Kalam 352

THE DEWAN

Kalam 352

کلام 352
37 of 182 · Table of Contents
ای زلف سرکش تو سراسر بالی دل
ہر رشتٔہ ازو شدہ بندی بپای دل

از کوی تو سفر نتوان کرد جانبے
پیوند زانکه گشت تبور شہتای دل

ہرگز نمیرد ٓانکہ خورد ٓاب زندگی
دان در دهان تنگ تو باشد برای دل

عمریست دل ز هجر تو در دست و ناتوان
در شربت وصال تو باشد شفای دل

از تیرگی دل ناتوان دید روے تو
زانروی سعی میکنم اندر صفای دل

چون قطب دین مقام دالرام دل بود
جان عزیز چون نکند کس فدای دل
Verse 1
Persian Verse
ای زلف سرکش تو سراسر بالی دل
ہر رشتٔہ ازو شدہ بندی بپای دل
Urdu Translation
اے تیری سرکش زلفیں، جو سراسر دل کے لیے بلا ہیں،
ان کا ہر ایک رشتہ دل کے پاؤں کی زنجیر بن گیا ہے۔
Difficult Words
زلف سرکش
سرکش یا بے قابو زلفیں، جن کی خوبصورتی میں جاذبیت ہے
بالی دل
دل کی مصیبت یا آفت
بندی بپای دل
دل کے لیے زنجیر یا قید
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ حسنِ محبوب کی سرکش زلفیں دل کو اسیر کر لیتی ہیں اور اس کے لیے ایک طرح کی قید اور آزمائش بن جاتی ہیں۔ عاشق اپنے محبوب کی کشش سے بچ نہیں پاتا اور یوں وہ زلفیں دل کی راہ میں ایک زنجیر کی مانند حائل ہو جاتی ہیں۔ یہ محض ظاہری محبت نہیں بلکہ اس کے ذریعے عشق حقیقی کی جانب بھی اشارہ ہے، جہاں انسان کی دنیاوی محبتیں اور خواہشات اسے اللہ کی محبت میں مکمل طور پر فنا ہونے سے روکتی ہیں۔
Verse 2
Persian Verse
از کوی تو سفر نتوان کرد جانبے
پیوند زانکه گشت تبرشہتای دل
Urdu Translation
تیرے کوچے سے کسی اور طرف جانا ممکن نہیں،
کیونکہ دل کی ہر گانٹھ وہاں بندھی ہوئی ہے۔
Difficult Words
کوی تو
تیرے کوچے، مراد محبوب کی گلی
تبرشہتای دل
دل کی گانٹھیں، دل کے تعلقات یا رشتے
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ عاشق کے لیے محبوب کے کوچے سے دور جانا ممکن نہیں ہوتا، کیونکہ اس کا دل ہر طرح سے محبوب سے جڑا ہوا ہے۔ یہ ایک اشارہ ہے اللہ کی محبت کی طرف، جہاں بندے کا دل ہر قسم کی دنیاوی تعلقات سے آزاد ہو کر اللہ کی محبت میں بندھا ہوتا ہے، اور وہ کسی اور طرف مائل نہیں ہوتا۔
Verse 3
Persian Verse
هرگز نمیرد آنکه خورد آب زندگی
دان در دهان تنگ تو باشد برای دل
Urdu Translation
وہ شخص کبھی نہیں مرتا جس نے آبِ حیات پی لیا ہو،
تیرے تنگ دہن میں دل کے لیے پناہ ہے۔
Difficult Words
آب زندگی
آبِ حیات، وہ پانی جو امر کر دیتا ہے
دہان تنگ
تنگ دہن یا تنگ منہ، یہاں عاشق کے لیے معشوق کی طرف اشارہ ہے
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ سچا عاشق، جس نے حقیقی معرفت کا ذائقہ چکھ لیا ہو، کبھی فنا نہیں ہوتا۔ اللہ کی محبت اور قربت کا حاصل ایسا آبِ حیات ہے جو انسان کو ابدی زندگی عطا کرتا ہے۔ تنگ دہن میں دل کے لیے پناہ ملنے کا مطلب ہے کہ اللہ کی محبت میں دل کو سکون و قرار ملتا ہے، جہاں دنیاوی خواہشات کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں رہتی۔
Verse 4
Persian Verse
عمریست دل ز هجر تو در دست و ناتوان
در شربت وصال تو باشد شفای دل
Urdu Translation
ایک عمر سے میرا دل تیرے ہجر کے درد میں مبتلا اور ناتواں ہے،
تیرے وصال کا شربت ہی دل کی شفا ہے۔
Difficult Words
ہجر
جدائی یا فراق
شربت وصال
وصل کا میٹھا ذائقہ، محبوب سے ملاقات کی خوشی
شفای دل
دل کی شفا، روحانی سکون
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ عاشق کا دل محبوب کی جدائی میں درد اور کمزوری کا شکار ہوتا ہے، اور اس کا واحد علاج محبوب کا وصال یا قربت ہے۔ یہ فارسی شعر اللہ تعالیٰ کی قربت کی طلب کی طرف اشارہ کرتا ہے، جہاں بندے کا دل اللہ سے دوری کے درد میں مبتلا رہتا ہے اور حقیقی شفا صرف اللہ کے وصال میں ممکن ہے۔
Verse 5
Persian Verse
از تیرگی دل ناتوان دید روے تو
زان روی سعی میکنم اندر صفای دل
Urdu Translation
دل کی تیرگی نے تیرا چہرہ دیکھنے سے محروم کر دیا ہے،
اسی لیے میں دل کی صفائی میں کوشش کر رہا ہوں۔
Difficult Words
تیرگی دل
دل کی تاریکی یا ناپاکی
صفای دل
دل کی پاکیزگی یا صفائی
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ دل کی ناپاکی اور غفلت انسان کو حق کی حقیقت دیکھنے سے محروم کر دیتی ہے۔ جب دل میں خواہشات اور دنیاوی تعلقات کی تاریکی بھر جائے تو خدا کا نور اس پر اثر نہیں کرتا۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ دل کی پاکیزگی اور صفائی میں مصروف ہو جائے، تاکہ خدا کی قربت اور اس کے نور کا مشاہدہ کر سکے۔
Verse 6
Persian Verse
چون قطب دین مقام دالرام دل بود
جان عزیز چون نکند کس فدای دل
Urdu Translation
جب قطبِ دین دل کا قرار اور سکون بن جائے،
تو کیوں کوئی اپنی عزیز جان دل پر قربان نہ کرے؟
Difficult Words
قطب دین
دین کا مرکز یا محور، مرشد
دالرام
دل کو سکون دینے والا
جان عزیز
محبوب جان
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ جب دل کو حقیقی آرام اور قرار مرشد یا قطبِ دین سے حاصل ہو جائے تو پھر عاشق کے لیے اپنی جان کو اس راہ میں قربان کرنا بھی آسان ہو جاتا ہے۔ یہ محبت کا وہ بلند مقام ہے جہاں عاشق اپنی جان بھی محبوبِ حقیقی کی راہ میں قربان کر دیتا ہے کیونکہ اسے اس کی محبت میں حقیقی سکون ملتا ہے۔
اللہ کی محبت اور قربت کی طلب اور انسانی دل کی حقیقی سکون کی جستجو ہے۔ اللہ کی محبت میں انسان کو اپنی ذات، خواہشات اور دنیاوی تعلقات سے کنارہ کش ہونا ضروری ہے تاکہ دل کو حقیقی شفا اور سکون نصیب ہو سکے۔ یہ عشق حقیقی کا وہ مقام ہے جہاں عاشق اپنی جان تک قربان کرنے کو تیار ہوتا ہے۔
Quranic Reference 1
اور لوگوں میں بعض ایسے بھی ہیں جو اللہ کے غیروں کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں اور ان سے "اللہ سے محبت" جیسی محبت کرتے ہیں، اور جو لوگ ایمان والے ہیں وہ (ہر ایک سے بڑھ کر) اللہ سے بہت ہی زیادہ محبت کرتے ہیں، اور اگر یہ ظالم لوگ اس وقت کو دیکھ لیں جب اخروی عذاب ان کی آنکھوں کے سامنے ہوگا تو جان لیں کہ ساری قوتوں کا مالک اللہ ہے اور بیشک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔
سورۃ البقرہ، آیت 165