Kalam 349
THE DEWAN
Kalam 349
کلام 349
ORIGINAL KALAM
تویی کہ جلوہ دہی صورت گل و بلبل
توئی که خویش عیان می شوی به صورت گل
بہر لباس کہ خواہی ہمیکنی جلوہ
گہی بحسن گل و گہہ بکسوت بلبل
دگر نقاب ز رخسار خویش برفگنی
زجان جملہ خالئق برٓاوری غلغل
زسنگ خارہ برون ٓاوری گل تازہ
به باغ سرو سہی را تو میدہی کاکل
عنایت توز روز ازل ُبدش همراه
کہ شد باسم تو موصوف صاحب ُدلدل
تویی که فیض تو عام ست برہمہ اشیا
توئی کہ قدرتت ازگل بر ٓاورد سنبل
جدا ز تو نرود سوی باغ قطب الدین
کہ بی تواش نکشاید گرہ ز ساغر مل
توئی که خویش عیان می شوی به صورت گل
بہر لباس کہ خواہی ہمیکنی جلوہ
گہی بحسن گل و گہہ بکسوت بلبل
دگر نقاب ز رخسار خویش برفگنی
زجان جملہ خالئق برٓاوری غلغل
زسنگ خارہ برون ٓاوری گل تازہ
به باغ سرو سہی را تو میدہی کاکل
عنایت توز روز ازل ُبدش همراه
کہ شد باسم تو موصوف صاحب ُدلدل
تویی که فیض تو عام ست برہمہ اشیا
توئی کہ قدرتت ازگل بر ٓاورد سنبل
جدا ز تو نرود سوی باغ قطب الدین
کہ بی تواش نکشاید گرہ ز ساغر مل
VERSES & EXPLANATIONS
Verse 1
Persian Verse
تویی که جلوه دهی صورت گل و بلبل
توئی که خویش عیان میشوی به صورت گل
توئی که خویش عیان میشوی به صورت گل
Urdu Translation
تو ہی ہے جو گل اور بلبل کی صورت کو جلوہ عطا کرتا ہے،
اور تو ہی اپنی ذات کو گل کی صورت میں ظاہر کرتا ہے۔
اور تو ہی اپنی ذات کو گل کی صورت میں ظاہر کرتا ہے۔
Difficult Words
- جلوه دهی
- جلوہ دینا، مراد حسن کا اظہار
- صورت گل و بلبل
- پھول اور بلبل کی شکل، مراد حسن اور عشق کی علامت
- خویش عیان
- اپنی ذات کو ظاہر کرنا
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے خدا کی تخلیقی طاقت اور حسن کے مظاہر کو بیان کیا ہے۔ خدا اپنی قدرت کو کائنات کی ہر خوبصورت شے میں ظاہر کرتا ہے۔
Verse 2
Persian Verse
بهر لباس که خواهی همیکنی جلوه
گہی بحسن گل و گہ به کسوت بلبل
گہی بحسن گل و گہ به کسوت بلبل
Urdu Translation
تو جس لباس میں چاہے جلوہ کرتا ہے،
کبھی پھول کی زینت میں، اور کبھی بلبل کے لباس میں۔
کبھی پھول کی زینت میں، اور کبھی بلبل کے لباس میں۔
Difficult Words
- بهر لباس
- کسی بھی شکل یا حالت میں
- سجن گل
- پھول کی زینت، مراد خوبصورتی
- کسوت بلبل
- بلبل کے لباس، مراد نغمہ سرائی یا محبت
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے خدا کی ہمہ گیر موجودگی کو بیان کیا ہے۔ خدا اپنی مخلوقات میں مختلف شکلوں اور مظاہر کے ذریعے ظاہر ہوتا ہے۔
Verse 3
Persian Verse
دگر نقاب ز رخسار خویش برفگنی
ز جان جملہ خالئق بر آوری غلغل
ز جان جملہ خالئق بر آوری غلغل
Urdu Translation
جب تو اپنے چہرے سے نقاب ہٹا دیتا ہے،
تو تمام مخلوقات کی جان سے شور و غل بلند ہوتا ہے۔
تو تمام مخلوقات کی جان سے شور و غل بلند ہوتا ہے۔
Difficult Words
- نقاب ز رخسار
- چہرے سے پردہ
- غلغل
- شور و غوغا، مراد وجد اور حیرت کا اظہار
- خالئق
- مخلوقات
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے خدا کی تجلی کو بیان کیا ہے۔ جب خدا اپنی قدرت کو ظاہر کرتا ہے تو ساری کائنات حیرت اور شکر میں ڈوب جاتی ہے۔
Verse 4
Persian Verse
ز سنگ خاره برون آوری گل تازه
به باغ سرو سهی را تو میدهی کاکل
به باغ سرو سهی را تو میدهی کاکل
Urdu Translation
تو پتھر سے تازہ پھول نکال لاتا ہے،
اور باغ میں سرو کے درخت کو زلفیں عطا کرتا ہے۔
اور باغ میں سرو کے درخت کو زلفیں عطا کرتا ہے۔
Difficult Words
- سنگ خاره
- سخت پتھر
- گل تازه
- تازہ پھول، مراد نئی زندگی
- سرو سهی
- سرو کا درخت، مراد خوبصورتی اور سربلندی
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے خدا کی تخلیقی طاقت کو بیان کیا ہے۔ خدا زندگی کو ایسی جگہوں سے بھی وجود میں لاتا ہے جہاں امید نہیں ہوتی، اور کائنات کو حسن سے نوازتا ہے۔
Verse 5
Persian Verse
عنایت تو ز روز ازل بدش همراه
که شد باسم تو موصوف صاحب ُدلدل
که شد باسم تو موصوف صاحب ُدلدل
Urdu Translation
تیری عنایت روزِ ازل سے اس کے ساتھ رہی،
جس نے تیرے نام سے صاحبِ دلدل ہونے کا شرف پایا۔
جس نے تیرے نام سے صاحبِ دلدل ہونے کا شرف پایا۔
Difficult Words
- عنایت
- مہربانی، فضل
- صاحب دلدل
- حضرت علیؓ، دلدل ان کے گھوڑے کا نام تھا
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے خدا کی رحمت کا ذکر کیا ہے، جو روزِ ازل سے اس کے محبوب بندوں کے ساتھ رہی۔ حضرت علیؓ کو خدا کے فضل سے عظیم مرتبہ ملا۔
Verse 6
Persian Verse
تویی که فیض تو عام است بر همه اشیا
تویی که قدرتت از گل بر آورد سنبل
تویی که قدرتت از گل بر آورد سنبل
Urdu Translation
تو ہی ہے جس کا فضل تمام اشیاء پر عام ہے،
اور تو ہی ہے جو پھول سے سنبل نکالتا ہے۔
اور تو ہی ہے جو پھول سے سنبل نکالتا ہے۔
Difficult Words
- فیض تو عام است
- تیرا فضل سب کے لیے ہے
- سنبل
- ایک خوشبودار پھول، مراد کمالِ حسن
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے خدا کی قدرت اور فضل کو بیان کیا ہے، جو کائنات کی ہر شے کو اس کے کمال تک پہنچاتا ہے۔
Verse 7
Persian Verse
جدا ز تو نرود سوی باغ قطب الدین
که بی تو اش نکشاید گره ز ساغر مل
که بی تو اش نکشاید گره ز ساغر مل
Urdu Translation
اے قطب الدین، وہ باغ کی طرف نہ جائے جو تجھ سے جدا ہو،
کیونکہ تیرے بغیر مئے کے پیالے کی گرہ نہیں کھلتی۔
کیونکہ تیرے بغیر مئے کے پیالے کی گرہ نہیں کھلتی۔
Difficult Words
- ساغر مل
- مئے کا پیالہ، مراد روحانی معرفت
- گره نکشاید
- گرہ نہ کھلنا، مراد مشکلات حل نہ ہونا
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے خدا کی محبت کو ہر کامیابی کی کنجی قرار دیا ہے۔ خدا کے بغیر روحانی معرفت اور سکون حاصل نہیں ہو سکتا۔
CENTRAL THEME
یہ اشعار خدا کی قدرت، اس کی تخلیقی حکمت، اور محبت کے اظہار پر مبنی ہیں۔ خواجہ صاحب نے خدا کو کائنات کی تمام خوبصورتی اور زندگی کی بنیاد قرار دیا ہے۔ خدا کی رحمت اور فضل ہر جگہ موجود ہیں، اور اس کی محبت کے بغیر انسان کامیاب نہیں ہو سکتا۔
یہ اشعار اللہ کی صفات، اس کے جلوے اور اس کے ساتھ عاشقانہ تعلق کو بیان کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر جگہ اور ہر شے میں جلوہ گر ہے، اور ایک سچا عاشق اسے ہر صورت میں محسوس کرتا ہے اور اس کی محبت میں فنا ہو جاتا ہے۔
یہ اشعار اللہ کی صفات، اس کے جلوے اور اس کے ساتھ عاشقانہ تعلق کو بیان کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر جگہ اور ہر شے میں جلوہ گر ہے، اور ایک سچا عاشق اسے ہر صورت میں محسوس کرتا ہے اور اس کی محبت میں فنا ہو جاتا ہے۔
QURANIC REFERENCES
Quranic Reference 1
اور مشرق و مغرب (سب) اللہ ہی کا ہے، پس تم جدھر بھی رخ کرو ادھر ہی اللہ کی توجہ ہے (یعنی ہر سمت ہی اللہ کی ذات جلوہ گر ہے)، بیشک اللہ بڑی وسعت والا سب کچھ جاننے والا ہے۔
سورۃ البقرہ، آیت 115
Quranic Reference 2
اور زمین میں یقین کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔
یہ آیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں زمین کی ہر چیز میں موجود ہیں، اور وہ اپنی مخلوقات کے ذریعے اپنی صفات کا اظہار کرتا ہے۔
یہ آیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں زمین کی ہر چیز میں موجود ہیں، اور وہ اپنی مخلوقات کے ذریعے اپنی صفات کا اظہار کرتا ہے۔
سورۃ الذاریات، آیت 20
HADITH REFERENCES
Hadith Reference 1
بے شک اللہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔
یہ حدیث اس بات کو بیان کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ خوبصورتی کا مظہر ہے اور اپنی مخلوقات میں خوبصورتی کے ذریعے اپنی صفات کا اظہار کرتا ہے۔
یہ فارسی شعر اور مذکورہ آیات و احادیث اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات، جیسے گل اور بلبل، کے ذریعے اپنی صفات اور خوبصورتی کا اظہار کرتا ہے۔ ہر چیز میں اللہ کی نشانیاں موجود ہیں، اور وہ اپنی مخلوقات کے ذریعے خود کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ حدیث اس بات کو بیان کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ خوبصورتی کا مظہر ہے اور اپنی مخلوقات میں خوبصورتی کے ذریعے اپنی صفات کا اظہار کرتا ہے۔
یہ فارسی شعر اور مذکورہ آیات و احادیث اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات، جیسے گل اور بلبل، کے ذریعے اپنی صفات اور خوبصورتی کا اظہار کرتا ہے۔ ہر چیز میں اللہ کی نشانیاں موجود ہیں، اور وہ اپنی مخلوقات کے ذریعے خود کو ظاہر کرتا ہے۔
صحیح مسلم، حدیث نمبر 91
