Kalam 355

THE DEWAN

Kalam 355

کلام 355
40 of 182 · Table of Contents
خواہم کہ ملک دل ہمہ زیر و زبر کنم
تادررہ وصال تو پارا زسر کنم

بگدا ختم زہجر چوموی میان تو
شاید کہ دست با تو دمی درکمر کنم

درٓارزوی مقدمت ای ٓارزوی جان
شبہا بدرد محنت و خواری بسر کنم

ٓاب حیات درلب لعل تو ظاہر ست
جان میدہم بیاکہ لب خویش ترکنم

پنھان از آن شدم بدل دردمند خویش
شاید کہ حرف دفتر عشقت زبر کنم

گرویدہ سوی غیر تویک رہ نظر کند
فی الحال دیدہ راز سر خویش برکنم

گفتی کہ قطب دین بکسی غیر من مناز
گرجان بود زبہر تو قط ٔع نظر کنم
Verse 1
Persian Verse
خواہم کہ ملک دل ہمہ زیر و زبر کنم
تا در رِہ وصال تو پارہ ز سر کنم
Urdu Translation
میں چاہتا ہوں کہ دل کی تمام سلطنت کو زیر و زبر کر دوں،
تاکہ تیری راہِ وصال میں اپنی جان سر سے جدا کر سکوں۔
Difficult Words
ملک دل
دل کی سلطنت یا ذات
زیر و زبر
الٹ پلٹ کرنا، مراد ہے سب کچھ قربان کر دینا
پارہ ز سر کردن
جان کو سر سے جدا کرنا، مراد ہے اپنی جان کو راہِ عشق میں قربان کرنا
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ سچا عاشق اللہ کی محبت میں اپنے دل کی ہر چیز کو قربان کر دینے کا خواہاں ہوتا ہے، یہاں تک کہ اپنی جان بھی۔ اللہ کے قربت اور وصال کی راہ میں انسان کو اپنی خواہشات، دنیاوی تعلقات اور حتیٰ کہ اپنی جان تک کو فنا کرنا ہوتا ہے۔ یہ عشق کی وہ بلند منزل ہے جہاں عاشق اپنے وجود کو مکمل طور پر اللہ کی محبت میں فنا کر دیتا ہے۔
Verse 2
Persian Verse
مو ِی میان تو بگداختم ز ہجر چو
شاید کہ دست با تو دمی در کمر کنم
Urdu Translation
میں ہجر کو تیرے کمر کے باریک بال کی طرح ختم کر دینا چاہتا ہوں،
تاکہ شاید ایک لمحے کے لیے ہی سہی، تجھے اپنی باہوں میں لے سکوں۔
Difficult Words
بگداختم
ختم کرنا، دور کر دینا
مو ِی میان
کمر کا باریک بال، انتہائی باریک چیز کی علامت
دمی در کمر کردن
باہوں میں لینا
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ عاشق اپنے محبوب کی جدائی کو اتنا مٹا دینا چاہتا ہے کہ وہ باریک ترین چیز کی مانند رہ جائے، تاکہ محبوب کا قرب حاصل ہو سکے۔ یہ اللہ کی قربت کی تڑپ کا اظہار ہے، جہاں عاشق اللہ کی محبت میں ہر قسم کی دوری کو مٹا دینا چاہتا ہے تاکہ حق کی محبت اور قربت میں مکمل طور پر محو ہو سکے۔
Verse 3
Persian Verse
در آرزوی مقدمت ای آرزوی جان
شبها به درد محنت و خواری بسر کنم
Urdu Translation
اے جان کی آرزو، تیری آمد کی آرزو میں
میں راتیں درد، محنت اور خواری میں گزار دیتا ہوں۔
Difficult Words
آرزوی مقدمت
تیری آمد کی تمنا یا خواہش
آرزوی جان
جان کی آرزو، محبوب حقیقی
محنت و خواری
مشقت اور عاجزی، سختی اور ذلت
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ اللہ کے قرب اور اس کے دیدار کی آرزو میں عاشق اپنی راتیں درد اور عاجزی میں بسر کرتا ہے۔ اللہ کے وصال کی خواہش انسان کو ایسی حالت میں لے آتی ہے جہاں وہ اپنے وجود کی نفی اور اللہ کی محبت میں مشقت برداشت کرنے کو اپنی سعادت سمجھتا ہے۔ یہ عاشق کا اپنے محبوبِ حقیقی کے لیے اظہارِ شوق ہے، جہاں ہر تکلیف اور مشقت اسے اللہ کے قرب کے لیے آسان محسوس ہوتی ہے۔
Verse 4
Persian Verse
آب حیات در لب لعل تو ظاہر ست
جان میدہم بیا کہ لب خویش تر کنم
Urdu Translation
تیری لعل کی مانند لبوں میں آبِ حیات نمایاں ہے،
میں اپنی جان دینے کو تیار ہوں، بس آ کہ اپنے لبوں کو تر کر سکوں۔
Difficult Words
آب حیات
زندگی کا پانی، جو ہمیشہ کی زندگی کا استعارہ ہے
لب لعل
لعل جیسے سرخ لب، محبوب کے لب
تر کردن
تر کرنا، مراد ہے محبت میں لبوں کو بوسہ دینا یا قرب حاصل کرنا
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ محبوب کے لبوں میں زندگی بخشنے والی وہ کیفیت ہے جس کی خاطر عاشق اپنی جان قربان کرنے کو تیار ہے۔ یہ اللہ کی محبت میں فنا ہونے کا بیان ہے، جہاں اللہ کی قربت عاشق کے لیے آبِ حیات کی مانند ہوتی ہے۔ عاشق اپنی جان دے کر اللہ کی قربت کو حاصل کرنے کی تڑپ میں ہے، کیونکہ اس میں ابدی زندگی کا راز پوشیدہ ہے۔
Verse 5
Persian Verse
پنھان از آن شدم به دل دردمند خویش
شاید کہ حرف دفتر عشقت زبر کنم
Urdu Translation
میں نے اپنے دردمند دل میں اسے چھپا لیا ہے،
شاید کہ میں تیرے عشق کے دفتر کا ایک حرف بلند کر سکوں۔
Difficult Words
پنہان شدم
چھپ گیا
دل دردمند
درد سے بھرا دل
حرف دفتر عشق
عشق کے دفتر کا ایک حرف، مراد ہے عشق کی داستان کا ایک جز
زبر کردن
بلند کرنا، نمایاں کرنا
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ عاشق اپنی محبت کو دل کی گہرائیوں میں چھپاتا ہے اور اس امید میں رہتا ہے کہ شاید وہ اس عشق کے راز کا ایک حصہ ظاہر کر سکے۔ عشقِ حقیقی میں انسان کے دل پر ایک راز کی کیفیت طاری ہوتی ہے، جسے وہ دنیا سے چھپاتا ہے اور اللہ کی محبت کا یہ راز اس کے دل میں محفوظ رہتا ہے۔ عاشق کی یہ تمنا ہے کہ وہ اپنی زندگی سے اس عشق کے دفتر کا ایک باب بلند کر سکے، جو اللہ کے قرب اور معرفت کی علامت ہو۔
Verse 6
Persian Verse
گرویدہ سوی غیر تو یک رہ نظر کند
فی الحال دیدہ را ز سر خویش برکنم
Urdu Translation
اگر میرا دل تیری محبت کے علاوہ کسی اور کی طرف ایک لمحے کے لیے بھی نظر کرے،
تو میں فوراً اپنی آنکھ کو اپنی جگہ سے نکال دوں۔
Difficult Words
گرویدہ
دل، عاشق
سوی غیر تو
تیرے علاوہ کسی اور کی طرف
دیدہ را برکنم
اپنی آنکھ کو نکال دینا، مراد ہے خود کو اس نظر سے محروم کرنا
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ سچا عاشق اپنے محبوب، یعنی اللہ کی محبت کے سوا کسی اور طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا۔ اللہ کی محبت میں ہر چیز سے بیگانہ ہو جانا اور دل کو مکمل طور پر اسی کی طرف مائل رکھنا حقیقی عشق کی نشانی ہے۔ اگر عاشق کا دل اللہ کے سوا کسی اور طرف دیکھنے لگے، تو وہ اپنے آپ کو اس نظر اور احساس سے محروم کر دینے کو ترجیح دیتا ہے، یعنی اپنی وفاداری اور اخلاص کو برقرار رکھتا ہے۔
Verse 7
Persian Verse
گفتی کہ قطب دین بکسی غیر من مناز
گر جان بود زبہر تو قطع نظر کنم
Urdu Translation
تو نے فرمایا کہ قطبِ دین، میرے سوا کسی اور سے نہ محبت کرنا،
اگر میری جان بھی ہو تو میں تیری خاطر اس سے نظر ہٹا دوں۔
Difficult Words
قطب دین
دین کا محور، اللہ کا ایک محب
غیر من مناز
میرے سوا کسی اور سے محبت نہ کرنا
قطع نظر
نظر ہٹانا، ترک کرنا
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ اللہ اپنے سچے عاشق سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ وہ اپنی محبت میں ہر غیر کو ترک کر دے اور صرف اسی کی جانب متوجہ رہے۔ عاشق کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ اگر اپنی جان بھی عزیز ہو، تو اسے بھی اللہ کی محبت کی خاطر چھوڑ دینا چاہیے۔ یہ عشق کا وہ اعلیٰ مقام ہے جہاں بندہ اپنی ذات، جان اور ہر چیز کو اللہ کے لیے فنا کر دیتا ہے اور اپنی وفاداری میں ثابت قدم رہتا ہے۔
یہ کلام مندرجہ ذیل حدیثِ مبارکہ کی مفصل تفسیر ہے:

ایک روایت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

"نہیں، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، یہاں تک کہ میں تمہارے نزدیک تمہارے نفس سے بھی زیادہ محبوب ہو جاؤں۔"

یعنی اس وقت تک تمہارا ایمان کامل نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں تمہارے نزدیک تمہاری جان سے بھی زیادہ محبوب نہ بن جاؤں۔ یہ بات سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ہاں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ مجھے اپنے نفس سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "ہاں، اب اے عمر۔" یعنی اب تمہارا ایمان مکمل ہوا۔
Hadith Reference 1
ایک روایت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

"نہیں، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، یہاں تک کہ میں تمہارے نزدیک تمہارے نفس سے بھی زیادہ محبوب ہو جاؤں۔"

یعنی اس وقت تک تمہارا ایمان کامل نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں تمہارے نزدیک تمہاری جان سے بھی زیادہ محبوب نہ بن جاؤں۔

یہ بات سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:
"ہاں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ مجھے اپنے نفس سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔"

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"ہاں، اب اے عمر۔"

یعنی اب تمہارا ایمان مکمل ہوا۔
صحیح بخاری، کتاب الایمان باب حب الرسول صلی اللہ علیہ وسلم من الایمان حدیث نمبر 15