Kalam 346
THE DEWAN
Kalam 346
کلام 346
ORIGINAL KALAM
بخون خویش درین راہ کردہ ام تعجیل
جفا و غصہ کشیدہ بسے بفقر جمیل
اسیر زلف و خط و خال یار خود شدہ ام
چنانکه با دنیا بدم راز قال و قیل
تنم ضعیف و دلم زار وجان نزار شدہ
بیا ببین کہ تو باور نمیکنی به دلیل
زٓاب و دیدٔہ من شد گناہ من پر ٓاب
چانکہ مید ہدم یاد ازکنارٔہ نیل
زهجر یار دودستم بخون دل شستم
ہمین بود من درویش را کثیر و قلیل
بیاد ٓان دوسر زلف ہر دو دیدٔہ ما
شدند بخواب کہ بندند بندرا چون نیل
بیا ببین که زروی نیاز قطب الدین
برٓاستانہ اوکردہ خون خویش سبیل
جفا و غصہ کشیدہ بسے بفقر جمیل
اسیر زلف و خط و خال یار خود شدہ ام
چنانکه با دنیا بدم راز قال و قیل
تنم ضعیف و دلم زار وجان نزار شدہ
بیا ببین کہ تو باور نمیکنی به دلیل
زٓاب و دیدٔہ من شد گناہ من پر ٓاب
چانکہ مید ہدم یاد ازکنارٔہ نیل
زهجر یار دودستم بخون دل شستم
ہمین بود من درویش را کثیر و قلیل
بیاد ٓان دوسر زلف ہر دو دیدٔہ ما
شدند بخواب کہ بندند بندرا چون نیل
بیا ببین که زروی نیاز قطب الدین
برٓاستانہ اوکردہ خون خویش سبیل
VERSES & EXPLANATIONS
Verse 1
Persian Verse
بخون خویش درین راہ کردہ ام تعجیل
جفا و غصہ کشیدہ بسے بفقر جمیل
جفا و غصہ کشیدہ بسے بفقر جمیل
Urdu Translation
میں نے اس راہ میں اپنی جلد بازی کو ترک کر دیا ہے، اور بہت زیادہ جفا اور غم برداشت کیے ہیں، لیکن خوبصورت فقر کے ساتھ۔
Difficult Words
- تعجیل
- جلد بازی، عجلت
- جفا
- سختی، ظلم
- فقر جمیل
- خوبصورت فقر، اللہ کی محبت میں قناعت
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ عشق کی راہ میں جلدبازی سے بچنا چاہیے اور فقر کو صبر کے ساتھ قبول کرنا چاہیے۔ اللہ کی محبت میں فقر بھی ایک حسن ہے، جو عاشق کو اللہ کے قریب کرتا ہے۔
Verse 2
Persian Verse
اسیر زلف و خط و خال یار خود شدہ ام
چنانکه یا دنیا بدم از قال و قیل
چنانکه یا دنیا بدم از قال و قیل
Urdu Translation
میں اپنے محبوب کی زلفوں اور حسن کا قیدی بن چکا ہوں، اور دنیا کی باتوں اور جھگڑوں سے بے نیاز ہو چکا ہوں۔
Difficult Words
- اسیر
- قیدی، گرفتار
- قال و قیل
- باتیں اور جھگڑے، بے معنی گفتگو
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ دنیا کے جھگڑوں سے نکل کر اللہ کی محبت میں قیدی بن جانا ہی حقیقی نجات ہے۔ دنیاوی معاملات سے دور ہو کر عاشق اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔
Verse 3
Persian Verse
تنم ضعیف و دلم زار و جان نزار شدہ
بیا ببین که تو باور نمیکنی به دلیل
بیا ببین که تو باور نمیکنی به دلیل
Urdu Translation
میرا جسم کمزور، دل غمگین اور جان ناتواں ہو چکی ہے، دیکھو کہ تم دلیل کے بغیر یقین نہیں کرتے۔
Difficult Words
- نزار
- ناتواں، کمزور
- دلیل
- ثبوت
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے فرمایا کہ عشقِ الٰہی کی شدت انسان کو جسمانی طور پر کمزور کر دیتی ہے، اور یہ حالت وہی سمجھ سکتا ہے جو اس راستے پر چل چکا ہو۔
Verse 4
Persian Verse
زٓاب و دیدٔہ من شد گناہ من پر ٓاب
چانکہ مید ہدم یاد از کنارٔہ نیل
چانکہ مید ہدم یاد از کنارٔہ نیل
Urdu Translation
میرے آنسوؤں نے میرے گناہوں کو دھو ڈالا ہے، جیسے دریائے نیل کے کنارے یاد تازہ ہوتی ہے۔
Difficult Words
- دیدہ
- آنکھیں، بصارت
- کنارٔہ نیل
- دریائے نیل کا کنارہ، جس کا استعارہ یہاں آنسوؤں سے لیا گیا ہے
Spiritual Meaning
یہ فارسی شعر گناہوں کی معافی اور اللہ کی محبت میں ندامت کے آنسوؤں کو بیان کرتا ہے۔ اللہ کی طرف رجوع کرنے والا عاشق اپنے آنسوؤں سے اپنے گناہوں کو دھو ڈالتا ہے۔
Verse 5
Persian Verse
زهجر یار دودستم بخون دل شستم
ہمین بود من درویش را کثیر و قلیل
ہمین بود من درویش را کثیر و قلیل
Urdu Translation
محبوب کے فراق نے میرے دونوں ہاتھوں کو دل کے خون سے دھو دیا۔ یہی میرا کثیر و قلیل تھا، فقیر کی قسمت۔
Difficult Words
- هجر
- جدائی، فراق
- کثیر و قلیل
- بہت اور کم، معمولی اور عظیم دونوں چیزیں
Spiritual Meaning
خواجہ صاحب یہاں فراق اور عشق کے درمیان توازن بیان کرتے ہیں۔ عاشق کا دل اللہ کی محبت میں سکون پاتا ہے، اور وہ دنیاوی فراق سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔
Verse 6
Persian Verse
بیاد ٓان دوسر زلف ہر دو دیدٔہ ما
شدند بخواب کہ بندند بندرا چون نیل
شدند بخواب کہ بندند بندرا چون نیل
Urdu Translation
ہماری آنکھیں ان دو زلفوں کی یاد میں سو گئیں، جیسے نیل کے کنارے بند باندھ دیا جاتا ہے۔
Difficult Words
- دوسر زلف
- محبوب کی زلفیں، عشق کا استعارہ
- نیل
- دریائے نیل، جو آنکھوں کے آنسوؤں کا استعارہ ہے
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب محبوب کی زلفوں کی یاد اور آنسوؤں کے بہاؤ کو بیان کر رہے ہیں۔ یہ آنسو عشق کی گواہی دیتے ہیں۔
Verse 7
Persian Verse
بیا بہ بین که زروی نیاز قطب الدین
برٓاستانہ او کروہ خون خویش سبیل
برٓاستانہ او کروہ خون خویش سبیل
Urdu Translation
آؤ دیکھو کہ قطب الدین نے عاجزی کے ساتھ اپنا خون محبوب کے آستانے پر بہا دیا ہے۔
Difficult Words
- سبیل
- راستہ، قربانی کا نشان
- نیاز
- عاجزی، خلوص
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے عشق میں مکمل فناء کی بات کی ہے۔ سچا عاشق اپنے محبوب کے لیے اپنی جان تک قربان کر دیتا ہے، اور اس کی محبت میں فنا ہو جاتا ہے۔
CENTRAL THEME
اس کلام میں خواجہ صاحب نے فقر، محبوب کی محبت، اور دنیا سے بے نیازی کی اہمیت کو بیان کیا ہے۔ سچے عاشق کی زندگی میں جفا اور صبر کے ساتھ فقر ایک خوبصورت حقیقت بن جاتی ہے۔
HADITH REFERENCES
Hadith Reference 1
فقر جمیل (خوبصورت فقر) سے مراد اللہ کی محبت میں قناعت اور دنیاوی چیزوں سے بے نیازی ہے۔ اس مفہوم میں ایک حدیث ہمیں رہنمائی فراہم کرتی ہے، جس میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"حقیقی دولت دل کی قناعت ہے"
یہ حدیث انسان کو اس بات کی ترغیب دیتی ہے کہ دنیاوی مال و دولت کے بجائے دل کی قناعت کو ترجیح دے، کیونکہ اصل سکون اور دولت اللہ کی رضا میں ہے۔ فقر جمیل اسی قناعت کا مظہر ہے، جو انسان کو دنیاوی چیزوں سے بے نیاز کر دیتا ہے اور اللہ کی محبت میں مستغنی بنا دیتا ہے۔
"حقیقی دولت دل کی قناعت ہے"
یہ حدیث انسان کو اس بات کی ترغیب دیتی ہے کہ دنیاوی مال و دولت کے بجائے دل کی قناعت کو ترجیح دے، کیونکہ اصل سکون اور دولت اللہ کی رضا میں ہے۔ فقر جمیل اسی قناعت کا مظہر ہے، جو انسان کو دنیاوی چیزوں سے بے نیاز کر دیتا ہے اور اللہ کی محبت میں مستغنی بنا دیتا ہے۔
المعجم الكبير للطبراني، 2/154
