Kalam 360
THE DEWAN
Kalam 360
کلام 360
ORIGINAL KALAM
ای دوست بیا که زگویم
حال دل خویش باز گویم
ٓانروز کہ محرم تو گردم
غمہای شب دراز گویم
ازبیم رقیب ّسرعشقت
پنھان دارم نه باز گویم
تو بر سر ناز باش تامن
می نوشم و در مجاز گویم
بازاہد دہر خویشتن بین
از روزہ واز نماز گویم
حاجی کہ در ٓاید از درمن
با او سخن از حجاز گویم
بنشین تو به قطب دین زمانی
ق ٔص جانگداز گویم تا ہ
حال دل خویش باز گویم
ٓانروز کہ محرم تو گردم
غمہای شب دراز گویم
ازبیم رقیب ّسرعشقت
پنھان دارم نه باز گویم
تو بر سر ناز باش تامن
می نوشم و در مجاز گویم
بازاہد دہر خویشتن بین
از روزہ واز نماز گویم
حاجی کہ در ٓاید از درمن
با او سخن از حجاز گویم
بنشین تو به قطب دین زمانی
ق ٔص جانگداز گویم تا ہ
VERSES & EXPLANATIONS
Verse 1
Persian Verse
ای دوست بیا کہ ز گویم
حال د ِل خویش باز گویم
حال د ِل خویش باز گویم
Urdu Translation
اے دوست، آ کہ میں تجھ سے
اپنے دل کی حالت کو بیان کر سکوں۔
اپنے دل کی حالت کو بیان کر سکوں۔
Difficult Words
- دوست
- یہاں دوست کا مطلب محبوب یا اللہ ہے
- حال دل
- دل کی کیفیت یا اندرونی جذبات
- باز گویم
- دوبارہ بیان کرنا، کھول کر کہنا
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے اللہ سے التجا کی ہے کہ اللہ اس کے قریب آئے تاکہ عاشق اپنے دل کی کیفیت اور محبت کی شدت کو اپنے محبوب کے سامنے بیان کر سکے۔ یہ فارسی شعر عاشق کی اس حالت کو ظاہر کرتا ہے جس میں وہ اپنے دل کے حال کو بیان کرنے کے لیے بے تاب ہے، کیونکہ عاشق کا دل اللہ کے عشق میں بے چین ہے اور وہ اپنی تمام تر کیفیت کو اللہ کے سامنے بیان کر کے سکون حاصل کرنا چاہتا ہے۔
Verse 2
Persian Verse
آن روز کہ محرم تو گردم
غمهای شب دراز گویم
غمهای شب دراز گویم
Urdu Translation
اس دن جب میں تیرا راز دار بن جاؤں،
میں تجھے اپنی طویل راتوں کے غم سنا سکوں۔
میں تجھے اپنی طویل راتوں کے غم سنا سکوں۔
Difficult Words
- محرم
- راز دار، قریبی
- غمهای شب دراز
- طویل راتوں کے غم، مراد ہے عشق میں جدائی یا انتظار کی کیفیت
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے اللہ سے راز داری کی درخواست کی ہے۔ عاشق اللہ کی قربت اور اس کے رازوں میں شامل ہونے کی خواہش رکھتا ہے تاکہ وہ اپنی طویل راتوں کے غم، جو عشق کے کرب میں گزرے ہیں، اللہ کے سامنے پیش کر سکے۔ یہ شعر عاشق کی اس حالت کو بیان کرتا ہے جہاں وہ اللہ کی محبت میں اپنے دل کے حال کو صرف اللہ کے سامنے بیان کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔
Verse 3
Persian Verse
از بیم رقیب ّسر عشقت
پنھان دارم نه باز گویم
پنھان دارم نه باز گویم
Urdu Translation
تیرے عشق کے راز کو رقیب کے خوف سے
چھپائے رکھتا ہوں، اسے ظاہر نہیں کرتا۔
چھپائے رکھتا ہوں، اسے ظاہر نہیں کرتا۔
Difficult Words
- بیم رقیب
- رقیب کا خوف، مراد ہے حاسد یا دشمن
- سر عشق
- عشق کا راز
- پنہان دارم
- چھپائے رکھنا
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے اللہ کی محبت کے راز کو چھپانے کی کیفیت بیان کی ہے۔ عاشق اپنے محبوب کے عشق کو رقیب (حاسد یا مخالف) کے خوف سے چھپائے رکھتا ہے۔ یہ رازِ عشق کی حفاظت کا ایک طریقہ ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ کوئی دوسرا اس کے اور اللہ کے درمیان کی محبت اور گہرائی کو جان سکے۔ یہ اظہارِ عشق اور راز داری کی خوبصورتی کو بیان کرتا ہے، جہاں عاشق کے دل میں اللہ کی محبت محفوظ رہتی ہے، اور وہ اسے صرف اپنے محبوبِ حقیقی کے لیے رکھتا ہے۔
Verse 4
Persian Verse
تو بر سر ناز باش تا من
می نوشم و در مجاز گویم
می نوشم و در مجاز گویم
Urdu Translation
تم اپنے ناز و انداز میں رہو،
اور میں عشق کی شراب پی کر اپنے مجاز میں باتیں کروں۔
اور میں عشق کی شراب پی کر اپنے مجاز میں باتیں کروں۔
Difficult Words
- بر سر ناز
- ناز و انداز، مراد ہے محبوب کی شان یا لاپرواہی
- می نوشم
- شراب پینا، مراد ہے عشق کی مستی میں رہنا
- مجاز
- یہاں مجاز سے مراد دنیاوی یا ظاہری حالت میں باتیں کرنا ہے
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے محبوب کی لاپرواہی اور اپنی حالتِ عشق کا اظہار کیا ہے۔ عاشق کو یہ پروا نہیں کہ محبوب کس حالت میں ہے؛ وہ اپنی محبت اور عشق کی مستی میں ڈوبا رہتا ہے اور دنیاوی باتوں میں بھی عشق کے جلوے بیان کرتا ہے۔ اللہ کی محبت میں مست عاشق کے لیے دنیاوی ظواہر اور مجاز صرف ایک بہانہ ہیں، اور اس کا اصل مقصد محبوب کی طرف دل کی لگن کو جاری رکھنا ہے۔
Verse 5
Persian Verse
بازاہد دہر خویشتن بین
از روزہ و از نماز گویم
از روزہ و از نماز گویم
Urdu Translation
دنیا کے زاہد، اپنے آپ کو دیکھ،
میں روزے اور نماز کی بات کرتا ہوں۔
میں روزے اور نماز کی بات کرتا ہوں۔
Difficult Words
- زاہد دہر
- دنیا کے زاہد، مراد ہے وہ شخص جو صرف ظاہر میں دین داری پر عمل کرتا ہے
- خویشتن بین
- اپنے آپ کو دیکھ، خود پر غور کر
- روزہ و نماز
- عبادات، مراد ہے ظاہری عبادات
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے ان لوگوں کو مخاطب کیا ہے جو صرف ظاہر کی عبادات پر توجہ دیتے ہیں مگر دل سے اللہ کی محبت اور خشیت سے محروم رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ میں نماز اور روزے کی بات کرتا ہوں، لیکن اصل مقصد اللہ سے قلبی تعلق اور محبت کا ہے۔ صرف ظاہری عبادات میں مشغول رہنے سے اللہ کی محبت اور قربت حاصل نہیں ہوتی؛ بلکہ دل کی صفائی اور روحانی تعلق کا ہونا ضروری ہے۔
Verse 6
Persian Verse
حاجی کہ در آید از در من
با او سخن از حجاز گویم
با او سخن از حجاز گویم
Urdu Translation
جو حاجی میرے دروازے پر آتا ہے،
میں اس سے حجاز کی بات کرتا ہوں۔
میں اس سے حجاز کی بات کرتا ہوں۔
Difficult Words
- حاجی
- مراد ہے حج سے واپس آنے والا شخص
- در آید از در من
- میرے دروازے پر آنا
- حجاز
- سعودی عرب کا وہ خطہ جہاں خانہ کعبہ واقع ہے، اسلامی مرکز
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے اپنی محبت اور وابستگی کو مکہ اور حجاز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیان کیا ہے۔ جب کوئی حاجی ان کے پاس آتا ہے تو وہ اس سے حجاز کی باتیں کرتے ہیں، جو عشقِ الٰہی اور اللہ کے گھر کی یاد کو تازہ کرتی ہیں۔ یہ فارسی شعر اللہ کے گھر، مکہ مکرمہ، اور عشقِ الٰہی کی عظمت اور محبت کی نمائندگی کرتا ہے۔ عاشق کے لیے حجاز کی باتیں اس کی روحانی جڑوں کو تازہ کرتی ہیں اور اسے اللہ کی محبت کی یاد دلاتی ہیں۔
Verse 7
Persian Verse
بنشین تو بہ قطب دین زمانی
تا قصہ جانگداز گویم
تا قصہ جانگداز گویم
Urdu Translation
تو کچھ وقت قطبِ دین کے پاس بیٹھ جا،
تاکہ میں تجھے دل کو رنجیدہ کر دینے والا قصہ سنا سکوں۔
تاکہ میں تجھے دل کو رنجیدہ کر دینے والا قصہ سنا سکوں۔
Difficult Words
- بنشین
- بیٹھ جا
- قطب دین
- اللہ کی محبت میں ایک عاشق، یا روحانی رہبر
- قصہ جانگداز
- دل کو غمگین کر دینے والا قصہ
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے اپنے دل کے درد کو بیان کرنے کے لیے کسی کو دعوت دی ہے کہ اس کے پاس بیٹھے اور سننے کی کوشش کرے۔ عشقِ الٰہی کی اس راہ میں جو غم اور کرب ہے، وہ عاشق کو اللہ کی محبت میں بے چین کر دیتا ہے۔ یہ فارسی شعر اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ عشقِ حقیقی میں گزرنے والی تکالیف اور مصائب کو سمجھنا اور محسوس کرنا ہی دراصل اللہ کی قربت کی تلاش میں روحانی سفر کا ایک حصہ ہے۔
