرد گشتہ الل
Urdu Translation
اس کی صفت کو عقل نہیں سمجھ سکتی، اور عقل گونگی ہو جاتی ہے اور دانائی خاموش ہو جاتی ہے۔
Difficult Words
- فہم
- عقل، سمجھ
- گنگ
- خاموش
- خرد
- دانائی
Spiritual Meaning
یہ فارسی شعر اللہ کی عظمت اور اس کے فہم کی گہرائی کو بیان کرتا ہے کہ انسانی عقل اللہ کی حکمتوں اور فیصلوں کو مکمل طور پر سمجھنے سے قاصر ہے۔
Verse 7
Persian Verse
بگذر از هستئ خود ای قطب دین
هستی توچیست خیال محال
هستی توچیست خیال محال
Urdu Translation
اے قطب الدین! اپنی ہستی کو چھوڑ دو، کیونکہ تمہاری ہستی محض ایک وہم اور خیال ہے۔
Difficult Words
- هستی
- وجود، خودی
- خیال محال
- غیر ممکن خیال، وہم
Spiritual Meaning
خواجہ صاحب یہاں فنا فی اللہ کی تعلیم دے رہے ہیں کہ سالک کو اپنی ذات کو فنا کر دینا چاہیے تاکہ وہ اللہ کے قریب ہو سکے۔ انسانی وجود محض ایک فانی اور غیر حقیقی چیز ہے۔
CENTRAL THEME
خواجہ صاحب نے اس کلام میں اللہ کے وصال کی اہمیت، بلند ہمت، اور دنیاوی فتنوں سے بچنے کی نصیحت کی ہے۔ انسان کو اپنی ذات اور نفس کی خواہشات کو ختم کر کے اللہ کی قربت حاصل کرنی چاہیے۔ مذکورہ آیات و احادیث اس بات پر زور دیتے ہیں کہ دل کی حقیقی راحت اور زندگی کی اصل معنویت اللہ سے محبت اور اس سے قربت میں ہے۔ مؤمنین کی زندگی کا مقصد اللہ سے جڑنا اور اس کی محبت میں زندگی گزارنا ہے۔
QURANIC REFERENCES
Quranic Reference 1
اور لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا شریک بناتے ہیں، ان سے ایسی محبت کرتے ہیں جیسی اللہ سے کرنی چاہیے، اور جو ایمان والے ہیں وہ اللہ سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔
اس آیت میں مؤمنین کی اللہ سے محبت کی شدت کا ذکر ہے، جو ان کی زندگی کا مرکز ہے۔
اس آیت میں مؤمنین کی اللہ سے محبت کی شدت کا ذکر ہے، جو ان کی زندگی کا مرکز ہے۔
سورۃ البقرہ، آیت 165
HADITH REFERENCES
Hadith Reference 1
تین چیزیں جس میں ہوں، وہ ایمان کی مٹھاس پاتا ہے: کہ اللہ اور اس کا رسول اسے سب سے زیادہ محبوب ہوں...
اس حدیث میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کی اہمیت بیان کی گئی ہے، جو دل کی راحت اور زندگی کا حقیقی مقصد ہے۔
اس حدیث میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کی اہمیت بیان کی گئی ہے، جو دل کی راحت اور زندگی کا حقیقی مقصد ہے۔
صحیح بخاری، حدیث نمبر 16
