Kalam 350
THE DEWAN
Kalam 350
کلام 350
ORIGINAL KALAM
ایدل بکوش صرف مکن عمر بی عمل
زان پیشتر بکوش کہ ٓاید ترا اجل
یکدم مباش غافل از احوال خوشیتن
خواہی براہ عشق شود مشکل تو حل
بینی جمال دوست به هر جا نظر کنی
گردیدٔہ دل تو ندارد رگ سبل
جان را اگر دہی نبشیند بجای جان
وٓانکہ بذات اور نرسد بیگمان خلل
نفس تو رهزن ست ندارد سر صالح
غافل مباش نیم نفس زان سگِ دغل
گر ٓایدت بدل اثر فیض عام حق
خودرانگا ہدا رمکن بانگ بی محل
پرواز کن بجانب دلدار قطب دین
غافل مشوکہ تانکنی بال خویش شل
زان پیشتر بکوش کہ ٓاید ترا اجل
یکدم مباش غافل از احوال خوشیتن
خواہی براہ عشق شود مشکل تو حل
بینی جمال دوست به هر جا نظر کنی
گردیدٔہ دل تو ندارد رگ سبل
جان را اگر دہی نبشیند بجای جان
وٓانکہ بذات اور نرسد بیگمان خلل
نفس تو رهزن ست ندارد سر صالح
غافل مباش نیم نفس زان سگِ دغل
گر ٓایدت بدل اثر فیض عام حق
خودرانگا ہدا رمکن بانگ بی محل
پرواز کن بجانب دلدار قطب دین
غافل مشوکہ تانکنی بال خویش شل
VERSES & EXPLANATIONS
Verse 1
Persian Verse
ایدل بکوش صرف مکن عمر بی عمل
زان پیشتر بکوش کہ ٓاید ترا اجل
زان پیشتر بکوش کہ ٓاید ترا اجل
Urdu Translation
اے دل! کوشش کر اور اپنی عمر کو بے عمل نہ گزار۔ موت کے آنے سے پہلے ہی عمل کر لے۔
Difficult Words
- صرف مکن
- ضائع نہ کر
- بی عمل
- بغیر کسی عمل کے
- اجل
- موت یا اختتام کا وقت
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے انسان کو نصیحت کی ہے کہ وہ اپنی زندگی کو غفلت میں نہ گزارے۔ موت ایک حقیقت ہے اور کسی بھی لمحے آ سکتی ہے، اس لئے ہر شخص کو اپنے اعمال کی اصلاح کرنی چاہیے اور اللہ کے احکام پر عمل کرنا چاہیے۔ یہ نصیحت ہمیں اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ دنیا عارضی ہے اور ہمیں اس مختصر زندگی میں نیک اعمال کرنے چاہئیں تاکہ آخرت میں کامیابی حاصل ہو۔
Verse 2
Persian Verse
یکدم مباش غافل از احوال خوشیتن
خواہی براہ عشق شود مشکل تو حل
خواہی براہ عشق شود مشکل تو حل
Urdu Translation
ایک لمحے کے لیے بھی اپنے نفس کے حالات سے غافل نہ ہو۔ اگر تم چاہتے ہو کہ عشق کی راہ میں تمہاری مشکلات حل ہو جائیں۔
Difficult Words
- احوال خود
- اپنے نفس کے حالات یا رویے
- براہ عشق
- عشق کا راستہ
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ انسان کو اپنے نفس کے حالات اور رویوں کا جائزہ لینا چاہیے اور اس پر کڑی نظر رکھنی چاہیے۔ عشق کی راہ میں انسان کو اپنی کمزوریوں اور خطاؤں سے آگاہ رہنا چاہیے تاکہ اس راہ میں رکاوٹیں دور ہو سکیں۔ حقیقی عشق میں انسان کی شخصیت میں ایک نئی روحانی تبدیلی آتی ہے، جس کے ذریعے اس کی مشکلات حل ہوتی ہیں۔
Verse 3
Persian Verse
بینی جمال دوست به هر جا نظر کنی
گردیدٔہ دل تو ندارد رگ سبل
گردیدٔہ دل تو ندارد رگ سبل
Urdu Translation
اگر تم ہر جگہ دوست (اللہ) کا حسن دیکھنا چاہتے ہو، تو دل کی آنکھ سے دیکھو، جو ظاہری پردوں سے آزاد ہو۔
Difficult Words
- جمال دوست
- محبوب (اللہ) کا حسن
- رگ سبل
- ظاہری پردے یا حجاب کی رگیں
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ اللہ کا حسن ہر جگہ موجود ہے، مگر اس کو دیکھنے کے لیے دل کی آنکھ ضروری ہے، جو ظاہری پردوں سے پاک ہو۔ سچے عاشق کی نگاہ ان پردوں کو عبور کرتی ہے اور ہر چیز میں اللہ کی جلوہ گری دیکھتی ہے۔ خواجہ صاحب کا مقصد یہ ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ دنیاوی پردوں اور خواہشات سے آزاد ہو کر اللہ کے جمال کو دیکھے۔
Verse 4
Persian Verse
جان را اگر دہی نبشیند بجای جان
وٓانکہ بذات اور نرسد بیگمان خلل
وٓانکہ بذات اور نرسد بیگمان خلل
Urdu Translation
اگر تم اپنی جان قربان کر دو تو بھی وہ قبول نہ کرے۔ اور وہ ایسی ذات ہے کہ اس میں خلل کا گمان تک نہیں ہو سکتا۔
Difficult Words
- جان را دہی
- اپنی جان دینا، یعنی اللہ کی راہ میں قربانی
- بذات او
- اللہ کی ذات تک
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ خدا انسان کے کسی عمل یا قربانی کا محتاج نہیں۔ اگر انسان اپنی جان بھی قربان کر دے، تو وہ خدا کی عظمت اور مقام کو نہیں بڑھا سکتا۔ کیونکہ خدا ہر چیز سے بے نیاز اور بلند ہے، اور وہ ہر قسم کی خامی، کمزوری یا نقص سے پاک ہے۔ اس کی ذات میں کوئی خلل یا کمی کا تصور بھی ممکن نہیں۔
Verse 5
Persian Verse
نفس تو رهزن ست ندارد سر صالح
غافل مباش نیم نفس زان سگِ دغل
غافل مباش نیم نفس زان سگِ دغل
Urdu Translation
تمہارا نفس ایک ڈاکو ہے، جسے بھلائی کی سمجھ نہیں۔ ایک لمحے کے لیے بھی اس مکار کتے سے غافل نہ ہو۔
Difficult Words
- نفس
- انسان کی خواہشات اور دنیاوی تقاضے
- رهزن
- ڈاکو
- سگ دغل
- مکار کتا، یعنی نفس کی فریب کاری
Spiritual Meaning
خواجہ صاحب نے یہاں نفس کی حقیقت کو بیان کیا ہے کہ یہ انسان کو راہِ حق سے بھٹکانے والا ہے۔ نفس، جو انسان کو اپنی خواہشات کے پیچھے لگا دیتا ہے، اس پر قابو پانا ضروری ہے۔ سچے عاشق کو ہر وقت نفس کے شر سے محفوظ رہنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
Verse 6
Persian Verse
گر آیدت بدل اثر فیض عام حق
خود را نگا ہدر مکن بانگ بی محل
خود را نگا ہدر مکن بانگ بی محل
Urdu Translation
اگر تمہارے دل پر اللہ کے فیض کا اثر محسوس ہو، تو اپنے نفس کو اس پر برباد نہ کر اور بے محل آواز بلند نہ کر۔
Difficult Words
- اثر فیض عام حق
- اللہ کے عام فیض کا اثر
- بانگ بی محل
- بے محل اور بے مقصد آواز
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے نصیحت کی ہے کہ اللہ کے فیض اور برکتوں کا احساس ہو تو اسے ضائع مت کرو۔ انسان کو چاہئے کہ جب اس پر اللہ کا فیض نازل ہو تو وہ اس کا احترام کرے اور اپنے نفس کی خواہشات کو اس پر غالب نہ آنے دے۔ بے مقصد باتیں اور غیر ضروری باتیں اس فیض کو کم کر دیتی ہیں، اس لیے خاموشی اور توجہ کے ساتھ اللہ کی برکتوں کا شکر ادا کرنا چاہئے۔
Verse 7
Persian Verse
پرواز کن بجانب دلدار قطب دین
غافل مشو کہ تانکنی بال خویش شل
غافل مشو کہ تانکنی بال خویش شل
Urdu Translation
قطب الدین کے دلدار کی طرف پرواز کرو، اور غافل نہ ہو جاؤ ورنہ تمہارے پروں میں طاقت باقی نہیں رہے گی۔
Difficult Words
- پرواز کن
- اڑان بھرو
- جانب دلدار
- محبوب کی طرف
- بال شل
- پر کمزور ہونا، یعنی طاقت کا ختم ہو جانا
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے محبتِ الٰہی کی طرف رغبت کی ترغیب دی ہے۔ انہوں نے انسان کو نصیحت کی ہے کہ وہ اللہ کی طرف روحانی پرواز کرے اور دنیا کی غفلت سے دور رہے۔ اگر غفلت میں مبتلا ہوا تو اس کے روحانی پروں کی طاقت کمزور ہو جائے گی اور وہ اللہ کی قربت حاصل کرنے سے محروم ہو جائے گا۔
CENTRAL THEME
انسان کو اپنی زندگی اللہ کی یاد اور اس کے احکام کے مطابق گزارنی چاہیے، تاکہ موت سے پہلے ہی وہ اپنی اصلاح کر سکے۔ یہ اشعار نفس کی حقیقت، عشقِ الٰہی کی راہ میں استقامت، اور اللہ کے فیض و کرم کے عمومی اثرات پر روشنی ڈالتے ہیں۔ خواجہ صاحب انسان کو نصیحت ہے کہ وہ اللہ کی جانب متوجہ ہو اور اس کے فیض سے فیضیاب ہو کر اپنی زندگی کو بامقصد بنائے۔ یہ ایک روحانی سفر کی دعوت ہے جس میں اللہ کی محبت، اپنی خواہشات کو قابو میں رکھنے، اور اخلاص سے بھرپور جدوجہد کی تلقین کی گئی ہے۔
QURANIC REFERENCES
Quranic Reference 1
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرا کرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہاری موت صرف اسی حال پر آئے کہ تم مسلمان ہو۔
سورۃ آل عمران، آیت 102
HADITH REFERENCES
Hadith Reference 1
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"دنیا میں ایسے رہو جیسے تم مسافر ہو یا راہ چلتے مسافر۔"
"دنیا میں ایسے رہو جیسے تم مسافر ہو یا راہ چلتے مسافر۔"
صحیح مسلم، کتاب الذکر
