Kalam 345

THE DEWAN

Kalam 345

کلام 345
30 of 182 · Table of Contents
ای در صفات و حدت تو عقل و فهم الل
ہرچیز گویمت کہ تو ٓانی بود محال

حال تونیست بردل ما ٓاشکار لیک
ہستی بذات خویش تودانا ی ُکل حال

هر چیز غیر ذات تو باشد فنا شود
کس را درین سخن نرسد حد قیل وقال

بدبخت ٓانکہ دوربماند ازوصال تو
خوشحال ٓانکہ یافت بوصل تو اتصال

بی صبریست پیشہ عشاق کوے تو
جانها نثار تو که صبوری و می محال

یارب چه مظهری که بخوبی یگانه
درُکل کائنات بنا شد ترا مثال

تعریف ذات تو نبود حد قطب دین
یک شمه از صفات تو گوید باہل حال
Verse 1
Persian Verse
ای در صفات و حدت تو عقل و فهم الل
ہرچیز گویمت کہ تو ٓانی بود محال
Urdu Translation
اے وہ ذات جس کی صفات اور وحدانیت کے آگے عقل اور فہم بے بس ہیں، جو بھی ہم کہیں، یہ کہنا محال ہے کہ تو وہ ہے۔
Difficult Words
حدت
صفات کی شدت، یعنی ذات کی عظمت اور بلندی
الل
خاموش، گونگا
محال
ناممکن، نامکمل
Spiritual Meaning
خواجہ صاحب فرماتے ہیں کہ خدا کی صفات اتنی عظیم ہیں کہ انسانی عقل اور سمجھ اس کے بیان سے قاصر ہیں۔ خدا کی حقیقی ذات کو سمجھنا انسان کے لیے ناممکن ہے۔
Verse 2
Persian Verse
حال تونیست بردل ما ٓاشکار لیک
ہستی بذات خویش تو دانای کل حال
Urdu Translation
تیری حقیقت ہمارے دلوں پر ظاہر نہیں ہے، لیکن تو اپنی ذات میں ہر حال کا جاننے والا ہے۔
Difficult Words
ذات خویش
اپنی ذات
دانای کل
ہر حال کا جاننے والا، علمِ کل رکھنے والا
Spiritual Meaning
خواجہ صاحب اس فارسی شعر میں فرماتے ہیں کہ خدا ہمارے دل کی کیفیت کو خوب جانتا ہے، مگر خدا کی ذات کا حال (کیفیت) ہمیں معلوم نہیں۔ خدا ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔
Verse 3
Persian Verse
ہر چیز غیر ذات تو باشد فنا شود
کس را درین سخن نرسد حد قیل وقال
Urdu Translation
تیری ذات کے سوا ہر چیز فنا ہو جائے گی، اس حقیقت پر کوئی مباحثہ نہیں ہو سکتا۔
Difficult Words
غیر ذات
خدا کے علاوہ کوئی چیز
فنا
ختم ہو جانا
قیل و قال
بحث و مباحثہ، بات چیت
Spiritual Meaning
ہر چیز جو خدا کی ذات کے علاوہ ہے، فنا ہو جانے والی ہے۔ اس بات پر کسی کو بحث و مباحثہ کی ضرورت نہیں کہ سب کچھ خدا کے آگے ختم ہونے والا ہے۔
Verse 4
Persian Verse
بدبخت ٓانکہ دوربماند ازوصال تو
خوشحال ٓانکہ یافت بوصل تو اتصال
Urdu Translation
بدقسمت ہے وہ جو تیرے وصال سے محروم رہ گیا، اور خوش نصیب ہے وہ جو تیرے وصال کو پا لیتا ہے۔
Difficult Words
بدبخت
بدقسمت
وصال
ملاپ
اتصال
تعلق، جوڑ
Spiritual Meaning
خواجہ صاحب فرماتے ہیں کہ بدقسمت ہے وہ جو خدا کے وصل (ملاپ) سے محروم رہا، اور خوش قسمت ہے وہ جس کو خدا کا قرب نصیب ہوا۔
Verse 5
Persian Verse
بی صبریست پیشہ عشاق کوے تو
جانها نثار تو که صبوری و می محال
Urdu Translation
تیرے کوچے کے عاشق بے صبر ہوتے ہیں، جانیں تیرے لیے نثار ہوتی ہیں کیونکہ صبر ان کے لیے ممکن نہیں۔
Difficult Words
پیشہ
عادت، شغل
نثار
قربان
محال
ناممکن
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ خدا کے عاشقوں کی عادت بے صبری ہے، وہ اپنی جانیں خدا کے لیے نچھاور کرتے ہیں کیونکہ صبر کرنا ان کے لیے مشکل ہے۔
Verse 6
Persian Verse
یارب چه مظهری که بخوبی یگانه
درُکل کائنات بنا شد تر امثال
Urdu Translation
اے رب، تیرا ایسا مظہر ہے کہ تیری خوبیوں میں کوئی اور یکتا نہیں، پوری کائنات میں تیری کوئی مثال نہیں۔
Difficult Words
مظهر
تجلی، جلوہ
یگانه
بے مثال، منفرد
کائنات
کائنات
تر امثال
اعلیٰ مثال
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب خدا کی تعریف میں فرماتے ہیں کہ اے خدا! تیرا جلوہ اور خوبصورتی ایسی بے مثال ہے کہ پوری کائنات میں اس کی اعلیٰ مثال قائم کی گئی ہے۔
Verse 7
Persian Verse
تعریف ذات تو نبود حد قطب دین
یک شمه از صفات تو گوید به اهل حال
Urdu Translation
قطب الدین کہتا ہے کہ تیری ذات کی تعریف کی کوئی حد نہیں، تیرے صفات کا صرف ایک اشارہ اہلِ حال کو بتایا جا سکتا ہے۔
Difficult Words
شمه
تھوڑی سی جھلک
اہل حال
باطن کو جاننے والے لوگ
Spiritual Meaning
اس فارسی شعر میں خواجہ صاحب حقیقت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ خدا کی ذات کی مکمل تعریف ممکن نہیں، حقیقی عاشق اور اہلِ حال بھی صرف اس کی صفات کا تھوڑا سا ذکر ہی کر سکتے ہیں۔
اس کلام میں خواجہ صاحب نے اللہ کی وحدانیت، اس کی صفات کی بے حد وسعت، اور اس کے قرب کی اہمیت کو بیان کیا ہے۔ عاشقوں کے لیے اللہ کی محبت میں صبر ممکن نہیں، اور ہر چیز اللہ کی ذات کے سوا فنا ہو جاتی ہے۔
Quranic Reference 1
اور آپ کے رب ہی کی ذات باقی رہے گی جو صاحبِ عظمت و جلال اور صاحبِ انعام و اکرام ہے۔
سورۃ الرحمن، آیت 27