Kalam 347

THE DEWAN

Kalam 347

کلام 347
32 of 182 · Table of Contents
هرکه را چاشنی عشق تو باشد حاصل
باشدش بر سر کوی تو همیشه منزل

میشو زندٔہ جاوید یقین میدانم
هر که را مرغ دل از تیغ تو گردو بسمل

ہرکہ دوراز گل رخسار تو باشد بیشک
ہیچس از زندگی خویش نباشد حاصل

عاقل ٓان نیست کہ اورا خرد وعقل بود
ہر کہ مجنون شدہ از عشق تو باشد عاقل

ٓاتش جذبٔہ عشق تو چنان مینحواہم
کہ زہستی سرموئی نہ گذارم حائل

عشق ورزیدن و می خوردن و مستی کردن
پیشٔہ خود نکند ہیچ کسی جز مقبل

قطب دین گر تو به دیدار خدا می نازی
رشتۀ مهر دل خویش ز غیرش بگسل
Verse 1
Persian Verse
هر که را چاشنی عشق تو باشد حاصل
باشدش بر سر کوی تو همیشه منزل
Urdu Translation
جس نے تیرے عشق کا ذائقہ حاصل کر لیا،
اس کی منزل ہمیشہ تیرے کوچے پر ہوتی ہے۔
Difficult Words
چاشنی عشق
عشق کا ذائقہ، مراد محبت کی گہرائی
بر سر کوی تو
تیرے کوچے پر، مراد محبوب کی قربت
منزل
ٹھکانہ، منزل مقصود
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے عشق کو عاشق کی دائمی منزل قرار دیا ہے۔ جو خدا کی محبت کو پا لیتا ہے، اس کی زندگی کا مرکز و محور خدا کی قربت بن جاتی ہے۔
Verse 2
Persian Verse
میشو زندۀ جاوید یقین میدانم
هر که را مرغ دل از تیغ تو گردو بسمل
Urdu Translation
میں یقین سے جانتا ہوں کہ وہ ہمیشہ کے لیے زندہ ہو جاتا ہے،
جس کے دل کا پرندہ تیری تلوار سے ذبح ہو جائے۔
Difficult Words
زندٔه جاوید
ہمیشہ کی زندگی، مراد روحانی حیات
مرغ دل
دل کا پرندہ، مراد دل یا روح
بسمل
ذبح ہونا، مراد محبت میں فنا ہونا
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے خدا کی محبت میں فنا ہونے کو حقیقی حیات قرار دیا ہے۔ جو شخص اپنی خودی کو خدا کی محبت کے لیے قربان کرتا ہے، وہ دائمی زندگی پا لیتا ہے۔
Verse 3
Persian Verse
هر که دور از گل رخسار تو باشد بیشک
هیچس از زندگی خویش نباشد حاصل
Urdu Translation
جو تیرے گل رخ چہرے سے دور ہو، یقیناً
اس کی زندگی سے کوئی حاصل نہیں ہوتا۔
Difficult Words
گل رخسار
پھول جیسے چہرے والا، مراد محبوب
هیچس از زندگی حاصل
زندگی بے معنی اور بے مقصد
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے خدا کی قربت کو زندگی کا اصل مقصد قرار دیا ہے۔ خدا سے دوری انسان کی زندگی کو بے مقصد بنا دیتی ہے۔
Verse 4
Persian Verse
عاقل آن نیست که او را خرد و عقل بود
هر که مجنون شده از عشق تو باشد عاقل
Urdu Translation
عقل مند وہ نہیں جس کے پاس خرد اور عقل ہو،
بلکہ وہ ہے جو تیرے عشق میں دیوانہ ہو گیا ہو۔
Difficult Words
عاقل
عقل مند، دانشور
خرد و عقل
سمجھ اور عقل
مجنون
دیوانہ، مراد عشق میں بے خود
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے عقل اور عشق کا فرق بیان کیا ہے۔ حقیقی عقل مند وہی ہے جو عشقِ حقیقی کی دیوانگی کو سمجھتا اور اپناتا ہے۔
Verse 5
Persian Verse
آتش جذبۀ عشق تو چنان میخواهم
که ز هستی سر مویی نه گذارم حائل
Urdu Translation
میں تیرے عشق کی آگ ایسی چاہتا ہوں،
کہ میری ہستی سے ایک بال برابر بھی فاصلہ نہ رہے۔
Difficult Words
آتش جذبۀ عشق
عشق کے جذبے کی آگ
سر مویی حائل
ایک بال کے برابر فاصلہ
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے خدا کی محبت کو اپنی زندگی کا محور قرار دیا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ یہ محبت ان کی ہستی کا لازمی حصہ بن جائے، جس میں کوئی فاصلہ باقی نہ رہے۔
Verse 6
Persian Verse
عشق ورزیدن و میخوردن و مستی کردن
پیش ٔه خود نکند هیچ کسی جز مقبل
Urdu Translation
عشق کرنا، شراب محبت پینا، اور مستی کرنا،
یہ کام کوئی نہیں کرتا سوائے خوش نصیب کے۔
Difficult Words
عشق ورزیدن
محبت کرنا
می خوردن
شراب پینا، مراد محبت کی شراب
مقبل
خوش نصیب، مراد خدا کے محبوب بندے
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے خدا کی محبت اور اس کی لذت کو خوش نصیبوں کے لیے مخصوص قرار دیا ہے۔ یہ عشق ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوتا۔
Verse 7
Persian Verse
قطب دین گر تو به دیدار خدا مینازی
رشتۀ مهر دل خویش ز غیرش بگسل
Urdu Translation
اے قطب الدین! اگر تو خدا کے دیدار پر نازاں ہے،
تو اپنے دل کے رشتے کو غیر سے توڑ دے۔
Difficult Words
دیدار خدا
خدا کا قرب یا معرفت
رشتۀ مهر دل
دل کی محبت کا رشتہ
بگسل
توڑ دینا، ختم کرنا
Spiritual Meaning
یہاں خواجہ صاحب نے خدا کی محبت کو حاصل کرنے کی شرط بیان کی ہے۔ دل کو غیر سے آزاد کر کے مکمل طور پر خدا کی طرف مائل ہونا ضروری ہے۔
عشقِ حقیقی، خدا کی قربت، اور دل کو دنیاوی تعلقات سے آزاد کرنے کی تعلیم دیتے ہیں۔ یہ اشعار خواجہ صاحب نے بتایا کہ خدا کی محبت میں فنا ہو جانا ہی حقیقی زندگی ہے۔ صرف وہی خوش نصیب خدا کی محبت کی لذت حاصل کرتے ہیں جو غیر کے تعلقات سے آزاد ہو کر اپنی روح کو خدا کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔

اس کلام میں خواجہ صاحب نے اللہ کے عشق کی مٹھاس، زندگی میں اس کی طلب اور دنیاوی چیزوں سے دل کو خالی کرنے کی اہمیت کو بیان کیا ہے۔ اللہ کے عشق میں فنا ہونا اور ہر غیر اللہ سے تعلق کو توڑ دینا سچے عاشق کا طریقہ ہے۔

خواجہ صاحب کا یہ کلام اس بات کی تفسیر کرتا ہے کہ اللہ کا حقیقی قرب پانے کے لیے انسان کو اپنی انا اور خواہشات کو ختم کرنا ہوتا ہے، تاکہ اللہ کی محبت میں مکمل طور پر فنا ہو سکے۔
Quranic Reference 1
اور لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا شریک بناتے ہیں، ان سے ایسی محبت کرتے ہیں جیسی اللہ سے کرنی چاہیے، اور جو ایمان والے ہیں، وہ اللہ سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔

یہ آیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مومن کی سب سے بڑی محبت اللہ کے ساتھ ہوتی ہے، اور یہی حقیقی عقل مندی ہے۔
سورۃ البقرہ، آیت 165
Hadith Reference 1
تین چیزیں جس میں ہوں، وہ ایمان کی مٹھاس پاتا ہے: اللہ اور اس کا رسول ﷺ اس کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہوں...

یہ حدیث اس بات کو بیان کرتی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت ایمان کی مٹھاس کا سبب ہے، اور یہی حقیقی عقل مندی ہے۔
صحیح بخاری، حدیث نمبر 16