Kalam 354
THE DEWAN
Kalam 354
کلام 354
ORIGINAL KALAM
ٓانچنان رفتٔہ رخسار بت خویشتنم
کہ ندارم سرمو ٔی خبراز خود کہ منم
بوی او می شنوم دم بدم از گلشن جان
ننگ ٓاید دگرا زنا فٔہ مشک ختنم
ہر کسی در بدر اندر طلب یوسف حسن
سر زده از دل من یوسف گل پیرهنم
نه رود یک نفس از ملکٔ وجودم بیرون
خود سخن می کند از فهم کسی یک سخنم
تا شگفتہ گل رویش به گلستان دلم
ِ کی کشد دل
سو هر باغ بگشت چمنم
نام آن را ز سر صدق ایا همنفسان
چون بمیرم، نہ نویسید بروی کفنم
تابرا فروختہ درا نجمن جان ٓاتش
قطب دین سوخٔتہ ٓاتش ٓان انجمنم
کہ ندارم سرمو ٔی خبراز خود کہ منم
بوی او می شنوم دم بدم از گلشن جان
ننگ ٓاید دگرا زنا فٔہ مشک ختنم
ہر کسی در بدر اندر طلب یوسف حسن
سر زده از دل من یوسف گل پیرهنم
نه رود یک نفس از ملکٔ وجودم بیرون
خود سخن می کند از فهم کسی یک سخنم
تا شگفتہ گل رویش به گلستان دلم
ِ کی کشد دل
سو هر باغ بگشت چمنم
نام آن را ز سر صدق ایا همنفسان
چون بمیرم، نہ نویسید بروی کفنم
تابرا فروختہ درا نجمن جان ٓاتش
قطب دین سوخٔتہ ٓاتش ٓان انجمنم
VERSES & EXPLANATIONS
Verse 1
Persian Verse
آنچنان رفتٔہ رخسار بت خویشتنم
کہ ندارم سر مو ٔی خبر از خود کہ منم
کہ ندارم سر مو ٔی خبر از خود کہ منم
Urdu Translation
میں اپنے محبوب کے چہرے میں اس قدر محو ہو گیا ہوں،
کہ مجھے اپنے آپ کی ذرا سی بھی خبر نہیں رہی کہ میں کون ہوں۔
کہ مجھے اپنے آپ کی ذرا سی بھی خبر نہیں رہی کہ میں کون ہوں۔
Difficult Words
- رخسار بت
- محبوب کا چہرہ
- سر مو ٔی خبر
- بال برابر بھی خبر
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ جب عاشق اپنے محبوب کے جمال میں مکمل طور پر گم ہو جاتا ہے تو اسے اپنے وجود کی کوئی خبر باقی نہیں رہتی۔ یہ فنا فی اللہ کی منزل ہے، جہاں بندہ اللہ کی محبت میں اتنا غرق ہو جاتا ہے کہ اس کی اپنی خودی اور انا مٹ جاتی ہے۔ یہ وہ حالت ہے جس میں عاشق خود کو بھول کر مکمل طور پر محبوب کی محبت میں جذب ہو جاتا ہے۔
Verse 2
Persian Verse
بوی او میشنوم دمبدم از گلشن جان
ننگ آید دگر از َنَفٔہ مشک ختنم
ننگ آید دگر از َنَفٔہ مشک ختنم
Urdu Translation
میں اپنی جان کے گلشن سے ہر لمحہ اس کی خوشبو محسوس کرتا ہوں،
اور اب ختن کے مشک کی خوشبو مجھے کمتر محسوس ہوتی ہے۔
اور اب ختن کے مشک کی خوشبو مجھے کمتر محسوس ہوتی ہے۔
Difficult Words
- بوی او
- اس کی خوشبو، مراد ہے محبوب کی روحانی خوشبو
- گلشن جان
- جان یا دل کا باغ
- َنَفٔہ مشک ختن
- ختن کی مشک کی خوشبو، جو نایاب اور قیمتی سمجھی جاتی ہے
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ اللہ کی محبت اور قربت کی خوشبو دل کے باغ سے مسلسل محسوس ہوتی ہے، جس سے دنیاوی خوشبوئیں اور لذتیں ماند پڑ جاتی ہیں۔ یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ جب دل اللہ کی محبت میں بسا ہوا ہو تو دنیا کی تمام لذتیں اور خوشبوئیں بے معنی محسوس ہونے لگتی ہیں۔ اللہ کا ذکر اور اس کی قربت ہی عاشق کے لیے اصل سکون اور خوشبو بن جاتی ہے۔
Verse 3
Persian Verse
ہر کسی در بدر اندر طلب یوسف حسن
سر زده از دل من یوسف گل پیرهنم
سر زده از دل من یوسف گل پیرهنم
Urdu Translation
ہر کوئی حسن کے یوسف کی تلاش میں دربدر ہے،
لیکن میرے دل کی وادی سے گل پیرہن یوسف نمودار ہو چکا ہے۔
لیکن میرے دل کی وادی سے گل پیرہن یوسف نمودار ہو چکا ہے۔
Difficult Words
- در بدر
- دربدر، مراد ہے ہر سمت میں
- یوسف حسن
- خوبصورتی کی علامت، یوسف علیہ السلام کی طرف اشارہ
- گل پیرہن
- پھولوں کا لباس، مراد ہے خوشبو دار، باکمال حسن
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ ہر شخص حسنِ حقیقی کی تلاش میں سرگرداں ہے، لیکن جو لوگ دل کی وادی میں اللہ کی محبت کو پا لیتے ہیں، ان کے لیے حسن کا یوسف یعنی حقیقی محبوب ان کے اندر ہی موجود ہوتا ہے۔ اس فارسی شعر میں حقیقی معرفت اور عشقِ الٰہی کا بیان ہے کہ جو لوگ اللہ کی محبت میں غرق ہوتے ہیں، وہ اللہ کے نور کو اپنے دل میں پاتے ہیں اور انہیں کسی ظاہری حسن کی تلاش باقی نہیں رہتی۔
Verse 4
Persian Verse
نه رود یک نفس از ملک وجودم بیرون
خود سخن میکند از فہم کسی یک سخنم
خود سخن میکند از فہم کسی یک سخنم
Urdu Translation
میرے وجود کی سرزمین سے ایک لمحہ بھی باہر نہیں نکلتا،
میرا ہر کلام خود کسی کے فہم کے دائرے میں بات کرتا ہے۔
میرا ہر کلام خود کسی کے فہم کے دائرے میں بات کرتا ہے۔
Difficult Words
- ملک وجود
- وجود کی سرزمین یا ذات کی حدود
- فہم کسی
- کسی کا ادراک یا سمجھ
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ انسان کا حقیقی شعور اور حقیقت اس کے اپنے وجود کے دائرے میں ہی رہتی ہے اور یہ ایک لمحے کے لیے بھی اس سے جدا نہیں ہوتی۔ عاشق کا ہر کلام ایک روحانی پیغام رکھتا ہے جو سننے والوں کے فہم کے مطابق معانی دیتا ہے۔ یہ ایک گہرا اشارہ ہے کہ اللہ کی معرفت اور قربت کو پانے کے بعد عاشق کے ہر لفظ میں ایک حکمت اور شعور ہوتا ہے، جو ہر سننے والے کی فہم اور استعداد کے مطابق اسے کچھ عطا کرتا ہے۔
Verse 5
Persian Verse
تا شگفتہ گل رویش به گلستان دلم
کی کشد دل سوی هر باغ بگشت چمنم
کی کشد دل سوی هر باغ بگشت چمنم
Urdu Translation
جب سے اس کے چہرے کا گل میرے دل کے گلزار میں کھلا ہے،
میرا دل کسی اور باغ یا چمن کی طرف نہیں کھنچتا۔
میرا دل کسی اور باغ یا چمن کی طرف نہیں کھنچتا۔
Difficult Words
- شگفتہ گل رویش
- اس کے چہرے کا کھلا ہوا پھول، مراد محبوب کا حسن
- گلستان دلم
- میرے دل کا باغ، مراد عاشق کا دل جہاں محبوب کی محبت بستی ہے
- بگشت چمنم
- باغوں کی سیر، مراد دیگر چیزوں کی طرف مائل ہونا
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے خدا کی محبت اور حسن کے اثر کو بیان کیا ہے۔ جب دل میں خدا کی محبت جاگزین ہو جائے اور اس کا حسن آشکار ہو، تو دنیا کی دیگر تمام دلچسپیاں اور دلکش مناظر بے معنی ہو جاتے ہیں۔
Verse 6
Persian Verse
نام آن را ز سر صدق ایا ہمنفسان
چون بمیرم، نہ نویسید بروی کفنم
چون بمیرم، نہ نویسید بروی کفنم
Urdu Translation
اے دوستو، یہ نام میری صدق و اخلاص سے آیا ہے،
جب میں مر جاؤں، تو میرے کفن پر یہ نام نہ لکھنا۔
جب میں مر جاؤں، تو میرے کفن پر یہ نام نہ لکھنا۔
Difficult Words
- سر صدق
- سچی نیت، اخلاص
- ہمنفسان
- دوستو، ہمراز
- بروی کفن
- کفن پر
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ میرے لیے جو بھی نام یا مقام لوگوں نے رکھا ہے، وہ میرے صدق و اخلاص کی وجہ سے ہے، لیکن میری موت کے بعد اسے میرے کفن کا حصہ نہ بنانا۔ یہ اظہارِ عاجزی ہے، جہاں سچا عاشق اپنی نیکیوں اور اخلاص کا اظہار نہیں چاہتا، بلکہ اپنی زندگی کا مقصد اللہ کے لیے خالص رکھتا ہے اور دنیاوی شہرت و ناموری سے دوری اختیار کرتا ہے۔
Verse 7
Persian Verse
تا برا فروختہ در انجمن جان آتش
قطب دین سوخته آتش آن انجمنم
قطب دین سوخته آتش آن انجمنم
Urdu Translation
جب سے انجمنِ جان میں محبت کی آگ بھڑکی ہے،
قطب دین اس آگ میں جلتا ہوا ایک فرد ہے۔
قطب دین اس آگ میں جلتا ہوا ایک فرد ہے۔
Difficult Words
- انجمن جان
- دل یا روح کی محفل
- آتش
- آگ، یہاں مراد عشق کی آگ
- سوختہ
- جلا ہوا، مراد ہے کہ عشق میں فنا ہو جانا
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ جب انسان کے دل میں عشقِ الٰہی کی آگ بھڑک اٹھتی ہے تو وہ دل اس میں جل کر فنا ہو جاتا ہے۔ قطب دین، جو عشقِ حقیقی کا مرکز ہے، اس آگ میں خود کو فنا کر دیتا ہے اور اس آگ میں جلنے کو اپنی معراج سمجھتا ہے۔ عشقِ حقیقی میں یہ جلنا دراصل حق تک پہنچنے کا ذریعہ بنتا ہے۔
QURANIC REFERENCES
Quranic Reference 1
اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال (جو نورِ محمدی کی شکل میں دنیا میں روشن ہے) اس طاق (نما سینۂ اقدس) جیسی ہے جس میں چراغ (نبوت روشن) ہے؛ (وہ) چراغ (قلبِ محمدی) نورِ الٰہی کے فانوس میں رکھا ہے۔ (یہ) فانوس نورِ الٰہی کے پرتو سے اس قدر منور ہے گویا ایک درخشندہ ستارہ ہے۔ یہ چراغِ نبوت جو زیتون کے مبارک درخت سے (یعنی عالمِ قدس کے بابرکت رابطۂ وحی سے یا انبیاء و رسل ہی کے مبارک شجرۂ نبوت سے) روشن ہوا ہے، نہ فقط شرقی ہے اور نہ غربی، بلکہ اپنے فیضِ نور کی وسعت میں عالم گیر ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کا تیل خود ہی چمک رہا ہے اگرچہ ابھی اسے وحیِ ربانی اور معجزاتِ آسمانی کی آگ نے چھوا بھی نہیں۔ وہ نور کے اوپر نور ہے، یعنی نورِ وجود پر نورِ نبوت، گویا وہ ذات دوہرے نور کا پیکر ہے۔ اللہ جسے چاہتا ہے اپنے نور کی معرفت تک پہنچا دیتا ہے، اور اللہ لوگوں کی ہدایت کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے، اور اللہ ہر چیز سے خوب آگاہ ہے۔
سورۃ النور، آیت 35
