Kalam 348
THE DEWAN
Kalam 348
کلام 348
ORIGINAL KALAM
ندارم از دوجہان ہیچ غیر ازین دردل
کہ تیغ عشق زند مرغ جان من بسمل
زکوی یار سفر چون کنم کہ نتوانم
کہ پای من بسر کوی او نشستہ بگل
مراکہ از دو جہان جزورش پناہی نیست
کجا روم سر کوئی کراکنم منزل
مراز عمر غرنیر انیقدر بس ست اگر
بعاشقان سر کوی او شوم داخل
گر تو مرد رہی قطب دین و طالب دوست
بروتوہستی خودرا زیکد گر بگسل
کہ تیغ عشق زند مرغ جان من بسمل
زکوی یار سفر چون کنم کہ نتوانم
کہ پای من بسر کوی او نشستہ بگل
مراکہ از دو جہان جزورش پناہی نیست
کجا روم سر کوئی کراکنم منزل
مراز عمر غرنیر انیقدر بس ست اگر
بعاشقان سر کوی او شوم داخل
گر تو مرد رہی قطب دین و طالب دوست
بروتوہستی خودرا زیکد گر بگسل
VERSES & EXPLANATIONS
Verse 1
Persian Verse
ندارم از دوجہان ہیچ غیر ازین دردل
کہ تیغ عشق زند مرغ جان من بسمل
کہ تیغ عشق زند مرغ جان من بسمل
Urdu Translation
مجھے دونوں جہانوں سے کچھ نہیں چاہیے، میرے دل میں صرف یہ خواہش ہے کہ عشق کی تلوار میرے دل کی پرندے کو فنا کر دے۔
Difficult Words
- تیغ عشق
- عشق کی تلوار، اللہ کی محبت کی شدت
- مرغ جان
- دل کی پرندہ، روح کی علامت
- بسمل
- زخمی ہونا، عشق میں فنا ہونا
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ سچے عاشق کا دل صرف اللہ کی محبت کی تلوار سے فنا ہونے کی خواہش رکھتا ہے۔ دونوں جہانوں کی چاہت اس کے لیے بے معنی ہے۔
Verse 2
Persian Verse
زکوی یار سفر چون کنم کہ نتوانم
کہ پای من بسر کوی او نشستہ بگل
کہ پای من بسر کوی او نشستہ بگل
Urdu Translation
یار کے کوچے سے کیسے سفر کروں، جب کہ میرے قدم اس کی محبت کی مٹی میں جکڑے ہوئے ہیں۔
Difficult Words
- کوی یار
- محبوب کا کوچہ، اللہ کی محبت
- نشستہ بگل
- مٹی میں دھنسا ہوا، محبت میں ڈوبا ہوا
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب فرماتے ہیں کہ عاشق اللہ کے راستے سے دور نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کے دل کی ہر سوچ اور عمل اللہ کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
Verse 3
Persian Verse
مراکہ از دو جہان جزورش پناہی نیست
کجا روم سر کوئی کراکنم منزل
کجا روم سر کوئی کراکنم منزل
Urdu Translation
مجھے دونوں جہانوں سے اللہ کے سوا کوئی پناہ نہیں، میں اور کہاں جا سکتا ہوں اور کس کے در کو منزل بناؤں؟
Difficult Words
- پناہ
- حفاظت، سکون کی جگہ
- منزل
- ٹھکانہ، قیام کی جگہ
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ اللہ کے قرب کے علاوہ عاشق کو کہیں بھی حقیقی پناہ یا آرام میسر نہیں آتا، اسی لیے وہ ہمیشہ اللہ ہی کی طرف رجوع کرتا ہے۔
Verse 4
Persian Verse
مراز عمر غرنیر انیقدر بس ست اگر
بعاشقان سر کوی او شوم داخل
بعاشقان سر کوی او شوم داخل
Urdu Translation
میری عمر میں اگر یہ نصیب ہو کہ میں اس کے عاشقوں کے کوچے میں شامل ہو جاؤں تو یہی میرے لیے کافی ہے۔
Difficult Words
- غره
- گھمنڈ، فخر
- کوی
- کوچہ، راستہ
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ عاشق کے لیے سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ اللہ کے خاص بندوں کی جماعت میں شامل ہو جائے۔
Verse 5
Persian Verse
گر تو مرد رہی قطب دین و طالب دوست
بروتوہستی خودرا زیکد گر بگسل
بروتوہستی خودرا زیکد گر بگسل
Urdu Translation
اے قطب الدین! اگر تو اللہ کا طالب اور سچے راستے کا مرد بننا چاہتا ہے تو اپنی ہستی کو ترک کر دے۔
Difficult Words
- مرد رہی
- سچے راستے کا مسافر
- بگسل
- توڑنا، ترک کرنا
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب فرماتے ہیں کہ جو اللہ کے قرب کا خواہشمند ہو، اسے چاہیے کہ اپنی خودی کو اللہ کی راہ میں فنا کر دے۔
CENTRAL THEME
خواجہ صاحب کے اس کلام میں اللہ کی محبت اور اس کی راہ میں فنا ہونے کی عظمت کو خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔ عاشق کی اصل آرزو یہی ہے کہ وہ اللہ کے محبوبین کی صف میں شامل ہو جائے اور اللہ کے قرب میں اپنی ذات کو فنا کر دے۔ اللہ کے سچے عاشق وہ ہیں جو اپنی زندگی اور تکبر کو اللہ کے راستے پر قربان کر چکے ہیں۔ عاشق کے لیے سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ اللہ کے پیاروں کے درمیان ایک خاص مقام حاصل کرے۔ اس کی تمنا یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے محبوب کے قریب پہنچے، اس کی گلی میں قدم رکھے، اور اس کی قربت کی روحانیت میں گم ہو جائے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں عشق اور فنا آپس میں مدغم ہو جاتے ہیں، اور عاشق اپنی ذات کو مٹا کر محبوب کی رضا میں شامل ہو جاتا ہے۔ خواجہ صاحب کا مقصد یہ ہے کہ عشقِ حقیقی کا راستہ اسی کو نصیب ہوتا ہے جو اللہ کی محبت میں اپنی ذات کو فنا کر دے۔
HADITH REFERENCES
Hadith Reference 1
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قیامت کے بارے میں پوچھا: "قیامت کب آئے گی؟" نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
"تم نے اس کے لیے کیا تیار کیا ہے؟"
اس شخص نے عرض کیا: "کچھ نہیں، سوائے اس کے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں۔"
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
"تم اسی کے ساتھ ہو گے جس سے تم محبت رکھتے ہو۔"
انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کو سن کر جتنے خوش ہوئے، اتنے کبھی نہ ہوئے تھے، کیونکہ اس قول سے ہمیں امید ملی کہ ہم نبی کریم، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم کے ساتھ ہوں گے، چاہے ہمارے اعمال ان جیسے نہ ہوں۔
"تم نے اس کے لیے کیا تیار کیا ہے؟"
اس شخص نے عرض کیا: "کچھ نہیں، سوائے اس کے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں۔"
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
"تم اسی کے ساتھ ہو گے جس سے تم محبت رکھتے ہو۔"
انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کو سن کر جتنے خوش ہوئے، اتنے کبھی نہ ہوئے تھے، کیونکہ اس قول سے ہمیں امید ملی کہ ہم نبی کریم، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم کے ساتھ ہوں گے، چاہے ہمارے اعمال ان جیسے نہ ہوں۔
صحیح بخاری، حدیث نمبر 3688
