Kalam 338
THE DEWAN
Kalam 338
کلام 338
ORIGINAL KALAM
ہر کہ خواہد کہ رسد دررہ دلبر بوصال
باید از هستی خود دست بشوید فی الحال
هرکه از جذبۂ حق ہستی خودرانگبداخت
دعوی عشق کند ٓانکہ خیالست محال
وانکه او خدمت پیران طریقت نکند
گر همه عمر بکوشد نشود صاحب حال
مرد افسرده درین راہ بمنزل نرسد
گر ریاضت کندا زدانش خود پنجہ سال
حال باید کہ ترا ہادی و رہبر گردد
کہ ندیدم کہ زخود باز دہدکس بیحال
ہرکہ ازتیر غم عشق دلش افگار ست
زم ٔی عشق شدہ ماالمال بحر جانش
قطب دین گر طلبی ٓاہست درین کوی ترا
خویشتن رابگداز ازغم عشقش چوہالل
باید از هستی خود دست بشوید فی الحال
هرکه از جذبۂ حق ہستی خودرانگبداخت
دعوی عشق کند ٓانکہ خیالست محال
وانکه او خدمت پیران طریقت نکند
گر همه عمر بکوشد نشود صاحب حال
مرد افسرده درین راہ بمنزل نرسد
گر ریاضت کندا زدانش خود پنجہ سال
حال باید کہ ترا ہادی و رہبر گردد
کہ ندیدم کہ زخود باز دہدکس بیحال
ہرکہ ازتیر غم عشق دلش افگار ست
زم ٔی عشق شدہ ماالمال بحر جانش
قطب دین گر طلبی ٓاہست درین کوی ترا
خویشتن رابگداز ازغم عشقش چوہالل
VERSES & EXPLANATIONS
Verse 1
Persian Verse
ہر کہ خواہد کہ رسد دررہ دلبر بوصال
باید از هستئ خود دست بشوید فی الحال
باید از هستئ خود دست بشوید فی الحال
Urdu Translation
جو کوئی دلبر (اللہ) کے وصال تک پہنچنا چاہتا ہے، اسے فوراً اپنی ہستی سے دستبردار ہونا ہوگا۔
Difficult Words
- دلبر
- محبوب، اللہ
- وصال
- ملاقات، قربت
- هستی
- خودی، وجود
- دست بشوید
- دستبردار ہونا
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے فنا فی اللہ کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے انسان کو اپنی ذات اور خودی کو ترک کرنا پڑتا ہے۔ یہ صوفیانہ فلسفہ ہے کہ وصالِ الٰہی کا راستہ انسان کی نفی اور قربانی سے ہو کر گزرتا ہے۔
Verse 2
Persian Verse
هرکه از جذبه حق هستی خود را بگداخت
دعوی عشق کند ٓانکہ خیالست محال
دعوی عشق کند ٓانکہ خیالست محال
Urdu Translation
جو کوئی اللہ کے عشق کی جذبات میں اپنی ہستی کو پگھلا دیتا ہے، وہی عشق کا دعویٰ کر سکتا ہے، ورنہ یہ دعویٰ محض ایک خواب ہے۔
Difficult Words
- جذبه حق
- اللہ کی محبت کی شدت
- بگداخت
- پگھلنا، فنا ہونا
- محال
- ناممکن
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب فرماتے ہیں کہ اللہ کے عشق میں خود کو فنا کیے بغیر حقیقی عشق کا دعویٰ کرنا محال ہے۔ اللہ کی محبت میں خودی کو پگھلا دینا عشق کی سچی علامت ہے۔
Verse 3
Persian Verse
وانکه او خدمت پیران طریقت نکند
گر همه عمر بکوشد نشود صاح ِب حال
گر همه عمر بکوشد نشود صاح ِب حال
Urdu Translation
جو شخص طریقت کے بزرگوں کی خدمت نہیں کرتا، چاہے وہ عمر بھر کوشش کرے، صاحبِ حال نہیں بن سکتا۔
Difficult Words
- پیران طریقت
- روحانی رہنما، صوفی بزرگ
- صاحبِ حال
- باطنی اور روحانی حالت حاصل کرنے والا، عرفان میں مقام حاصل کرنے والا
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے خدمتِ بزرگاں کی اہمیت کو بیان کیا ہے۔ صوفیانہ تعلیمات میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ اللہ کی قربت اور روحانی منازل تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سالک (طالبِ حق) اپنے روحانی رہنما یا بزرگوں کی خدمت اور اطاعت کرے۔ یہ خدمت اور اطاعت انسان کو روحانی ترقی اور اللہ کی محبت میں اضافہ کا باعث بنتی ہے۔ جو شخص بزرگوں کی خدمت سے محروم رہتا ہے، وہ روحانی مقام اور باطنی حالت حاصل نہیں کر پاتا۔
Verse 4
Persian Verse
مرد افسرده درین راه به منزل نرسد
گر ریاضت کندا ز دانش خود پنجہ سال
گر ریاضت کندا ز دانش خود پنجہ سال
Urdu Translation
افسردہ دل انسان اس راہ میں منزل تک نہیں پہنچ سکتا، چاہے وہ پچاس سال تک ریاضت کرے۔
Difficult Words
- افسرده
- مایوس، اداس
- ریاضت
- روحانی مجاہدہ، کوشش
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب فرما رہے ہیں کہ عشقِ الٰہی کی راہ میں کامیابی کے لیے دل میں جوش و ولولہ ہونا ضروری ہے۔ مایوسی اور اداسی کے ساتھ انسان کبھی روحانی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔
Verse 5
Persian Verse
حال باید کہ ترا ہادی ورہبر گردد
کہ ندیدم کہ زخود باز دہد کس بیحال
کہ ندیدم کہ زخود باز دہد کس بیحال
Urdu Translation
تمہیں حال (روحانی کیفیت) کو اپنا رہنما بنانا چاہیے، کیونکہ میں نے کبھی کسی کو بے حال (بغیر روحانی کیفیت) کے کامیاب ہوتے نہیں دیکھا۔
Difficult Words
- حال
- روحانی کیفیت
- ہادی
- رہنما
Spiritual Meaning
خواجہ صاحب فرماتے ہیں کہ روحانی ترقی کے لیے روحانی کیفیت یا حال کا ہونا ضروری ہے۔ یہ روحانی حال ہی انسان کو اللہ کے راستے میں آگے لے جاتا ہے۔
Verse 6
Persian Verse
هرکه از تیر غم عشق دلش افگار ست
زم ٔی عشق شدہ ماالمال بحر جانش
زم ٔی عشق شدہ ماالمال بحر جانش
Urdu Translation
جس کا دل عشق کے غم کے تیر سے زخمی ہے، اس کی روح عشق کے سمندر سے بھر گئی ہے۔
Difficult Words
- افگار
- زخمی
- ماالمال
- بھرا ہوا، مکمل طور پر ڈوبا ہوا
Spiritual Meaning
یہاں عشق کی شدت کو بیان کیا گیا ہے کہ جس کا دل عشق کے غم سے زخمی ہوتا ہے، وہی حقیقی معنوں میں عشق کے سمندر میں غرق ہو جاتا ہے۔ یہ غم ہی اس کے لیے روحانی ترقی کا ذریعہ بنتا ہے۔
Verse 7
Persian Verse
قطب دین گر طلبی ٓاہست درین کوی ترا
خویشتن رابگداز از غم عشقش چو هالل
خویشتن رابگداز از غم عشقش چو هالل
Urdu Translation
اے قطب الدین! اگر تم اس کوچے میں داخل ہونے کی خواہش رکھتے ہو، تو اپنے آپ کو اس کے عشق کے غم میں چاند کی طرح پگھلا دو۔
Difficult Words
- بگداز
- پگھلنا
- هالل
- چاند کی صورت، ہلال
Spiritual Meaning
خواجہ صاحب فرماتے ہیں کہ اللہ کی محبت میں خود کو فنا کر دینا ضروری ہے۔ جس طرح چاند پگھلتا ہے، اسی طرح عشقِ الٰہی میں بھی انسان کو اپنی خودی کو پگھلا کر فنا ہونا ہوتا ہے۔
CENTRAL THEME
یہ فارسی شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اللہ کی محبت اور روحانی ترقی حاصل کرنے کے لیے طریقت کے بزرگوں کی خدمت اور اطاعت نہایت ضروری ہے۔ اللہ کے راستے میں چلنے کے لیے رہنمائی اور خدمت کی اہمیت ہے۔
QURANIC REFERENCES
Quranic Reference 1
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو۔
یہ آیت مومنوں کو تقویٰ اور راست گو لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کی تاکید کرتی ہے، جو صوفیانہ تربیت میں پیران طریقت کے ساتھ رہنے کی اہمیت پر روشنی ڈالتی ہے۔
یہ آیت مومنوں کو تقویٰ اور راست گو لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کی تاکید کرتی ہے، جو صوفیانہ تربیت میں پیران طریقت کے ساتھ رہنے کی اہمیت پر روشنی ڈالتی ہے۔
سورۃ التوبہ، آیت 119
HADITH REFERENCES
Hadith Reference 1
جو ہمارے چھوٹے پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑے کا حق نہ پہچانے، وہ ہم میں سے نہیں۔
یہ حدیث بزرگوں کا احترام اور ان کے حقوق کا تعین کرنے کی اہمیت پر زور دیتی ہے، جو طریقت کے راستے میں رہبر و رہنمائی کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
یہ حدیث بزرگوں کا احترام اور ان کے حقوق کا تعین کرنے کی اہمیت پر زور دیتی ہے، جو طریقت کے راستے میں رہبر و رہنمائی کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
جامع ترمذی، حدیث نمبر 1924
